خواتین ارکان اسمبلی کا نا مناسب رویہ

خواتین ارکان اسمبلی کا نا مناسب رویہ

خیبر پختونخوا اسمبلی میں صوبائی وزیر کی جانب سے خواتین سے غیر شائستہ لہجے میں گفتگو پر ویمن کاکس میں اختلافات اور حزب اختلاف کی خواتین کی جانب سے استعفوں کاعندیہ اور ایک ایسے معاملے پر دو خواتین اراکین کے درمیان تو تکار جس کا لفظوں میں بیان بھی مناسب نہیں نہ صرف خیبر پختونخوا اسمبلی کی روایات بلکہ پشتون روایات کا بھی خون ہے۔ اسمبلی میں کسی مسئلے پر اختلاف ہونا اور غلطی ہونے کے بعد اس کے سدھارنے اور معاملے کو طول دینے کی بجائے اسے طے کرنے پر توجہ کی ضرورت تھی مگر ایسا لگتا ہے کہ نہ صرف ایسا نہیں ہوا بلکہ رد عمل میں ایک دوسرے کے ''پول'' کھولنے کی بھی نوبت آگئی ہے جس کی اسمبلی ممبران سے توقع نہ تھی مگر جو کچھ میڈیا میں رپورٹ ہوا ہے یہ اس امر کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے کہ قوم کے غمخواروں کو غم دوراں سے فرصت نہیں کسی کی نجی زندگی میں جھانکنا نہ تو سیاست ہے اور نہ ہی اخلاقیات اور نہ ہی کے پی اسمبلی اس قسم کی روایات رکھتی ہے۔ دینی لحاظ سے تو کسی کے بارے میں بد گمانی ہی کی گنجائش نہیں کجا کہ کچا چٹھا کھول دیا جائے۔ اس ساری صورتحال کے خیبرپختونخوا کی ان معاملات سے یکسر لا تعلق خواتین اراکین پر بھی اثرات فطری امر ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ خواتین اراکین اسمبلی کو چغل خوری' غیبت اور الزام تراشی کا مرکز بنانے کی بجائے اپنے اپنے حلقوں کے عوامی مسائل اورخواتین سے متعلق مسائل کے حل پر توجہ دیں اور اس ضمن میں قانون سازی کی ضرورت پوری کریں۔ اسمبلی کے اکھاڑا بننے سے جملہ خواتین اراکین اسمبلی خواتین کی نمائندگی اور خواتین اراکین ایک عضو معطل اور مسائل کا باعث بننے کا تاثر ابھر ے گا۔ آئندہ اس قسم کے حالات سے بچنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو آئندہ خواتین ممبران اسمبلی کی نامزدگی کے وقت احتیاط کا مظاہرہ کریں جبکہ اسمبلی کے کسٹوڈین کو اس طرح کے معاملات کو اسمبلی کی راہداریوں سے باہر نہ نکلنے کو یقینی بنانے کی سعی کرنی چاہئے۔ جو خواتین اراکین اسمبلی ہیں ان کو اپنے وقار اور اسمبلی کی روایات و اقدار کا خیال خاص طور پر ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر خیبر پختونخوا جیسے قدامت پسند معاشرے کی خواتین اراکین اپنے آپ کو تماشا بنانے کا موقع اپنے ہاتھوں فراہم کریں تو پارلیمانی روایات کا ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ جن سیاسی جماعتوں کی خواتین اراکین محولہ واقعے کی کردار ہیں ان سیاسی جماعتوں کو جماعتی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا نوٹس لینا چاہئے اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہئے تاکہ مجروح پارلیمانی روایات کی کچھ لاج رہ جائے۔ِ
مالی بحران کا شکار کمپنی سے کارکردگی کی توقع عبث
صوبائی دارالحکومت پشاور میں صفائی اور نکاسی آب اور آبنوشی کے انتظامات کی نمایاں بہتری کے وعدے اور امید پر قائم کی جانے والی کمپنی ڈبلیو ایس ایس پی کو اپنی خالق حکومت ہی کے دور میں ایک ارب روپے سالانہ بجٹ کی فراہمی کی بجائے قریب الاختتام مالی سال کے دوران صرف بیس کروڑ روپے کی فراہمی حیران کن امر ہے۔ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام کے ابتدائی سال ہی کمپنی کو بجٹ کی رقم ملی جبکہ بعد ازاں حکومت نے ہاتھ کھینچ لیا۔ ایک ارب میں سے بیس کروڑ کا اجراء اونٹ کے منہ میں زیرے کے ہی مصداق گردانا جائے گا جس سے کمپنی ملازمین کو تنخواہ اور گاڑیوں کے لئے ایندھن کی فراہمی ہی بمشکل پوری ہوئی ہوگی یا نہیں اس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کمپنی میں بھاری تنخواہوں پر قسما قسم سٹاف کی بھرتی عمل میں لائی گئی ہے جس کا کمپنی کے مالی وسائل پر بوجھ پڑنا فطری امر ہے۔ بہر حال قطع نظر اس کے اگر صوبائی حکومت اپنی ہی قائم کردہ کمپنی کو ناکام نہیں کرنا چاہتی تو فوری طور پر فنڈز ریلیز کرکے کمپنی کے اخراجات پوری کرنے کے بعد ان سے کارکردگی کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کمپنی کے موجودہ مالی سال کے بقایاجات کی ادائیگی اگلے مالی سال تک موخر کرے تو کمپنی مسلسل مالی خسارے کا شکار رہے گی اور کمپنی کی کارکردگی کسی صورت بہتر نہیں ہو پائے گی اور نہ ہی اس کی توقع کی جاسکتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اپنے مالی خسارے کا بوجھ پانی' صفائی اور نکاسی آب کے بلوں میں بے تحاشہ اضافہ کرکے کرنے کی سعی عوام کو مشکلات میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں کیونکہ اس طرح سے اتنا بڑا بجٹ پورا کرنا ممکن نہیں۔ صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ کمپنی کو بقایاجات کی ادائیگی کرے اور شہریوں پر کمپنی کی طرف سے ڈالے گئے بوجھ کو واپس لینے کی ہدایت کرے۔توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت ڈبلیو ایس ایس پی کو بے یار و مدد گار نہیں چھوڑے گی اور کمپنی کے مالی بحران کے خاتمے کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرے گی تاکہ کمپنی عضو معطل کی بجائے عوام کی خدمت انجام دینے کے قابل ہوسکے۔

متعلقہ خبریں