پھر وہی ہم ہیں وہی تیشئہ رسوائی ہے

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشئہ رسوائی ہے

ایک وقت تھا کہ پاکستان میں امریکی صدارتی انتخابات میں عوامی سطح پر بہت زیادہ دلچسپی دیکھنے میں آتی تھی ۔ اگرچہ یہ دلچسپی پوری دنیا میں دیکھی جا سکتی ہے مگر پاکستان میں بالخصوص اس لیئے زیادہ ہوتی تھی کہ اس دورمیں امریکہ کی دونوں جماعتیں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک میں سے پاکستان کے ساتھ دوستی اور تعلقات کے حوالے سے اتفاق اور عدم اتفاق کی ایک دوڑ لگی رہتی اس لئے جس جماعت کے بارے میں معلوم ہوتا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ وسعت دینے پر کونسی پارٹی آمادہ ہے تو پا کستان کے اندر اس جماعت کے حوالے سے نرم گوشہ پیدا ہوتا اور لوگوں کی یہی خواہش ہوتی کہ وہی پارٹی جیتے جس کا امید وار پاکستان کیلئے دل میں ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے حالانکہ حقیقت تو یہی ہے کہ امریکہ میں کوئی بھی پارٹی جیتے اس کا منتخب صدر صرف اور صرف امریکی مفادات کو ہی ملحوظ خاطر رکھتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ امریکہ ایسی پالیسیوں پر عمل پیر ا رہتا ہے جو صرف امریکی عوام کے مفاد کے تابع ہوں اور یہی وہ مفادات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے امریکی پالیسیاں تبدیل ہوتی ہیں اس کا نظارہ پاکستانی قوم گزشتہ چند برسوں کے دوران بار ہا دیکھ چکی ہے جب امریکہ پاکستان تعلقات میں کئی بار اتار چڑھائو آیا ۔ ضرورت پڑنے پر امریکہ نے پاکستان کو سر آنکھوں پر بٹھا یا اور ضرورت پوری ہوئی تو توتے کی طرح آنکھیں پھیرنے میں ایک لمحہ کی دیر نہیں کی اور پاکستان کے جس ایٹمی پروگرام کی وجہ سے پاکستان کے ایک منتخب وزیر اعظم کو ہنر ی کسنجرنے عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی دی اسے عملی جامہ پہنا نے کا بندوبست کر لیا ، پھر ضرورت پڑی تو افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دینے کیلئے خزانوں کے منہ کھول دیئے اور اسی جوہری پروگرام سے صرف نظر بھی کئے رکھا ۔کہنے کا مقصدیہ ہے کہ امریکہ پاکستان تعلقات پر ہمیشہ مفادات کا غلبہ رہا ہے ، امریکہ استعمال کرتا رہا ہے ہم اس کے مفادات کیلئے استعمال ہو کر اسی بات پر خوش رہتے تھے کہ امریکہ ہمارا دوست ہے ، حالانکہ ایسا کبھی نہیں تھا ، یہ تعلقات صرف اور صرف یکطرفہ مفاد پرستی سے مملورہے اور امریکہ کو جب ضرورت پڑی تو وہ ہمیں چمکار کر اپنے قریب کرتا رہا ، مقصد پورا ہوتے ہی ٹشو پیپر کی طرح توڑ مروڑ کر پھینک دیتا تھا ۔ ایسی صورت میں ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ آخر ہم ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانے پر خوشی سے بغلیں کیوں بجا رہے ہیں ۔ جیو پولیٹیکل سٹریٹجی کے تحت جب امریکہ کو یہ یقین ہو گیا کہ جنو بی ایشیاء کے خطے میں پاکستان سے زیادہ بھارت کے ساتھ تعلقات اس کے مفادات کیلئے سود مند ہیں تو اس نے با لا خر بھار ت کو ایک خاص کرداردینے کا فیصلہ کیا ۔ ایک تو بھارت ابھرتی ہوئی طاقت ہے ، دوسرا یہ کہ بھارت امریکہ اور دیگر مغربی دنیا کیلئے ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے جسے ناراض کرنے کا خطر ہ یہ صنعتی ممالک کسی طور مول نہیں لے سکتے ، ا س لیے وہی امریکہ جوکبھی کشمیر کے مسئلے پر بھارت کی پالیسیوں کا سب سے بڑا نا قد ہو ا کرتا تھا ، اب کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی بنا ہو ا ہے حالانکہ مشرقی تیمور کو علیحدہ ریاست بنانے میں امریکہ اور دیگر مغربی اقوام نے نہایت اہم کردار ادا کیا جبکہ کشمیر کی آزادی کیلئے انہی ممالک کو اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل کی قرار دادیں تک یاد نہیں آرہی ہیں اور مظلوم کشمیری عوام کے قتل عام کو آنکھیں بند کر کے برداشت کیا جارہاہے ، اور اسی کی آڑ میں آزادی کشمیر کو دہشت گردی سے موسوم کر کے اس حوالے سے پاکستان پر دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے الزامات لگا کر اسے دنیا میں تنہا کرنے کی اصل سر پرستی میں امریکہ بھارت کاپشتبان ہے ۔ جبکہ بھارت کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نہایت چالاکی سے مسلمانوں کے خلاف امریکی سرحدوں کو بند کرنے کا نعرہ لگا کر ایک تیر سے زیادہ شکار کرنے کی حکمت عملی اختیار کرلی ہے ، اس طرح اس نے امریکہ میں مقیم بھارتی باشندوں کی ہمدرددیاں سمیٹ لی ہیں ، جبکہ پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک کو بھی یہ پیغام دے دیا ہے کہ بر سرا قتدار آکر ٹرمپ امریکی مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیں گے یوں وہ دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ 

ڈر ہے کہ مجھے آپ بھی گمراہ کریں گے
آتے ہیں نظر آپ بھی کچھ راہنما سے
ان حقائق کی روشنی میں جب ہم پاکستان کے عوام کی امریکی انتخابات میں دلچسپی کا جائزہ لیتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ آخر ہمیں ہوش کب آئے گا یعنی یہ انتخابا ت ہلیری کلنٹن جیتے یا ڈونلڈ ٹرمپ ، ہمیں اس سے کیا فرق پڑے گا کہ بقول شاعر ''اپنی بلاسے بوم بسے یا ہمارہے ''ہمیں خوش ہونے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ امریکی وائٹ ہائوس میں کوئی آکر رہے اس نے پاکستان کے ساتھ تعلقات صرف اور صرف امریکی مفادات کے تحت ہی رکھنے ہیں۔ ہماری ضرورت پڑے گی تو ڈالروں کے بریف کیس بھر بھر کر ہم پر نچاور کئے جاتے رہیں گے اور اگر ہماری کوئی اہمیت نہ ہوگی تو امریکیوں کے لہجے کی تلخی ہمارا مقدر بنے گی ، اور انگریز ی محاورے کے مطابق پاک امریکہ تعلقات پر کیرٹ اینڈ سٹک یعنی گاجر اور چھڑی کے سائے لہراتے رہیں گے ۔ اس لیے ہمیں خوش ہونے کے بجائے یا کسی ایک امیدوار سے بہتری کی امید میں ا س کی کامیابی کے لیے سوچنے کی بجائے تجھ کو پرائی کیا بڑی اپنی نبیڑ تو کے فلسفے پر عمل پیرا ہوکر خاموشی سے یہ سارا تماشا دیکھنے پر ہی اکتفا کرنا چاہئے ۔ ہم بلاوجہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بن کر کیوں بھنگڑے ڈالنے کی کوششیں کرتے ہیں ۔
کوئی مشتری ہوتو آواز دیدے
میں کم بخت جنس ہنر بیچتاہوں

متعلقہ خبریں