'گذشتہ پانچ سال ریکارڈ شدہ تاریخ کے گرم ترین سال رہے'

'گذشتہ پانچ سال ریکارڈ شدہ تاریخ کے گرم ترین سال رہے'

موسمیات کی عالمی تنظیم ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے تازہ اعدادوشمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق سنہ 2011 سے 2015 کے دوران پانچ سال دنیا کے گرم ترین سال رہے ہیں۔

یہ رپورٹ عالمی موسمیات پر مراکش میں ہونے والےمذاکرات میں جاری کیے گئے ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ درجۂ حرارت کے اضافے میں انسانی سرگرمی کا بہت دخل رہا ہے۔

اس میں یہ کہا گہا ہے کہ بعض مطالعے میں یہ پایا گیا ہے کہ فوسل کے جلنے سے شدید گرمی میں اضافے کے امکانات دس گنا یا اس سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرمی میں اضافے کے سبب مشرقی افریقی ممالک میں ان پانچ برسوں کے دوران ڈھائی لاکھ سے زیادہ اضافی اموات ہوئی ہیں جبکہ انڈیا اور پاکستان میں گرمی کی لہروں میں 4100 سے زیادہ افراد کی موت ہوئي ہے۔

اس رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ رواں سال گرم ترین سال کا ریکارڈ توڑ دے گا۔ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران عالمی درجۂ حرارت کے طویل مدتی اوسط میں 0.57 سیلسیئس کا اضافہ رہا ہے۔ یعنی یہ اضافہ سنہ 1961 سے 1990 کے درمیان درجۂ حرارت کے اوسط سے زیادہ ہے۔ افریقہ کے علاوہ یہ پانچ سال تمام براعظموں کے لیے گرم ترین سال رہے ہیں۔

ان پانچ سالوں کے دوران یورپ کا درجۂ حرارت معمول سے ایک سیلسیئس زیاد رہا ہے۔ یہی حال ایشیا کے روسی فیڈریشن علاقے اور سہارا اور خطۂ عرب کے زیادہ تر علاقوں، جنوبی افریقہ کے بعض حصوں، امریکہ کے جنوب مغربی علاقوں اور برازیل کے اندرونی حصوں کا رہا ہے۔ جبکہ روس کے آرکٹک ساحل پر یہ اوسط سے تین ڈگری سیلسیئس زیادہ رہا ہے۔

ڈبلیو ایم او کے سیکریٹری جنرل پیٹری ٹالس نے کہا: پیرس معاہدے کا ہدف عالمی حدت میں اضافے کو دو ڈگری سیلسیئس کے نیچے رکھنا ہے اور اس صنعتی دور سے ڈیڑھ سیلسیئس زیادہ رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔

رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اوسط درجۂ حرارت پہلے ہی ایک ڈگری سیلسیئس بڑھ چکا ہے۔ ہمارے پاس ابھی صرف پانچ گرم ترین سال کے ریکارڈ ہیں جبکہ سنہ 2015 ان میں گرم ترین رہا ہے جبکہ یہ ریکارڈ سنہ 2016 میں ٹوٹنے والا ہے۔

متعلقہ خبریں