وہ گھپلے روک نہیں سکتے

وہ گھپلے روک نہیں سکتے

اب وہ اور کیا کریں کہ ہمیں کامل یقین ہو ۔ وہ اپنی ہر ہر بات سے ، ہر ایک رویے سے ، ہر قدم سے اس بات کا اظہار کرتے ہیں ۔ وہ ہمیں بتا تے ہیں کہ یہ ملک اور اسکے عوام کووہ بے وقوف سمجھتے ہیں اور صرف وہی نہیں اس ملک کے تمام تر سیاست دان، حکمران ، حکمرانوں کے ساتھی سب کے سب اس ملک کی حدود میں بسنے والے بیس کروڑ لوگوں کو احمق اور خبطی سمجھتے ہیں ۔ وہ بار بار اس بات کا اظہار کرتے ہیں لیکن ہم نہیں سمجھتے ۔ ہم ان کی باتوں کو ان کی معصومیت سمجھتے ہیں اور اپنے حال میں مست رہتے ہیں ۔ نیو اسلام آباد ائیر پورٹ تک میٹرو بس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے وزیر اعظم نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قوم کو بتا یا کہ پتا نہیں نظام اور محکموں کو کیا ہو گیا ہے ؟ 2سال میں مکمل ہونیوالے منصوبوں پر 20,20سال لگ جاتے ہیں ۔ ملک میں بہت گھپلے ہیں اگر ان کی تحقیقات میں لگ گئے تو سارا وقت اسی میں لگ جائے گا اور ترقیاتی کام رک جائینگے ۔ 

میں اس وقت سے جناب وزیر اعظم کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو ں ۔ آخروہ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔ کیا ان کا یہ کہنا تھا کہ نظام اور محکموں کو ''جو '' ہوگیا ہے اس سے انہیں آگاہی نہیں ۔ کیا ان کا یہ کہنا تھا کہ اس نا اہلی کی وجوہات ان کے لیے حیران کن ہیں ۔ کیا ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ تاخیر ان کی سمجھ سے بالاتر ہے ۔ یا انہیںنظام کی اس سست روی کی وجوہات تو معلوم تھیں لیکن ان کا تاسف انہیں چین نہیں لینے دے رہا تھا ۔ ان کو ملک و قوم کی فکر ستا رہی تھی کہ وہ کس نظام کے شکنجے میں گئے ہیں ۔ اور پھر انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت گھپلے ہیں ۔ ان کا یہ ادراک ہی بہت حیران کن ہے ۔ ایک ایسا شخص جو اس ملک کا وزیر اعظم ہے ۔ جو اس ملک کے ہر نظام کو چلانے اور روکنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ جو ان محکموں کے حوالے سے تمام تر طاقت رکھتا ہے ۔ اورجس کی طاقت میں سے تھوڑا بہت جب محکموں کے سیکرٹریوںکو تفویض کیا جاتا ہے توا نکے بارے میں عام فہم زبان میں کہا جاتا ہے کہ وہ نعوذباللہ خدا بن جاتے ہیں ۔ وہ وزیر اعظم جب اس قدر معصومیت اور بھولپن سے کہتا ہے کہ ملک میں بہت گھپلے ہیں تو بے اختیار دل سے سبحان اللہ کی صدا بلند ہو جاتی ہے ۔ اس ملک کے وزیر اعظم کا یہ اعتراف شاید اس لیے بھی زیادہ پریشان کر رہا ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ بھی ہماری نگاہوں میں ہے ۔ وہ گھپلوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان دو جج صاحبان کا فیصلہ نظروں کے سامنے گھو منے لگتا ہے ، جنہوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دے رکھا ہے ۔ چونکہ یہ ملک و قوم وزیر اعظم کو بھاری مینڈیٹ دیئے ہوئے ہے اس لے تاسف کی سل بھی بھاری لگنے لگتی ہے ۔ اور بات یہیں موقوف رہتی تو شاید تاسف کی دھند اتنی گہری نہ ہوتی ۔ وزیر اعظم ایک طرف تو اقرار کر رہے ہیں کہ ملک میں بہت گھپلے ہیں اور اسی کے ساتھ نتھی کر کے کہتے ہیں کہ اگر تحقیقات کر یں تو سارے ترقیاتی کام رک جائیں گے ۔ اس ایک بات سے کئی باتیں نکلتی ہیں ۔ اولاً وزیر اعظم جانتے ہیں کہ گھپلے ہیں لیکن ان کے لیے اس وقت ترقیاتی کام اتنے اہم ہیں کہ ان گھپلوں کی اہمیت ان کی نظر میں کم ہوگئی ہے ۔ اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید گھپلو ں کا حجم کم ہے ۔ اگرحجم کم تھا تو وزیر اعظم کو یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی ۔ اور اگر حجم زیادہ ہے تو مزید ترقیاتی کام کتنے بھی اہم ہوں ، انہیں فی الفور روک کر پہلے گھپلوں کو درست کرنا چاہیے کیونکہ ان گھپلوں کے باعث ترقیاتی کاموں کی رفتار اور کامیابی دونوں ہی پر منفی اثر ہوگا ۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ سال انتخابات کا سال ہے ۔ ترقیاتی کاموں کی طرف تمام تر توجہ مبذول رکھنا حکومت وقت کی مجبوری ہے ۔ اور یہ مجبوری محض عوام کی خدمت کی شدید ترین خواہش کے ہی باعث نہیں ہو سکتی ۔ اگر جانتے ہیں کہ گھپلے ہیں اور ترقیاتی کام پھر بھی جاری ہیں تو اس کا ایک ہی مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ ان گھپلوں میں کسی طور کی حصہ داری کسی ایسے گروہ کی ہوگی جو میاں صاحب کے دل کے قریب ہوگا ۔ تبھی تو یہ سب برداشت کیا جا رہا ہے ۔ ایک نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گھپلوں کی بات تو اپنی جگہ کیونکہ عمران خان نے کرپشن کی بات اور نفرت کی ہو ا چلا رکھی ہے لیکن وزیر اعظم کے لیے یہ گھپلے معمول کی بات ہیں وہ Practicalآدمی ہیں جانتے ہیں کہ ترقیاتی کاموں میں گھپلے ہوا ہی کرتے ہیں ۔ اس لیے وہ عوام کی سماعتوں کے لیے گھپلوں کی بات تو کر رہے ہیں مگر ساتھ ہی اس مجبوری کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ گھپلوں کے باوجود وہ ان ترقیاتی کاموں کا رکنا برداشت نہیں کر سکتے ۔ وزیر اعظم کا بیان اور اس مجبوری کا اظہار کئی لوگوں کی سمجھ سے بالاتر بھی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وزیراعظم اتنا مجبور نہیں ہوتا ۔ سو معلوم یہ ہوتا ہے کہ شاید اس مجبور ی کی پریشانی کامنبع کہیں اور ہے ۔ میاں صاحب کی ان باتوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ پریشان ہیں لیکن اس کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ انہیں کسی قسم کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے چند دن پہلے انتہائی معصومیت سے یہ بھی کہا کہ لگتا ہے ، حکومت وقت سے پہلے ہی چلی جائیگی اور صاحبان بصیرت کے علاوہ بھی لوگ ان کی اس بات پر قہقہے لگا تے رہے ۔ یقینا وہ ''مخول '' کررہے تھے ۔ بہر حال باتیں کیسی بھی ہوں اور ان کا کیسا بھی مطلب نکالا جا سکتا ہو یہ طے ہے کہ میاں صاحب کو ان گھپلوں پر ،یا کسی بھی قسم کے گھپلوں پر اس حدتک اعتراض نہیں کہ وہ انہیں روکنے کے لیے اقدامات کریں اور اگر ایسا ہی ہے تو پاناما کیس کے حوالے سے یہ بات کس سمت اشارہ کر رہی ہے ؟!۔

متعلقہ خبریں