مد وجزر کے بعد ٹھہرائو ؟

مد وجزر کے بعد ٹھہرائو ؟

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ عمران خان کو کہا تھا کہ اپنی داڑھی دوسروں کے ہاتھوں میں نہ دیں ۔ سابق وزیر اعظم کا خیال ہے کہ گریڈ بیس کے افسر سے وزیر اعظم کی تفتیش ملکی پارلیمنٹ کی بالادستی پر سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایک عام اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات جو بھی ہیں حکومت کو کام کرنے دیا جائے ۔قبل ازوقت انتخابات سے جمہوریت کمزور ہوگی ۔ دوسری جانب عمران خان کے لب و لہجہ میں بھی ٹھہر ائو محسوس کیا جانے لگا ہے کچھ ہی دن قبل تک تو سیاسی فضامیں اس قدرار تعاش تھا کہ بھلے پیالی میں طوفان کے طور پر ہی سہی حکومت کو خطرات واضح تھے اور دلچسپ امر یہ تھا کہ خود حکومتی حلقے بھی سیاسی شہادت کیلئے گرد نیں آگے کر کے ہنسی خوشی اقتدار تیاگ دینے پر آمادہ دکھائی دے رہے تھے۔ معاملات پر اچانک گرمی کی بجائے شبنم کی پھوار پڑنے کی نوبت کیوں آئی ؟ ملکی سیاست میںاس طرح عموماً نہیں ہوتا پیپلز پارٹی میثاق جمہوریت کے بعد حکومت گرانے کے کھیل سے تائب ہوئی اور بدستور تو بے کی کیفیت میں ہے جمعیت علمائے اسلام (ف) حکومتی اتحادی جماعت ہے جس کے قائد پاکستان میں اقتدار کی سیاست کے موجد گردانے جائیں تو غلط نہ ہوگا گو کہ جماعت اسلامی بھی گرما گرم حزب اختلاف کا تاثر ضرور دے رہی ہے لیکن جماعت اسلامی ملاکنڈ ڈویژن تک سمٹ آنے کے بعد جتنا عرصہ اور جس کے ساتھ اقتدار مل جائے والی کیفیت کا کم وبیش شکار ہے ۔ سیاسی طوفان کا اچانک تھم جانا طوفان کے شدت اختیار کر جانے کا درمیانی وقفہ ہے یا پھر واقعی اب سمندر میں مدوجز ر کی کیفیت ختم ہو رہی ہے سیاسی دنیا میں وثوق سے کوئی رائے نہیں دی جا سکتی لیکن قرائن سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ یا تو حکومتی مخالفین اپنی حکمت عملیوں میں ناکامی کے بعد تھک ہار کربیٹھ گئے یا پھر بڑے محتاط ہوتے جارہے ہو زمانے نے سمجھا دیا کیا والی بات ہے ۔ سیاسی مدوجز ر کا درون خانہ زیل و بم کیا ہے ظاہری وجہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ کے احاطے میں سیاسی میڈیا دنگل لگانے پر اظہار ناراضگی اور عمران خان کی جانب سے معزز عدالت کا حوالہ دے کر وزیر اعظم کو جھوٹا قرار دینے کے بالحکمت نوٹس لینے کے بعد کا ہے بہر حال عدالت اپنے احا طے اور حدود کی حد تک ہی قانون اور ضابطہ لاگو کرتی ہے اوراس کی کسی ہدایت کے کوئی سیاسی پہلو اور معنی نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود بہر حال یہ تاثر غلط نہیںکہ سیاستدانوں نے جس طرح تمام معاملات عدالتی احاطے میں پیش اور حل کرنے کی ریت ڈالی تھی اب وہ کیفیت تبدیل ہو رہی ہے ۔ سیاسی دائو پیچ اپنی جگہ اس عمل میں خیر کا پہلو یہ نکلتا ہے کہ اب اس بارے قومی سطح پر اجماع ہے کہ سیاست میں بد عنوانی نہیںہونی چاہیئے دوسرے لفظوں میں بد عنوانی کیلئے سیاست نہ کی جائے اور ہر جماعت اپنی قیادت سمیت داخلی تطہیر پر توجہ دے ۔ ہم سمجھتے ہیںکہ گزشتہ سال ڈیڑھ سال یا اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ کے دوران جو ہنگامے عوام نے دیکھے اگر اس کا خلاصہ بد عنوانی کو پوری طرح سامنے لانے میں کامیا بی نہ بھی نکلے تب بھی ملک میں سیاست برائے سیاست اور سیاست ہونا اور برائے مالی منفعت نہ ہونے بارے قومی سطح پر ایک شعور ضرور اجا گر ہو ا ایک ایسا آئینہ دکھایا گیا جس میں اپنے چہرے دیکھنا اب زیادہ مشکل نہیں عوام پہلے ہی اس بارے پر یقین حد تک شاکی اورنالاں تھے مگر جس طرح کھل کر بھڑاس نکلی ہے اس کے بعد نہ صرف عوام کا خود کو ہلکا محسوس کرنا فطری امر ہوگا بلکہ ان کو سیاہ و سفید کی پہچان بھی ہوچکی آئندہ انتخابا ت میں عوام بہک جائیں تو اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہیئے کہ یہی ہمارے قومی کردار اور سیاست کی وہ خاصی اور کمزورہی رہی ہے کہ جس دن اس پر قابو پالیا جائے وہ تبدیلی کا پہلا دن ہوگا ۔ جہاں تک سابق وزیراعظم کا عمران خان کو دیا گیا مشورہ اور اس مشورے سے احراز کا معاملہ ہے سیاسی اکھاڑے میں مد مقابل کی سننے کا رواج ہی نہیں مگر کبھی کبھار کے ضرررساں کام بھی نسخہ کارگر ثابت ہوتے ہیں بہر حال مشورہ دینے والوں کا مشورہ قانونی دنیا میں درست اور سیاسی دنیا میں کچھ کار گر نہ تھا اب جبکہ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں تو یہ دھول بھی بیٹھ جائیگی قائد جمیعت کا جمہوریت کو چلنے دینے کے مشورے سے اتفاق کرتے ہوئے اگر اس مشورے میں حکمرانوں کو بھی سٹیرنگ پر احتیاط سے بیٹھنے کے مشورے کا اضافہ کیا جائے تو بہتر ہوتا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت کی تشکیل کردہ تحقیقاتی ٹیم جس میں خواہ جس گریڈ کے بھی افسر ہوں ان کے سامنے پیش ہونا اور ان کے سوالات کے جوابات دینے میں کوئی مضا ئقہ نہیں۔ اولاً ابھی اس کی نوبت نہیں آئی اور نہ ہی عدالت نے وزیراعظم کو ایسی کوئی ہدایت کی ہے ۔ دوم یہ کہ اگر اس طرح کی کوئی نوبت آتی بھی ہے تو یہ قانون کا احترام ہوگا جس کے احترام میں ہی بھلائی ہے ۔ اس سے نہ تو جمہوریت کمزور ہوگی اور نہ ہی پالیمنٹ کی بالا دستی پر کوئی حرف آئے گا بلکہ قانون کی حکمرانی کا تاثر راسخ ہوگا جو مطلوب بھی ہو نا چاہیئے اور محبوب بھی ۔

متعلقہ خبریں