علامہ محمد اقبال ،عہد ساز شخصیت

علامہ محمد اقبال ،عہد ساز شخصیت

21اپریل ہو یا 9نومبر اقبال کی یاد ستاتی ہے ۔سیالکوٹ کی تاریخی اہمیت ہمیشہ کے لئے امر ہو گئی کہ اس میں مسلمانوں کو بیدار کرنے والا ایک عظیم ''مرد قلندر''اقبال پیدا ہوا۔بقول مولانا ظفر علی خان 

اقبال جس کا نام ہے ورد زبان خلق
نازاں ہے اس کی ذات پہ خاک سیالکوٹ
علامہ اقبال عالم اسلام کی عظیم ترین ہستی کا نام ہے ایسی ہستی صدیوں میں پیدا ہوا کرتی ہے ۔اگر یہ کہا جائے اس مفکر ،مدبر ،انقلابی،نظریاتی شاعر کی درددل سے لبریز عارفانہ،مجددانہ ،فقیہانہ شاعری سے برصغیر بالخصوص پاکستان نے کوئی رہنمائی ،درس عبرت نہیں سیکھی تو بے جا نہ ہوگا ۔اگر دوسرے شعراء کے اشعار پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلے گا کہ ماسوائے چند ایک کہ کثیر الجہتی شاعر نہیں تھے ۔ قدرت نے اقبال کے دل و دماغ میں امت مسلمہ سے بے پناہ،حد درجہ عشق و محبت ،جنون کی حد تک مسلمانوں کی اصلاح کا جذبہ صادق موجزن کر رکھا تھا ۔ اقبال کی شاعری میں عشق رسولۖ ،عشق قرآن،مومن،خودی ، فقر، شاہین،عشق،علم و ومل کا عنصر غالب ہے جس نے ادب کو نئی اصطلاحات سے متعارف کرواکر اسلام کی وکالت اور مغربی تہذیب کا بڑی شدو مد سے رد کیا ہے ۔علامہ محمد اقبال مسلمانوں کے لئے ایک ایسی شخصیت ہیں جو ہمیشہ قابل عزت اور قابل احترام تھی ،ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔اقبال کی شاعری گوناں گو پہلو اور ہمہ گیریت مسلمان معاشرے کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کے ذوق کے مطابق متوجہ کرتی ہے ۔ڈاکٹر اقبال بر صغیر کی ان عظیم اور جلیل القدر ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس خطے کے مسلمانوںکو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کے لئے جداگانہ قومیت کا احساس اجاگر کیا اور ایک الگ وطن کا تصور دیا ۔اقبال خوابیدہ قوم کو خواب گراں سے جھنجوڑ کر جگانا چاہتے تھے اور مسلمانوں میں یک رنگی اور یگانگت کے خواہاں تھے ۔اقبال کی یہ دلی خواہش تھی کہ مسلمان اخوت کے رشتہ میں منسلک ہو کر ایک لڑی کی صورت میں یکجا ہو جائیں اور یہ آپ کی روح کی پکار تھی!
پرونا ایک ہی تسبیح میں ان کے بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے تو اس مشکل کو آسان کر کے چھوڑونگا
انہوں نے انگریز وں اور ہندوئوں کی سیاسی اور اقتصادی غلامی میں جکڑے ہوئے مسلمانان ہند کی کسمپرسی اور کم مائیگی کا احساس کرتے ہوئے ان کے لئے ایک الگ خطہ ارضی کی ضرورت محسوس کی اور صرف اس پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کی الگ مملکت کا پورا نقشہ پیش کیا اور ایک الگ ریاست ''پاکستان'' کا تصور پیش کیا ۔اور اپنے نظریے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ :''اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ،یہ دین اسلام انسانوں کے سیاسی ،معاشرتی ،معاشی،ثقافتی مسائل کا مکمل حل فراہم کرتا ہے ۔'' پھر ایک دردمند مسلم لیگی قائد کی حیثیت سے قائداعظم محمد علی جناح کو جو انگریزوں اور ہندوئوں کی غلامی میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کی حالت زار سے مایوس ہو کر مستقل طور پر لندن کوچ کر گئے تھے ،اقبال نے ہی خط لکھ کر واپس آنے اور اسلامیان ہند اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کے لئے قائل کیا۔چنانچہ قائداعظم نے ہندوستان واپس آکر علامہ اقبال کی معیت اور گائیڈ لائن میں مسلمانان برصغیر اور انگریزوں کی سیاسی غلامی کے ساتھ ساتھ متعصب ہندو ئوںکی غلامی سے نجات کے لئے جدوجہد کا آغاز کیا ۔تاہم علامہ اقبال کی عمر عزیز نے وفا نہ کی اور وہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر برصغیر کے مسلمانوں کی آزاد اور خودمختار مملکت کے لئے 23مارچ 1940ء کو منظور ہونے والی قراردار لاہور کی صورت میں اسلامیان ہند کی واضح منزل نظر آنے سے دو سال قبل ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کے نصب العین کے واضح الفاظ میں وضاحت کر دی تھی ۔علامہ اقبال نے مسلمانوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بھی آزادی کی دولت ،نعمت ،اذیت اور دکھ سے روشناس کروا دیا تھا ۔،اقبالکے بعد قائد اعظم نے خطبہ الہٰ آباد میں ان کے پیش کئے گئے تصور پاکستان کو قرارداد لاہور کی منظوری کے بعد سات سال کے مختصر عرصے میں اپنی پر امن جمہوری جدوجہد کے ذریعے اور اسلامیان ہند کی معاونت اور ان کے ووٹ سے حقیقت کے قالب میں ڈھال دیا ۔اس تناظر میں اقبال لیڈر شناس بھی تھے جنہیں مکمل ادراک ہو چکا تھا کہ محمد علی جناح کی زیر قیادت برصغیر کے مسلمانوں کی منظم تحریک سے ہی ان کے لئے الگ وطن کے حصول کاخواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔
اقبال کی شاعری پر غور و فکر کرنے سے پاکستان اپنی نظریاتی اساسی منزل پا سکتا ہے جو آج تک حاصل نہیں کی جا سکی ۔اقبال کی شاعری ہر دور کے لئے راہ حق کی نشان منزل ہے ۔اب جبکہ مسلمانان پاکستان بحرانوں کا شکار ہیں ،ہر طرف سے دشمنوں نے پوری طاقت منصوبوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر ہمیں گھیر لیا ہے ،اس حصار کو توڑنے کے لئے قوم کے ہر فرد کو علامہ اقبال کی شاعری سے رہنمائی حاصل کرنا ہو گی آج اقبال کے یوم پیدائش پر خود سے عہد کریں کہ ہمیں تاریخ میں ابد تک زندہ رہنا ہے نام نہیں مقام پیدا کرنا ہے ۔
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ضرب ہے کاری

متعلقہ خبریں