وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر جانے

وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر جانے

طوطا فال والے اپنی پیشگوئیاں کر رہے ہیں اور گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر نہ صرف میاں نواز شریف' آصف زرداری' بلاول زرداری اور عمران خان کے بارے میں آنے والے کل کی (ممکنہ) خبریں دے رہے ہیں۔ ممکنہ اس لئے کہ بہر حال وہ اپنی بات سے پہلے یہ ضرور کہتے ہیں کہ ستاروں کی چال اور ان کے محدود علم کے مطابق جو کچھ اخذ کرسکے ہیں اس کے مطابق شاید ایسا ہو جائے یعنی وہ کوئی قطعی فیصلہ نہیں سنا رہے ہیں جبکہ اس ضمن میں تازہ ترین خبر جو اتوار کے روز جب یہ کالم تحریر کیا جا رہا تھا بعض چینلز پر سابق صدر آصف زرداری کے پیر کے بارے میں یہ سامنے آئی کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے برعکس تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ صرف تین بار پیر اعجاز قادری کے دربار پر حاضری دیں تو وہ انہیں وزیر اعظم بنوادیں گے۔ پیر صاحب موصوف نے مزید کہا کہ انہوں نے عمران خان کو مشورہ دے دیا ہے اب ان کی مرضی ہے کہ وہ (کپتان) پیر صاحب کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوتے ہیں یا نہیں۔ یعنی اگر وہ وزیر اعظم بننے کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں پیر اعجاز قادری سے صرف تین بار رابطہ کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے ہماری تازہ غزل کا ایک شعر انہی ستاروں اور سیاروں کی چال کے حوالے سے کچھ یوں ہے کہ

مشتری برج ہو تو بدھ شدھ ہے
چال الٹی پڑے تو منگل ہے
یہ جو ستاروں سیاروں کی چال پر نظر رکھتے ہیں ان کے نزدیک برج مشتری خوش بختی کی علامت اور بدھ کے دن کوئی بھی کام شروع کرنے کے حوالے سے اس کی تکمیل میں کامیابی کا عنصر ظاہر کرتے ہیں جبکہ منگل کو زحل سیارے کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے اس روز ہر چال الٹی پڑنے کا نظریہ پیش کرتے ہیں حالانکہ علامہ اقبال نے ستاروں کے حوالے سے علم کو یہ کہہ کر باطل قرار دے رکھا ہے کہ
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخئی افلاک میں ہے خوار و زبوں
ستارہ شناس ' نجومی' ٹیرو کارڈ اور دوسرے لوگ جو پیشگوئیاں کر رہے ہیں ان کے مطابق اگرچہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی جبکہ آنے والے دنوں میں نواز حکومت کے لئے کم از کم اس سال دسمبر تک غیر یقینی اور دشواری کے حامل رہیں گے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے لئے بھی مستقبل میں کوئی حوصلہ افزاء خبر نہیں ما سوائے اس کے کہ سندھ میں پارٹی اپنی حکومت برقرار رکھ سکے گی۔ البتہ عمران خان کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ بقول ان ماہرین علم نجوم' علم جفر وغیرہ کپتان اگلے وزیر اعظم ہوسکتے ہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی پارٹی اپنی حکومت دوبارہ قائم کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ یہ تو خیر طوطا فال والوں کی باتیں ہیں جن کو بقول شخصے خود اپنے مستقبل کی کوئی خبر نہیں کہ خود ان کے ستارے بقول علامہ اقبال افلاک میں خوار و زبوں ہیں۔ اس قسم کی پیشگوئیوں کا سلسلہ ملکی ماہرین تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ آج کل بابا وانگا اور صدیوں پہلے گزرے ہوئے ناسٹرے ڈیمس کی ان پیشگوئیوں کا بھی بہت تذکرہ ہے جن میں نائن الیون اور دیگر بہت سے واقعات کے بارے میں ان کی پیشگوئیاں نہ صرف فیس بک بلکہ مغربی اخبارات سے مستعار لے کر ملکی اخبارات و جرائد میں بھی ان پر تحریریں شائع کی جا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ تیسری عالمی جنگ کے حوالے سے بھی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ اب جو یہ پاکستانی ماہرین عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے حوالے سے پیشگوئیاں کر رہے ہیں تو اس پر عمران خان یقینا ہی کہتے ہوں گے کہ
غلط یا ٹھیک مجھے مشورہ تو ''دیتے ہیں''
وہ زندہ رہنے کا کچھ حوصلہ تو'' دیتے ہیں''
دراصل سیاست میں آنے والے ہر شخص کی یہی خواہش تو ہوتی ہے کہ اسے اقتدار کی دیوی کا سایہ نصیب ہو اور ہمارے ملک میں ہر دور میں لوگ اپنی ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے اس قسم کے ''بابوں'' کی درگاہوں پر جانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہے ہیں جن کی نظر کرم سے انہیں اقتدار کے سنگھا سن پر براجمان ہونے کی امید ہوا کرتی۔ ویسے ان دنوں سندھ کے مشہور سیاستدان منظور وسان نے پھر خواب دیکھنے شروع کردئیے ہیں اور وہ بھی لیگ(ن) کی حکومت کے حوالے سے ان خوابوں کی تعبیر سناتے پھر رہے ہیں۔ البتہ آصف زرداری کے دوست پیر اعجاز گیلانی نے جو یہ عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ موصوف کے در پیری پر تین بار حاضری دیں تو وہ عمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیں گے۔ اب عمران خان کا کام کہاں رکا ہوا ہے اس بارے میں تو پیر اعجاز قادری ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں یا ہوسکتا ہے کہ عمران خان کو بھی کچھ معلوم ہو اور دھرنوں کے دوران وہ امپائر کی انگلی اٹھانے کی بار بار بات کرتے رہے ہیں یہ رکاوٹ اسی سلسلے کی ہو تاہم پیر اعجاز قادری اگر عمران خان پر اتنے ہی مہربان ہو رہے ہیں اور انہیں صرف تین بار حاضری کے بدلے اتنے بڑے منصب پر فائز کروانے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو یہ کوئی گھاٹے کاسودا تو نہیں ہے کہ ہر سیاستدان وزارت عظمیٰ کے سنگھا سن پر پہنچنے کا متمنی ہوتا ہے لیکن سوال یہ بھی تو پیدا ہوتا ہے کہ پیر صاحب دوسروں پر عنایت کرتے ہوئے خود اپنے بارے میں کیوں نہیں سوچتے اور وزیراعظم بن کر ملک و قوم کی خدمت کریں۔
وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر جانے
تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

متعلقہ خبریں