یادوں کے اجالے

یادوں کے اجالے

اپنے گھر کی لائبریری میں ایک کتاب تلاش کر رہا تھا' الماری سے اچانک دو نایاب پرانی تصویریں ہاتھ لگ گئیں۔ ایک تو نوے پلوشہ نام کی دستاویزی فلم کی ساکت تصویر تھی۔ یہ فلم 1958ء میں قدرت اللہ شہاب نے نئی کرن کے نام سے ملک میں پہلے مارشل لاء کی برکات اور ثمرات کے موضوع پر لکھی تھی جیسے کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں اس کا پشتو ترجمہ امیر حمزہ خان شنواری نے کیا تھا۔ یہ فلم ناپید ہے اور اس کا پشتو ترجمہ بھی دستیاب نہیں۔ رہے نام اللہ کا۔ دوسری تصویر گورنمنٹ کالج مردان میں ایک عصرانے کی تھی جو ہمارے دل کے نہایت ہی قریب دوست پروفیسر محمود احمد طارق نے مردان کے کچھ بزرگ ادیبوں کے اعزاز میں دیا تھا۔ پروفیسر طارق کا ذکر بھی کریں گے پہلے اس تاریخی تصویر کے بارے میں کچھ کہنے کی اجازت دیجئے۔ تصویر میں موجود کچھ لوگ تو دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور بعض ان میں سے لاٹھی ٹیکتے نظر آتے ہیں۔ ہمارا بڑا بیٹا جو اب ماشاء اللہ پروفیسر بن چکا ہے استاد محترم خیر الحق گوہر کا کا خیل کی گود میں بیٹھا ہے اور بیٹی کو پیر طلا محمد نے سنبھال رکھا ہے۔ ڈاکٹر حسن خان سوز' امیر بادشاہ منیر' محمد اقبال اقبال' روزنامہ مشرق کے اس وقت کے نامہ نگار رحمن ساحر بھی تصویر میں موجود ہیں۔ یہ سب دوست اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں۔ کرسیوں کی پشت پر ایستادہ لوگوں میں سے بائیں جانب کی قطار سید ابرار حسین سے شروع ہوتی ہے' ابرار انگلش کے لیکچرر اور ہمارے رفیق کار تھے۔ ہمیشہ بڑے بھائی کی طرح ہمارا احترام کیا۔ تصویر میں چہرے پر خوبصورت سیاہ داڑھی کے ساتھ کالج کے سٹوڈنٹ لگ رہے ہیں بعد میں وہ فارن سروس میں چلے گئے اور وزارت خارجہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ کچھ سال پہلے تک افغانستان میں پاکستان کے سفیر تھے۔ ذکر اپنے پیارے دوست پروفیسر محمود احمد طارق کا مقصود تھا۔ ان سے کم و بیش نصف صدی پہلے ملاقات ہوئی تو وہ کالج کے استاد کم اور طالب علم زیادہ معلوم ہوتے تھے جوان رعنا' ہلکا سانولا رنگ' گھٹا ہوا مضبوط جسم' خندہ رو' دوستوں سے ٹوٹ کر پیار کرنے والے۔ پہلی ہی ملاقات میں مرتے دم تک انہوں نے اپنی محبتوں کے سحر سے آزاد ہونے کی اجازت نہ دی۔ ان کے والد چودھری فتح محمد نے 20ویں صدی کی پہلی دہائی میں امر تسر سے پہلے لائل پور اور پھر بسلسلہ ملازمت مردان میں رہائش اختیار کی۔ طارق صاحب پنجابی ضرور تھے لیکن ہم جیسے بے شمار برخود غلط پشتون سے زیادہ غیرت مند ہے اور دوست دار تھے طارق صاحب حقیقی معنوں میں دوست داری کے مفہوم سمجھتے تھے بلکہ یہ سب کچھ انہوں نے جزو ایمان بنا رکھا تھا۔ ایک روز پوچھا' یہ ھلکہ ڈرامہ بازہ' تمہارا مکان کس مرحلے میں ہے' کہا ' ہاتھی گزر چکا ہے صرف دم باقی ہے۔ کیا مطلب؟ ککڑی کا کام رہتا ہے' ہاتھیوں کے ساتھ گنے چوسنے کے لئے کس نے کہا تھا۔ آرام سے گائوں کے مکان میں رہے ہم کیا جواب دیتے خاموش ہوگئے۔ دو ایک روز بعد اپنے دفتر کے نائب قاصد فتح خان کو بچی کھچی رقم لینے کے لئے بنک بھیجا۔ واپس آکر اس نے بتایا' پچپن ہزار روپے بیلنس رہتا ہے۔ اتنی بڑی رقم تو ہمارے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ ہمارے حساب سے 5ہزار کی رقم بنک میں پڑی تھی پوچھا یہ کسے ہوسکتا ہے بنک جا کر معلوم کیا تو بتایاگیا کہ دو ایک روز پہلے پروفیسر طارق نے آپ کے اکائونٹ میں یہ رقم جمع کی تھی۔ کالج آکر ان کو دعا دیتے ہوئے کہا' اللہ تمہاری شادی کردے۔ جواب میں وہی انگریزی میں بوچھاڑ کا سامنا کیا۔ دو ماہ بعد ہم نے بھی ہمزاد کے بچے کھچے زیور بیچ کر وہ رقم خاموشی کے ساتھ ان کے اکائونٹ میں جمع کردی۔ ان کو پتہ لگنے پر صرف اس قدر کہا' دمرہ زر۔ ہم ان کی خدمت میں تشکر کے صرف دو آنسو ہی نذر کرسکے۔ مزید کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ ہمارے ایک دوست کی بیوی کو کدو کا حلوہ بہت پسند تھا۔ طارق صاحب بیکری سے حلوہ لے کر دوست کو کہتے یہ میری بہن کو دے دینا۔ دوستوں کی ٹولی جب کسی لمبے سفر پر ان کے ساتھ جاتی تو کسی کے ہاتھ اپنی جیبوں کی طرف نہ بڑھتے۔ بعض دفعہ کہتے کمینو! میری جیب پر پھرتے ہو' زما پہ جیب گرزئے' تھے تو وہ علم التواریخ کے استاد گفتگو میں ہمیشہ حالات حاضرہ پر دلچسپ تبصرے کرتے۔طارق صاحب نے چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش اور ان کی تعلیم مکمل کرنے کی خاطر شادی نہیں کی۔ جب ہم کوئی تجویز پیش کرتے تو جواب جھڑکیوں کی صورت میں ملتا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے دوستوں کے بچوں سے بھی ٹوٹ کر پیار کیا۔ ہمارے چھوٹے بیٹے شفقت ہما کو انہوں نے اپنے گھر کے خصوصی کمرے میں جانے کی اجازت دے رکھی تھی جہاں فرشتے بھی پر نہیں مار سکتے تھے۔ ان کے پاس پرانی فلموں اور نغموں کا نایاب ذخیرہ تھا۔ انواع و اقسام کی بیش قیمت خوشبویات بھی جمع کرنے کا شوق رکھتے تھے۔ شفقت کو کھلے دل کے ساتھ اپنی پسند کی چیز لینے کی اجازت دے رکھی تھی۔ ایک روز ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سامنے نہر کے کنارے پر قبرستان سے گزرتے وقت کہنے لگے' میری ماں یہاں دفن ہے۔ یار مجھے بھی ان کے پہلو میں دفنا دینا۔ فوت ہوئے تو ہم ان کے رشتہ داروں سے ان کی اس زبانی کلامی وصیت کا ذکر نہ کرسکے کیونکہ ہمارا ان کے جسد خاکی پر کوئی اختیار نہیں رہا تھا۔ ہم ان کے وارث نہ تھے۔ طارق کے جسد خاکی کو لائل پور کے ایک د ور افتادہ گائوں لے گئے اور ان کے والد کے پہلو میں سپرد خاک کردیا۔ پروفیسر محمود احمد طارق کی یادوں کے اجالے ہمیشہ ساتھ رہیں گے کہ ایسی اعلیٰ انسانی قدروں کے بے مثال نمونے دنیا میں صرف ایک بار آتے ہیں۔

متعلقہ خبریں