مشرقیات

مشرقیات

حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں' مدینہ کے والی نے خلیفہ عبدالملک بن مروان کوخط لکھا کہ حضرت سعید بن مسیب کے علاوہ تمام اہل مدینہ نے ولید اور سلیمان کی بیعت پر اتفاق کرلیا ہے۔ (حضرت سعید بن مسیب بڑے تابعین میں سے ہیں اس لئے انہیں سید التابعین یعنی تابعین کا سردار بھی کہا جاتا ہے) عبدالملک نے جواب لکھا:تلوار کے زور پر ان سے بیعت لو۔ اگر بیعت کرلیں تو صحیح ورنہ انہیں 50کوڑے مارو اور مدینہ کے بازاروں میں چکر لگائو۔ مدینہ میں جب عبدالملک کا خط پہنچا تو موقع غنیمت سمجھ کر حضرت سلیمان بن یسار' حضرت عروہ بن زبیر اور حضرت سالم بن عبداللہ حضرت سعید بن مسیب کے پاس آئے اور کہنے لگے' ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ کو خبر دیں کہ والئی مدینہ کو عبدالملک بن مروان نے خط لکھا ہے کہ اگر آپ بیعت نہ کریں تو آپ کی گردن اڑا دی جائے' ہم آپ کے دفاع کی خاطر آپ کو 3باتیں پیش کرتے ہیں' ان میں سے کوئی ایک مان لیجئے۔اول یہ کہ والی نے اتنی بات مان لی ہے کہ عبدالملک کا خط پڑھ کر آپ کو سنایاجائے اور آپ اس جواب میں بیعت کا اقرار کریں اور نہ ہی انکار' اس طرح لوگوں میں مشہور ہوجائے گا کہ حضرت سعید بن مسیب نے بیعت کرلی۔ حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا: میں ایساہر گز نہیں کروں گا۔ پھر ابن المسیب نے فرمایا: اچھا ایک بات ہوچکی' دو باتیں باقی رہتی ہیں' وہ بھی جلدی کرلو۔ وہ حضرات کہنے لگے کہ دوسری یہ کہ آپ کچھ سال تک گھر ہی میں نشست و برخاست رکھیں اور مسجد کی طرف تشریف نہ لے جائیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب آپ کو مجلس درس میں تلاش کیا جائے گا تو آپ کو وہاں نہیں پایا جائے گا' فرمایا: میں مئوذن کو اپنے کانوں سے حی علیٰ الصلوٰة وحی علیٰ الفلاح کہتے سنتا رہوں اور اس کے جواب میں مسجد نہ جائوں' یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ میں ایسا بھی نہیں کرسکتا۔ وہ حضرات کہنے لگے: تیسری بات یہ کہ آپ اپنی مجلس سے کہیں اور منتقل ہوجائیں اور والی آپ کو مجلس سے بلوائے گا تو آپ مجلس سے غائب ہوں گے۔ اس طرح وہ آپ سے بیعت لینے کے اصرار سے رک جائے گا۔ فرمانے لگے: مخلوق سے ڈر کر میں ایک بالشت بھی آگے اور نہ پیچھے ہٹوں گا۔یہ تینوں حضرات نا امید ہو کر ان کے پاس سے چلے گئے اور ان کی دیکھا دیکھی حضرت سعید بن مسیب کی طرف نماز ظہر پڑھنے چل پڑے۔ چنانچہ جب والی نے دیکھا کہ وہ ان کو ذرا بھی ٹس سے مس نہیں کرسکتا تو انہیں لنگوٹ پہنایا گیا۔ اس موقع پر فرمایا: اگر مجھے علم ہوتا کہ مجھے قتل نہیں کیاجائے گا تو اس لنگوٹ میں میری شہرت نہ کی جاتی۔ بالآخر والی نے انہیں 50کوڑے مارے اور پھر انہیں مدینہ کے بازاروں میں چکر لگوائے۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی جو عہدے کا اہل نہیں تھا۔ (بحوالہ حیرت انگیز واقعات)دین کے معاملات میں استقامت کا مظاہرہ آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

متعلقہ خبریں