سیاست' حکومت اور مطالعہ تاریخ

سیاست' حکومت اور مطالعہ تاریخ

گزشتہ کالم کی سطور میں عرض کیا تھا کہ حقیقی سیاست انبیاء کرام کے ذریعے شروع ہوئی تھی۔ انبیا ء کرام نے سیاست کے بنیادی اصول اللہ تعالیٰ کی تعلیمات کی رہنمائی میں طے فرمائے تھے اور اس سیاست کا بنیادی مقصد انسان کی دنیاوی اور ااخروی نجات اور کامیابی تھا۔ سیاست کے ذریعے ایسی ریاست اور حکومت کی تشکیل تھی جس میں بنی نوع انسان کی شرف و تکریم کی حفاظت کے علاوہ بنیادی ضروریات حیات کی فراہمی ہر انسان کے لئے اس کی محنت و مشقت اور جدوجہد کے نتیجے میں ممکن اور آسان ہو۔

ایسی سیاست اور ریاست کی تشکیل و تکمیل خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپۖ کے جانثار صحابہ کرام کی جماعت کے مقدس ہاتھوں سے مدینہ طیبہ میں ہوئی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے حکمران' حکم' سپہ سالار اور منتظم اعلیٰ کی صورت میں سیاست اور حکومت کے وہ اصول' دستور' آئین اور قواعد و ضوابط عملی' قولیٰ (تحریری) اور تقریری صورت میں چھوڑ گئے کہ جب بھی کوئی اس پر عمل پیرا ہونے کا مظاہرہ کرے گا کامیابی' نجات اور غلبہ ان کے حصے میں لازمی طور پر آئے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک کو قرآن عظیم الشان کی صورت میں وہ آئین و دستور عطا فرمایا جس میں کسی ترمیم و حذف کی نہ گنجائش ہے نہ ضرورت ہے اور نہ کسی کا مجال ہے کہ ایسی کسی بات کا تصور کرے۔ اسی قرآن کریم کے احکام و قوانین اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کی ضمانت ہے۔ اس کتاب مبین میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک کو ''ایام اللہ '' کے ذریعے گزشتہ اقوام کی تاریخ بھی بتائی اور ان کے بعض اہم قصے بھی جبرئیل امین کے ذریعے سنائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اقوام کی تاریخ کی روشنی میں اپنی قوم اور پیروکاروں کی تعلیم و تربیت فرمائی اور نہ ماننے والوں کو عبرت کی وعید سنائی۔اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سیاست اور حکومت و حکمرانی کو صحیح نہج پر رکھنے کے لئے تاریخ و سیاسیات کا مطالعہ بہت اہم چیز ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں جابر اقوام کے ہاتھوں کمزور و مظلوم اقوام کے لاکھوں لوگوں کو جس طرح موت کے گھاٹ اتارا گیا یہ بھی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس میں بہت بڑی عبرت ہے کاش! کہ ہم مسلمان قرآن و سنت کی روشنی میں ان واقعات سے سبق حاصل کرتے۔ یہ طاقتور و جابر اقوام کمزور اقوام کے ہر قسم کے استحصال سے باز نہیں آتیں تو تباہی اور بربادی ان کا مقدر ہے کیونکہ یہی قرآنی اصول ہے۔ طاقتور افراد اور اقوام تو اپنی طاقت کے گھمنڈ میں سبق حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہیں لیکن حیرانگی اس بات پر ہے کہ کمزور اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماننے والی مسلمان اقوام کو اور ان کے سیاست دانوں اور حکمرانوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنی اقوام اور عوام کی حفاظت اور ان کے حقوق کی حفاظت و بازیابی کے لئے اللہ تعالیٰ کے قوانین و احکام کے نفاذ کی صورت میں سہارا نہیں لیتیں۔ شاید اس لئے کہ ہمارے سیاستدان اور حکمران قرآن و حدیث اور ان کی تعلیمات کی روشنی میں تاریخ کا مطالعہ نہیں کرتے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے لئے تاریخ اور دیگر مضامین اور موضوعات کا مطالعہ بہت ضروری ہے کیونکہ مطالعہ کی روشنی میں بہت سارے سیاسی و حکومتی امور کے بارے میں رہنمائی کے لئے بہت اہم نکات حاصل ہوتے ہیں۔ دنیا کے اہم ملک کے حکمران ' سفراء اور وزراء کاحال دیکھیں وہ جب کبھی اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہو جاتے ہیں تو اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی کتابیں لکھ کر قوم کی آنے والی نسلوں کے لئے بطور حوالہ چھوڑ جاتے ہیں جس سے لوگ درس وموعظت حاصل کرتے ہیں۔ کیا ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں میں ایسا کوئی ہے جو بر صغیر پاک و ہند ہی کی تاریخ پر گہری نظر رکھتا ہو۔ پڑوسی ملک ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت نہرو سونے سے پہلے پنڈت چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر کے ایک دو شاستر ضرور پڑھ کر سوتے۔ اپنے ملک کے بارے میں ''تلاش ہند '' جیسی کتاب لکھ کر امر کردیا کہ وہ تاریخ سے با خبر سیاستدان اور حکمران تھے۔ افلا طون کی ''دی ریپبلک'' سے لے کر میکاولی کی ''دی پرنس'' اور خود مسلمانوں کے الماوری کی احکام السلطانیہ'' وہ کتابیں جو اپنے وقت کے علماء نے اپنے حکمرانوںکے لئے لکھی تھیں اور حکمران ان سے استفادہ کرتے تھے۔
ہمارے علماء اور سکالرز آج بھی یہ فریضہ یعنی حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لئے اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل ضرورت اور اہمیت و افادیت کے حوالے سے کئی ایک مستند' دلچسپ او ر قابل عمل کتابیں لکھ چکے ہیں۔ لیکن کیا ہمارے حکمرانوں اور اہل سیاست نے ان کے نام بھی کبھی سنے ہیں۔ چند ایک ایسی کتابوں کے نام اور مصنفین لکھ لیتا ہوں شاید کسی سیاستدان و حکمران اور وزیر وغیرہ کے دل میں گدگدی پیدا ہو جائے اور مطالعہ کرلے جس کا یقینا نہ صرف ان کی ذات کو بلکہ ملک و قوم کو بھی بہت فائدہ ہوگا۔ سید ابوالاعلی مودودی کی ''اسلامی ریاست'' مولانا عبدالباقی حقانی کی ''اسلامی نظام سیاست و حکومت'' کا مطالعہ ہماری اشرافیہ و حکمران طبقات کا نظریہ حیات تبدیل کردیں گی۔ اگر خلوص نیت کے ساتھ کیا جائے۔ ورنہ آج کے پر آشوب حالات میں پاکستان کو بھنور اور بحرانوں سے نکالنے کے لئے ڈاکٹر اسرار احمد کی کتاب ''استحکام پاکستان'' کا مطالعہ تو ناگزیر ہے اور آخر میں سب سے بڑھ کر قرآن کریم کا خشیت قلب کے ساتھ مطالعہ اور اس سے ہدایت و رہنمائی سارے مسائل و مشکلات کا پائیدار حل ہے۔

متعلقہ خبریں