انسداد دہشت گردی ، ایک اور عملی قدم

انسداد دہشت گردی ، ایک اور عملی قدم

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی جانب سے ان نو دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق جو پشاور ائیر پورٹ پر طیارے پر فائرنگ ، معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو شہید کرنے کے کئی واقعات میں ملوث تھے ۔ اس حوالے سے تفصیلی خبر اخبارات میں شائع ہوچکی ہے جس میں ان دہشت گردوں کی دہشت گردی کی وارداتوں کی پوری تفصیل موجود ہے ۔ جسے پڑھ کر ان کی سزائے موت کے فیصلے کی عدالت کے بعد عوامی طور پر توثیق بھی ہو جانا فطری امر ہے ۔ پشاور آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد جو ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا اور اس ایکشن پلان میں فوج کو جو ذمہ داری دی گئی تھی اس پر اطمینان بخش طور پر عملدرآمد جاری ہے جس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں۔ ایکشن پلان کے تحت قائم ایک فوجی عدالت کا ایک اور فیصلہ آیا ہے جس میں9 دہشتگردوں کو موت کی سزا کا حکم دیا گیا تھاجس کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے مقدمات میں چھ مجرموں کی فوجی عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔اس وقت ملک میں نو فوجی عدالتیںکام کررہی ہیں جن میں سے صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ پنجاب میں تین تین جبکہ سندھ میں دو اور بلوچستان میں ایک عدالت قائم کی گئی ہے۔ سزا پانے والے افراد کے حوالے سے صرف یہی معلوم ہوچکا کہ یہ افراد دہشتگردی کے سنگین جرائم کے مرتکب تھے ۔دہشت گرد عناصر کی طرف سے ان سزائوں کے خلاف سخت رد عمل کے خدشات بھی بلا سبب نہیں جس کے لئے ہمارے سیکورٹی کے اداروں کو مزید حفاظتی اقدامات پر مزید توجہ دینا ہو گی۔ شہر بھر میں سیکورٹی کی صورتحال پر توجہ اور تلاشی کی کارروائیوں سے بھی شہر کی فضائوں میں خطرات کی بو سونگھی جا سکتی ہے ۔ بہر حال مجرمان کی سزائوں پر عملدآرمد کے موقع پر جس قدر بھی حفاظتی اقدامات کئے جائیں اس کی ضرورت ہے ۔ سولہ دسمبر کو آرمی پبلک سکول پر حملے کا واقعہ انسانی تاریخ کا بدترین واقع تھا جس کے بعد کے اقدامات کے نتیجے میں صورتحال میں جو مثبت تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں ان کے پیش نظر اس امر کی تمنا ہی کی جا سکتی ہے کہ کاش اس طرح کے اقدامات چند سال قبل کیوں نہیں کئے گئے۔ ہمارے تئیں یہ ا قدامات تبھی ممکن ہو سکے جب سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی نے جنم لیا اور خاص طور پر قوم دہشت گردی کے خلاف متحد اوریک آواز ہو گئی۔اب بھی اگرچہ صورتحال خاصی بہتر ہوئی ہے لیکن خطرات ٹلے نہیں۔ اگرچہ فوجی عدالتوں کا قیام اور فوجی عدالتوں سے ملزمان کی سزائیں طبع نازک پر بھاری ضرور گزرتی ہیں مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی بھی نہیں رہا تھا۔جہاں گرفتار دہشت گرد عناصر کو منطقی ا نجام تک پہنچانے میں مزید مہلت کی گنجائش نہیں۔ اسی طرح ٹوٹی ہوئی مالا کی طرح بکھرے دہشت گردوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانے کے عمل کو عجلت کے ساتھ مکمل کرکے ہی مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہو گااگر چہ دہشت گردی کے طویل سخت دور سے ہم گرز چکے ہیں لیکن ابھی اس کے اثرات سے نکلنے میں کافی عرصہ لگے گا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کا قیام جس خاص مدت کیلئے عمل میں لایا گیا اس کی تکمیل کے بعد بھی اس طرح کے عناصر کی گرفتاری کی بناء پر ان کو سخت اور فوری سزا دینے کی ضرورت باقی رہے گی انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے یہ عناصر حد ناکافی شہادتوں اور ناقص تفتیش کے باعث نکلنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیںلہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ قانون شہادت میں ترمیم کرے اور دہشت گردی کے مقدمات سننے والی عدالتوں کیلئے ایسے اقدامات یقینی بنائے جائیں کہ یہ عدالتیں فوجی عدالتوں کا صحیح متبادل ثابت ہوں اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ رہے ۔دہشت گردی کی روک تھام اور دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے حکومت اور پارلیمنٹ کی جانب سے جو بھی قدم اٹھا یا جائے گا پوری قوم کی اس میں حمایت اور اعانت حاصل ہوگی ۔ فوجی عدالتیں نظر یہ ضرورت اور اشد مجبوری کے عالم میں قائم کی گئی ہیں۔ یہ معاملے کا مستقل حل نہیں بلکہ مختصر مدت کیلئے ان کاقیام فوری نتائج کے حصول کیلئے ضروری تھا ۔ حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو دیگر معاملات کے ساتھ اس معاملے کوبھی زیر غور لانا چاہئے تا کہ فوجی عدالتوںکی مدت پوری ہونے کے بعد کوئی ایسا خلا نہ آئے جسے بروقت پورا نہ کئے جانے کے باعث دہشت گردوں کو سخت سزا دینے میں تاخیر ہو یا پھر وہ پہلے کی طرح عدالتوں سے بری ہو نے لگیں ۔ انسداد دہشت گردی کے ضمن میں وقتاً فوقتاً سامنے آنے والی نئی صورتحال اور حالات کے مطابق اس سے نمٹنے کے اقدامات تسلسل سے کر کے ہی اس غفریت پر رفتہ رفتہ اور درجہ بدرجہ قابو پانا ممکن ہوگا ۔

متعلقہ خبریں