انسانیت کے دشمن

انسانیت کے دشمن

انسانی زندگی کو متاثر اور بدترین نتیجہ خیز دہانے تک پہنچانے والے عناصر میں منشیات کا غیر معمولی دخل ہے، منشیات کا استعمال انسا نی جسم و روح کیلئے بگاڑ و فساد کا سبب بنتاہے بلکہ بسااوقات آدمی کی جان بھی چلی جاتی ہے ،اس بنا پر منشیات کا استعمال کسی بھی معاشرے میں پسندیدہ عمل نہیں رہا ،اکثرممالک میں منشیات کے خلاف مہم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔وہ کون سے ممالک ہیں جہاں وافر مقدار میں منشیات کی پیداوار ہوتی ہے اور یہ ہوت کا سامان پوری دنیا کے انسانوں تک کیسے پہنچتا ہے،اس دھندے کی پشت پناہی کون کر رہاہے اور در پردہ اس گھناؤنے کاروبارکو تحفظ کون فراہم کررہاہے؟مغربی میڈیا کامسلمانوں کے خلاف تعصب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے مسلمانوں خصوصاً پا کستان کی چھوٹی سے چھوٹی خامی کوبھی بڑھا چڑھا کرپیش کیااور بعض جرائم کومحض مسلمانوں کے ساتھ مخصوص کیاجبکہ ان جرائم کے اصل مراکز کو صاف ستھرا دکھایاگیا۔مثال کے طور پرمنشیات کی تیاری میں اسمگلنگ ،خرید وفروخت اور استعمال کو محض افغانستان اورپھر پاکستان کے ساتھ منسلک کیاگیاجبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف خطہ جنوبی ایشیا میں ہی نہیں پوری دنیامیں بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ نہ صرف منشیات تیارہوتی ہے بلکہ ان کا استعمال اورجدید دنیا کواسمگلنگ وفروخت کامرکز بھی بھارت ہے ۔مگر چونکہ دنیا کی 7ارب سے زائد آبادی کا خون چوسنے والی عالمی استعماری ادویہ سازی کی صنعت کو سب سے زیادہ خام مال بھارت سے فراہم کیاجاتاہے لہٰذااسکے منشیات کے جرائم کوسامنے نہیں لایاگیااورجوجرائم ریکارڈ پر موجود ہیں ان کا ڈنکانہیں بجایاگیا۔سی آئی اے کی ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا حوالہ یعنی منی لانڈرنگ کا نظام بھارت سے آپریٹ ہوتاہے ۔سی آئی اے کی فیکٹ بک کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ افیون کی قانونی پیداوار اوربرآمد بھارت کرتاہے۔ لیکن اس اجازت یافتہ پیداوار کی آڑ میں کس قدر غیر قانونی پیداوار اور منشیات تیار کی جاتی ہے اس کا کوئی ریکارڈ نہیں تاہم دنیا میں منشیات کی فروخت اور اسمگلنگ کی جنت گولڈن ٹرائی اینگل بھارت ،برما اورفلپائن کی ساحلی پٹیاں ہیں ،خود برما میں جہاں 2006میں افیون اورمنشیات کی اسمگلنگ جو25000ٹن تھی ،2014میں بڑھ کر63800ٹن ہوگئی ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں بھارت میں منشیات کی روک تھام کی کارروائیوں میں خطرناک حدتک کمی ہوئی ہے ۔خود بھارتی نارکو ٹکس بورڈ کے مطابق2012میں پکڑی جانے والی ہیروئن ،مارفین ،افیون حشیش اوردیگر غیرقانونی کیمیکلز کی پکڑے جانے کی مقدار کئی گنا کم ہوگئی ہے۔اس تمام کام میں بھارتی حکومت پوری طرح شریک ہے کیونکہ ایک جانب انہی غیرقانونی کاروبارسے وابستہ سمگلرز بھارتی سیاست کے سب سے بڑے انوسٹرز (سرمایہ کار)ہیں تودوسری جانب اس اسمگلنگ کوبھارتی حکومت سیاسی مقاصد کیلئے بھی استعمال کرتی ہے ۔مثلاً افغانستان میں تیار ہونے والی ہیروئن کیلئے درکار کیمیکلزبشمول ایسٹک ان ہائیڈرائیڈ بھارت سے ہی اسمگل کیا جاتاہے جبکہ افغانستان سے تیار ہونے والی ہیروئن کا زیادہ ترحصہ بھارت کے راستے جدید دنیاکواسمگل کیا جاتاہے ۔بھارت کی منشیاتی جارحیت کاسب سے بڑا شکار ملک چین ہے جہاں آنے والی منشیات کا 80%سے زائدبھارت اوربرماسے جاتاہے اور برما میں لگی ہیروئن بنانے کی بہت سی فیکٹریاں بھارتی اسمگلرز کی ہیں جو کسی بھی عالمی مانیٹرنگ سے ماورا ہوکر اس گولڈن ٹرائی اینگل سے مستفید ہوتے ہیں ۔ چین میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف سخت ترین سزاؤں کے باوجود 2014ء میں 762ٹن ہیروئن پکڑی گئی جس کابیشتر حصہ بھارت اوربرما سے تیار ہوکرچین پہنچایاگیا تھا۔منشیات سے کمائی اتنی بڑی دولت کی منتقلی کیلئے ہی بھارت دنیاکے مسلمہ طورپر سب سے بڑے حوالے کے دھندے(منی لانڈرنگ سسٹم)کاحامل ہے جس کے ذریعہ نہ صرف بھارتی سیاستدانوں ،فوجی جرنیلوں اورصنعتکاروں کی بڑی بڑی رقوم بیرونِ ملک بھجوائی جاتی ہے بلکہ غیرقانونی دھندوں کا پیسہ بھی اسی حوالہ سسٹم کے ذریعہ ملک سے باہر چلاجاتاہے ۔ افسوسناک امریہ ہے کہ اسی حوالہ سسٹم کے ذریعہ پاکستان سمیت پڑوسی ممالک میں دہشتگردی کیلئے غیر قانونی سرمایہ فراہم کیاجاتاہے کیونکہ اس حوالہ نظام کی کڑیاں خود پاکستانی منشیات کے اسمگلروں تک پہنچتی ہیں۔پاکستان کے سیکورٹی اداروں اورحکومت کے پاس ایسے سینکڑوں شواہد موجود ہیں جن کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کوبھارتی غیرقانونی سرمایہ فرا ہم کیاجاتاہے ۔بھارت ایک عرصہ سے وسیع پیمانے پر پوری دنیا کے انسانوں میں موت کا سوداگر بنا ہوا ہے ۔بدقسمتی سے بھارت کی اس خفیہ منشیات کی جارحیت کوکبھی بے نقاب نہیں کیاگیا بلکہ الٹابھارت سے دوستی اورمعمول کے تعلقات بحال کرنے پرزوردیا جاتاہے ۔

متعلقہ خبریں