شربت گلہ کی کہانی

شربت گلہ کی کہانی

1984میںپشاور کے ناصر باغ کیمپ کے سکول میں ایک امریکی صحافی کے کیمرے کی آنکھ میںاپنی خوف زدہ مگر چمکدارسبز آنکھیں گاڑھ کرمغربی دنیا میں دھوم مچانے والی افغان مہاجر لڑکی شربت گلہ نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ چونتیس برس بعد حالات اس قدر بدل جائیں گے کہ اس کی آرام دہ جنت چلچلاتی دھوپ میں بدل جائے گی اور وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی جائے گی۔ شربت گلہ ایک تصویر کے بعد افغانستان میں سوویت مداخلت اور افغانوں کی مزاحمت کے نتیجے میں مشکلات کا شکار ہونے والی لاکھوں افغان مہاجر خواتین کی نمائندہ اور علامت بن گئی تھیں ۔شربت گلہ کی کہانی کے تین حصے ہیں ۔پہلا حصہ وہی ہے جو اسی کی دہائی کے ہر افغان مہاجر بچے کا مشترکہ دکھ اور درد ہے ۔غیر ملکی افواج کی آمد ،فرزندان زمین کی مزاحمت ،والدین اور پیاروں کی شہادت اور پھر اونٹوں،گھوڑوںاور خچروں پر اپنے ٹوٹے پھوٹے برتن اور شکستہ بستر لاد کر ہمسایہ ملک پاکستان کا رخ اور یہاں سحر کے انتظار میں کیمپوں کی ایک طویل اور اعصاب شکن شام ۔اس کہانی کا دوسرا حصہ وہ ہے جب امریکہ کے شہرہ آفاق میگزین نیشنل جیوگرافک سے وابستہ ایک صحافی اور فوٹو گرافر سٹیو میکری کو افغان مہاجرین کے دکھوں کو تصویر کی شکل میں دنیا میں عام کرنے کا خیال آیا اور اس نے پشاور کے ناصر باغ کیمپ کے ایک سکول کا رخ کرکے ایک بارہ سالہ یتیم بچی کی آنکھوں میں مونا لیز ا تلاش کر لی ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب چارلی ولسن جیسے امریکی فلم ساز افغان جہاد کوگلیمرائز کرنے میں مصروف تھے ۔شربت گلہ کی سبز آنکھوں نے لاتعداد مہاجر بچیوں کا دکھ تو دنیا بھر میں پہنچا دیا مگر خود اس کے دکھ ختم نہ ہو سکے۔عام مہاجر عورت کو شربت گلہ جیسا مقام اور شہرت حاصل نہ ہو سکی یہ کہا نی کا وہ حصہ ہے جوصرف شربت گلہ تک محدود ہے ۔اس کہانی کا تیسرا حصہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب شربت گلہ کی تصویر کھینچنے والے صحافی کو سترہ سال بعد دوبارہ اس لڑکی کو تلاش کرنے اور اس کی آنکھوں کی صورت دکھوں اور حالات کو تلاش کرنے کا خیال آتا ہے۔ 2004میں جب امریکی صحافی نے اسے دوبارہ ڈھونڈ نکالا توسترہ سال بعد بھی شربت گلہ کے دن نہیں پھرے تھے وہ لاکھوں افغانیوں کی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان معلق تھی شربت گلہ اپنے غموں اور دکھوں کی پوٹلی اُٹھائے کبھی افغانستان اور کبھی پاکستان کی طرف محو سفر رہی ۔افغانستان میں حالات بہتر ہونے کی امید پیدا ہوتی تو شربت گلہ کو وطن سدھارنے کا خیال آتا اور حالات خراب ہونے لگتے تو اسے پاکستان ہی جائے عافیت نظر آتی۔یہ ایک عجیب مخمصہ تھا جس میں تنہا شربت بی بی مبتلا نہیں تھی بلکہ لاکھوں افغان مردو خواتین کا مشترکہ المیہ تھا ۔اسی شش وپنج میں بے شمار افغانوں نے پاکستان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنا لئے ۔ان میں سے کتنے ہی ہوں گے جنہوں نے اسی کی دہائی میںپاکستان کے مختلف شہروں میں افغان جہاد کے ایک مرکزی کردار گل بدین حکمت یار کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ افغانستان آزاد ہوگا تو یہ اقبال اور جمال الدین افغانی کے خواب کی تعبیر ہوگا ۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہو گی۔شاید حالات ایسے ہی ہوتے اگر دونوں کے درمیان پراسرار کردار حائل نہ ہوتے ۔امریکہ سے دہلی اور کابل تک ایک ایسی زنجیر وجود میں نہ آتی جس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کو دو دشمن ملکوں کی شکل دینے کے سوا کچھ اور نہ تھا ۔بھارت اور امریکہ مخصوص مقاصد کے تحت دونوں ملکوں کو دور کرنا اور رکھنا چاہتے تھے مگر کابل کے حکمران یہ جانے بغیر اس بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بن بیٹھے کہ پاکستان آج بھی ایسے لاکھوں افغان مہاجرین کی پناہ گاہ ہے جو پاکستان کی تہذیب اور سماج میں گندھ چکے ہیں۔کابل کے حکمرانوں کے چرکے سہتے سہتے ریاست پاکستان نے انگڑائی لی تو اس کی زد افغان مہاجرین پر پڑنے لگی ۔شربت گلہ بھی پاکستان کا شناختی کارڈ بنوانے کے جرم کی سزاوار ٹھہر کر جیل جا پہنچی۔شربت گلہ کی گرفتاری سے کابل کے حکمران طبقات کو اندازہ ہوا کہ وہ پاکستان کو سینڈ بیگ بنا کر درحقیقت لاکھوں اور مہاجرین کی مشکلات بڑھانے کے سوا کسی کام کے نہیں رہے۔اچھا ہوا کہ شربت گلہ کے معاملے پر ریاست پاکستان نے کچھ نرمی دکھانا شروع کی مگر یہ نرمی ایک عمومی رویہ بننا ضروری ہے ۔شربت گلہ کی بین الاقوامی شہرت بتیس برس میں ان کے کسی کام نہ آئی مگر زندگی کے اس مرحلے میں انہیں جیل سے رہائی اور ڈی پورٹ ہونے سے بچانے کا باعث ضرور بنی مگر ایسی لاکھوں خواتین آج بھی حالات کی تنی ہوئی رسی پر ڈول رہی ہیں ۔ یہ ایسی بے شمار افغان لڑکیوں کی کہانی جو پاکستانیوں سے بیاہی گئی ہیں اور ایسی پاکستانی لڑکیوں کی بھی جو افغانوں کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ چکی ہیں۔لندن میں مقیم میرے چھوٹے بھائی کی بیوی افغانستان کے شہر قندھار سے تعلق رکھتی ہیں۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والی ان کی دوپھول جیسی بچیاں پاکستانی شہریت رکھتی ہیں مگر اسلام آباد اور کراچی میں پلنے بڑھنے والی ان کی والدہ پاکستانی شہریت سے محروم ہیں ۔وہ پاکستان آئیں تو کسی غیر ملکی کی طرح تھانے میں حاضری لگوانا ضروری ہوتا ہے ۔ اپنے سٹریٹجک مقاصد کے لئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوریاں پیدا کرنے والوں کوٹائٹل سٹوری کے لئے شربت گلہ کی تصویر سے غرض تھی اس کے دکھوں ،مسائل اور وطن سے دور یا دو ملکوں کے درمیان پنڈولم کی طرح لڑھکنے والی اصلی شربت گلہ اور ان جیسی بے شمار شربت گلائوں سے نہیں ۔ حیرت تو افغان حکمرانوں پر ہے جو غریب الوطنی میں جینے والی لاکھوں شربت گلائوں کو بھول کر دوسروں کے ساز پر ناچ ناچ کر ہلکان ہو رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ شربت گلہ کے جرم سے اس کے یہی مجرم زیادہ بڑے ہیں ۔اس لئے شربت گلہ اور اس سے ملتے جلتے بے شمار کردار اب بھی ہمدردی رواداری اور مروت کے مستحق ہیں۔

متعلقہ خبریں