قوم حقیقی احتساب کی منتظر ہے

قوم حقیقی احتساب کی منتظر ہے

ملک میں پانامہ لیکس اور لوٹی ہوئی دولت کے حوالے سے جس قدر شور بر پا ہے اس کا نتیجہ خیز ہونا اب عدالت کے فیصلے ہی پر محمول ہوگا اس سے قطع نظر ہم سمجھتے ہیں کہ پانامہ پیپرز میں چارسو کے لگ بھگ جن عناصر کے نام شامل ہیں قوم کی خواہش ہے کہ ان سب عناصر کا بلا امتیاز احتساب ہو ۔ یہ ان عناصر کی لوٹ مار ہی کا باعث ہے کہ آج ملک قرضوں میں بری طرح جکڑ ا ہوا ہے ۔اس بد عنوانی کے علاوہ بھی کئی وجوہات ضرورہیں لیکن ملکی دولت لوٹنا اور بد عنوانی سب سے سنگین مسئلہ ہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان اتنا مقروض ملک بن گیا ہے کہ اس کی آئندہ کئی نسلیں یہ قرضہ نہیں اتار سکیں گی۔ کچھ امن و امان کی صورتحال کے باعث جس کی خرابی دس بارہ سال سے زیادہ عرصے سے نہیں ہے اور کچھ بجلی اور گیس کی قلت کے باعث یہاں کے کارخانے اجڑ گئے ہیں۔ لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ ایسے واقعات شائع ہوچکے ہیں کہ مائوں نے مفلسی کے باعث بچوں سمیت خود کشی کرلی۔ اسی غریب پاکستان میں کچھ بہت امیر لوگ بھی ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال یا کم و بیش اتنے ہی عرصے کے دوران دبئی میں پاکستانیوں نے چار سو پچاس ارب روپے کی جائیداد خریدی ہے۔ یہی نہیں ایسے اور بھی پاکستانی ہیں جن کی بیرون ملک دولت کی شہرت زبان زد عام و خاص ہے۔ ان میں سیاسی لیڈر بھی شامل ہیں اور بڑے بزنس مین بھی۔ یہ ساڑھے چار سو ارب روپے اگر پاکستان میں صنعت پر لگائے جاتے تو نہ صرف ان متمول لوگوں کو فائدہ ہوتا بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار بھی میسر آتا۔ چار سو یاچار ہزار یا جتنے بھی یہ پاکستانی ہیں جنہوں نے ساڑھے چار سو ارب روپے کی جائیدادیں دبئی میں خریدی ہیں ۔بڑے ذہین و فطین لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کی کمزور اور دن بہ دن روبہ تنزل معیشت میں اتنے پیسے کمالئے جن میں سے فالتو ساڑھے چار سو ارب روپے کی سرمایہ کاری بیرون ملک کرلی۔ ان کا پتہ لگایا جانا چاہئے اور یہ بھی معلوم کیاجاناچاہئے کہ آیا ان لوگوں نے اس دولت پر حکومت پاکستان کو ٹیکس ادا کئے۔ اور یہ رقوم کیسے بیرون ملک منتقل کی گئیں جیسا کہ پانامہ پیپرزکے حوالے سے عدالت کے سامنے بھی یہ ایک بڑا سوال ہے ۔ کیا وزیر خزانہ نے ایسا کوئی بندوبست کیا ہے کہ پاکستان سے دولت ناجائز طور پر باہر نہ جاسکے،۔ کیا ہمارے ملک میں کوئی بینکاری کی انٹیلی جنس کا شعبہ ہے۔ اگر ہے تو وہ کیا کرتا ہے۔ باہر کے ملکوں کو دولت کی منتقلی روکنے کے لئے اس کے پاس کیا وسائل اور ذرائع ہیں۔ اگر من حیث المجموع صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو تمام تر اٹھنے والی آوازوں کے باوجود مایوسی ہی ہوتی ہے اور یہ مایوسی امید میں اسی دن ہی بد ل سکتی ہے جب وطن عزیز میں حقیقی معنوں میں احتساب کا آغاز ہواور کم از کم حقیقی احتساب کی کوئی ایک مثال ہی سامنے آئے ۔
ڈھول بجا کر آپریشن نہیں کیا جاتا
پشاورکے مضافاتی علاقوںمیں سرکاری اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ اوربھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کرنے کافیصلہ کیاگیاہے۔ اس ضمن میں پولیس نے حساس اداروں کی مدد سے خفیہ سروے شروع کردیاہے اورسروے مکمل ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز اورحساس اداروں کے ہمراہ بڑے پیمانے پر سر چ آپریشن کیاجائے گا۔علاوہ ازیں پشاورکے تمام تھانوں اور حساس مقامات کی سیکورٹی انتظامات کاازسرنوجائزہ لینے کافیصلہ کیا گیاہے جس کے تحت ان مقامات کی سیکورٹی مزید سخت کی جائے گی۔پشاور کے مضافاتی علاقوں میں آپریشن کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں لیکن بعض اوقات اس طرح کے اعلان پر بعد ازاں سنجیدگی سے عمل نہیں کیاجاتا۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو وقت سے پہلے میڈیا پر آپریشن کا ڈھول پیٹنے کی حکمت عملی سمجھ سے بالا تر امر ہے۔ ایس ایس پی آپریشن کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حکمت عملی کو قبل از وقت افشاء کرنے کے بعد ان عناصر کا زیر زمین چلے جانا اور پشاور کے مضافاتی علاقوں سے منتقلی یقینی امر ہے۔ ویسے بھی اس طرح کے عناصر گرفتاری کے خوف سے ہمیشہ محتاط رہتے ہیں۔ بھنک پڑنے پر ان علاقوں سے ان کا بہت دور چلے جانا فطری امر ہے۔ وقت سے پہلے ہی آپریشن کی دھمکی کا مقصد گویا دہشت گردوں کو نکلنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ سرکاری حاکموں کو اس طرح کے معاملات کو قبل از وقت میڈیا میں لانے سے گریز کرنا چاہئے جس سے راز داری افشاء ہو۔ البتہ کامیاب آپریشن کے بعد گرفتار شدگان کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے کارکردگی کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ عوام کو تحفظ کا احساس دلانے کا اقدام کیا جاسکتا ہے جو موزوں بھی ہوتا اور مستحسن بھی۔ بہر حال اب جبکہ مشکوک افراد مطلع ہو ہی چکے ہوں گے تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کو فرار ہوتے ہوئے گرفتار کرنے پرتوجہ دی جانی چاہئے اور مضافاتی علاقوں میں نگرانی کے عمل میں تیزی لانے اور اس کو موثر بنانے پر توجہ دی جائے۔

متعلقہ خبریں