ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب

امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ایک تاریخی انتخابی مہم کے بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں اپنی مخالف امیدوار ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر ملک کے 45ویں صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

کئی ماہ تک رائے شماری کے جائزوں میں ہلیری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل تھی تاہم الیکشن کے دن متعدد اہم سوئنگ ریاستوں میں کامیابی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔

ٹرمپ نے الیکشن میں فلوریڈا، اوہایو، پینسلوینیا اور شمالی کیرولائنا جیسی متذبذب ریاستوں میں کامیابی حاصل کی اور وائٹ ہاؤس میں آئندہ چار برس کے لیے اپنی جگہ پکی کر لی۔

ٹرمپ نے وسکونسن میں فتح کے نتیجے میں 270 الیکٹورل ووٹوں کا وہ ہدف پار کیا جو امریکی صدر بننے کے لیے لازمی ہے۔

فتح کے بعد نیویارک میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''ابھی ابھی ہلیری کلنٹن نے فون کر کے ہمیں، ہم سب کو مبارکباد دی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک متحد قوم بن جائیں۔'

امریکہ کے نومنتخب صدر نے ہلیری کو ایک سخت مخالف امیدوار تسلیم کیا اور کہا کہ 'ہلیری کلنٹن نے بہت سخت مقابلہ کیا اور میں امریکہ کے لیے ان کی کوششوں کی قدر کرتا ہوں۔'

انھوں نے کہا کہ 'میں نے شروع ہی سے کہا تھا کہ یہ صرف ایک انتخابی مہم نہیں بلکہ تحریک تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا جو چاہتے تھے کہ حکومت لوگوں کی خدمت کرے۔'

انھوں نے کہا کہ 'ہم مل کر کام کریں گے اور امریکہ کو عظیم بنائیں گے۔'

'میں نے زندگی بھر بزنس کیا ہے اور میں نے امریکہ میں زبردست پوٹینشل دیکھا ہے۔ ہر امریکی توجہ کا مرکز ہو گا۔ ہم نے اپنے اندرونِ شہروں اور شاہراہوں، ہسپتالوں اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائیں گے اور لاکھوں لوگوں کو روزگار کا موقع فراہم کریں گے۔'

انھوں نے اس موقعے پر انتخابی مہم کے دوران دوسرے ملکوں کے بارے میں اپنے رائے میں اعتدال لاتے ہوئے کہا کہ 'ہم سب ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں گے جو ہم سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'ہم سب ملکوں کے ساتھ شراکت کریں گے نہ کہ مقابلہ بازی۔'

ٹرمپ نے اس موقعے اپنے والدین، بہن بھائیوں اور بچوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے رپبلکن پارٹی کے اہم ارکان کا بھی شکریہ ادا کیا جو اس مہم میں ان کے ساتھ تھے۔

ٹی وی سٹار، ریئل اسٹیٹ ٹائیکون اور سیاسی میدان میں نووارد ڈونلڈ ٹرمپ نے جب گذشتہ سال صدارتی امیدوار بننے کا اعلان کیا تو ان کا شدید مذاق اڑایا گیا اور انھوں نے منگل کو رات گئے تقریر میں کہا کہ یہ سال ان کے لیے انتہائی مشکل تھا۔

ٹرمپ نے 28 ریاستوں میں کامیابی حاصل کی جن میں پینسلوینیا اور وسکونسن جیسی ریاستیں بھی ہیں جہاں سے بالترتیب 1988 اور 1984 سے کوئی رپبلکن امیدوار نہیں جیتا تھا۔

ٹرمپ کی کامیابی کے ساتھ ساتھ رپبلکنز نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں بھی اکثریت برقرار رکھی ہے۔

ادھر 69 سالہ ہلیری کلنٹن کی نظر امریکہ کی پہلی خاتون صدر بننے پر تھی مگر اس الیکشن میں ناکامی کے بعد انھوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

اب تک کے نتائج کے مطابق ہلیری کلنٹن 50 میں سے صرف 18 ریاستوں میں کامیاب ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں