کچھ اہل صحافت کی خدمت میں

کچھ اہل صحافت کی خدمت میں

لاریب صحافی انسان بھی ہیں اور اسی معاشرے کا حصہ بھی۔ موسم اور حالات ان پر بھی دوسرے جانداروں کی طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ اپنی اپنی فہم کے مطابق کچھ دوست سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں سے قربت بھرا تعلق بھی رکھتے ہیں۔ جنگل بیابان میں تو نہیں رہتے نا۔ پر جس چیز کو اہل صحافت میں سے کچھ دوست نظر انداز کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہمدردی اور مینجری میں فرق ہے۔ کسی ایک کی ہمدردی میں دوسرے پر تنقیددرست اگر اعتدال بھری ہو تو بد قسمتی سے جن چند صحافی دوستوں نے پسندیدہ قائدین کی میڈیا مینجری سنبھال لی ہے وہ اس کی بدولت پائے فیض کا حق ادا کرنے کے لئے ساری حدیں کراس کر جانے کو صحافت کا سنہری اصول قرار دیتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ بات یکسر غلط ہے۔ صحافت کے کوچہ میں آنے سے اب تک کے ساڑھے چار عشروں کے دوران ہم عصروں اور دوستوں کی خدمت میں یہی عرض کرتا چلا آیا ہوں کہ پسند و نا پسند فطری بات ہے۔ غیر فطری بات یہ ہے کہ آپ قلم چھوڑ کر لاٹھی یا بندوق اٹھالیں اور پسندیدہ شخص یا جماعت کے مخالف پر چڑھ دوڑیں۔ ہم صحافی مفتی ہیں نا جج۔ سیاستدان ہیں نا سرمایہ کار' سو جو ہمارے کرنے کے کام ہیں وہی بھلے اندازمیں ہو پائیں تو صحافت کی آبرو قائم رکھنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا جاسکتا ہے۔ بد قسمتی سے کچھ دوست آج کی ضرورتوں سے باہر نکل کر دیکھتے سوچتے نہیں اور اپنی پسندیدہ جماعت یا شخصیت کے مخالف کے لئے وہی زبان بولتے لکھتے ہیں جو درباریوں کاکھابا ہے۔ مکرر عرض ہے ہم خبر و تجزیہ میں اعتدال سے محروم ہوں گے تو ہماری ساکھ متاثر ہوگی۔ ساکھ ہی اصل چیز ہے۔ عمر بھر کی عزت وقتی محبتوں اور ضرورتوں پر کیوں تجی جائے؟ اس سوال سے آنکھیں چرانے کی ضرورت نہیں۔ مثال کے طور پر میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ پاتا ہوں۔ یہ نرم گوشہ عین انسانی فطرت کے مطابق ہے مگر یہ کہ میں ان دونوں جماعتوں کی مخالف جماعتوں اور شخصیات کو کافر غدار' جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دیتا پھروں یہ صحافتی اقدار اخلاقیات اور سماجی روایات کے منافی ہے۔

سرائیکی زبان کی ایک قدیم کہاوت ہے '' پڑھے ہوئوں کو کون پڑھائے'' مطلب یہ کہ جو لوگ خود کو عقل کل سمجھتے ہوں ان کے سامنے عقل کی بات روا نہیں ہوتی۔ کسی ہم عصر یا سینئر دوست کا نام لے کر معروضات پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عرض فقط یہ کرنا ہے کہ کافر و زندیق اور غدار و سیکورٹی رسک بنانے کے دھندے میں حصہ ڈالنے کی بجائے صاف سیدھے لفظوں میں سیاسی خامیوں کی نشاندہی زیادہ بہتر ہے۔ جناب نواز شریف تیسری بار اس ملک کے وزیر اعظم ہیں ان کی سیاسی اٹھان ابتدائی سیاسی مکتب (جو مکتب ضیاء الحقی ہے) کی تربیت کے مطابق انہوں نے پچھلے 32 سال کی سیاسی زندگی میں جو کیا کہا اور بویا اس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ کچھ لوگ یقینا ایسے بھی ہوں گے جنہیں یہ اختلاف برا لگے گا ان کا خیال ہے کہ جناح صاحب مرحوم کے بعد میاں نواز شریف جیسا درد مند حکمران اور کوئی نہیں۔ ان کے مخالفین اور ہم ایسے ناقدین کو حق ہے کہ ان پر تنقید کریں اور گاہے یا د دلاتے رہیں کہ کردار کشی کی سیاست کے بانی جناب نواز شریف ہی ہیں۔ اس تلخ حقیقت کے باوجود ایک عامل صحافی اور قانون پسند شہری کی حیثیت سے میں انہیں یا کسی اور کو ملک کا غدار سمجھتا ہوں نہ سیکورٹی رسک قرار دینے والوں کے دھندے میں حصہ ڈالنے کی ضرورت۔ جناب عمران خان بھی ایک سیاستدان ہیں۔ ان کی سیاست' جارحانہ پیش قدمی اور اچانک پسپائیوں کے درجنوں فیصلے اور دوسری بہت ساری باتیں ہیں جن سے کھلا اختلاف ممکن ہے۔ لیکن انہیں غیر ملکی ایجنٹ' یہودی تہذیب کو پاکستان میں رواج دینے والا یا جمہوریت کے لئے زہر قاتل کہنا لکھنا تھڑدلے پن اور رزق میں اضافے کی بے لگام خواہش کے سوا کچھ نہیں۔ کج پیپلز پارٹی کے دوستوں میں بھی بہت ہیں لیکن نواز شریف کو مجسم انسانیت و ایمانداری ثابت کرنے کے جنون میں زرداری کو سلطانہ ڈاکو قرار دینا بھی غلط ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اہل صحافت رائے ساز ہیں دوسروں کے مقابلہ میں ان کی کہی لکھی بات پر لوگ زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ویسے ان دنوں تو معمول کی زندگی میں صحافیوں کے لئے بھی لوگ وہی زبان استعمال کرنے لگے ہیں جو اہل صحافت کے ایک بڑے حصے نے رواج دی ہے۔ ہمارے جو دوست خاندانی ضرورتوں یا نظریاتی بزنس کی وجہ سے جناب نواز شریف اور لیگی حکومت کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے ان کے مخالفین کے لئے عابد شیر علی سے بھی گھٹیا جملے بازی فرماتے ہیں ان میں سے ایک '' حضرت'' تو ایسے بھی جنہوں نے12 اکتوبر 1999ء کے بعد تواتر کے ساتھ خبریں دی تھیں کہ جب نواز شریف اور دیگر کو ایوان وزیر اعظم سے گرفتار کیاگیا تو کس کے کمرے سے کیابرآمد ہوا۔ برآمدگی کی ان تفصیلات کا ریکارڈ موجود ہے۔ آج کل وہی حضرت اپنے اور اہلیہ کے وقتی فوائد کو محفوظ بنانے کے لئے ہفتے میں تین دن عمران خان اور تحریک انصاف کو کرہ ا رض پر بوجھ قرار دیتے ہیں اور تین دن زرداری اور پیپلز پارٹی کو۔ اس طرح کے درباری پن سے وقتی فوائد تو حاصل کئے جاسکتے ہیں مگر صحافتی روایات کی کوئی خدمت نہیں کی جاسکتی نہ ہی صحافیوں کی نئی نسل کی شعوری تربیت میں کردار ادا کیا جاسکتاہے۔ اہل صحافت کی اصل ذمہ داری اعلیٰ سماجی روایات کا تحفظ اور رائے سازی ہے ایسی رائے سازی جس کی بدولت محکوم طبقات میں استحصالیوں کے خلاف جدوجہد کا حوصلہ پیدا ہو۔ حرف آخر یہ ہے کہ اگر کوئی دوست (صحافی ساتھی یہ سمجھتا ہے کہ میڈیا مینجری ہی حسن زندگی ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ صحافت کو خیر باد کہہ کر پسندیدہ سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرے اور صلاحیتوں کے ذریعے خود اپنی جماعت کے لئے ناگزیر بنے۔ ویسے یاد رہے کہ ناگزیر لوگوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔

متعلقہ خبریں