ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی وعدے اور ترجیحات

ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی وعدے اور ترجیحات

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ان اقدامات کا عندیہ دیا ہے جو وہ پہلے سو دنوں میں کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے متنازع اور سخت گیر خیالات کی عکاس کرنے والے بیانات خاص طور پر وہ جو امیگریشن پالیسی سے متعلق تھے ان کی وجہ سے نہ صرف پورے ملک میں ایک ہیجان اور بے چینی پیدا ہوئی بلکہ ان کی اپنی جماعت میں بھی اضطراب بڑھا اور لوگ ان سے دور ہٹے۔

لیکن ان کا ’امریکہ سبے سے آگے‘ کا نعرہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا اور خاص طور پر ایسے امریکی شہریوں کو بہت پسند آیا جو موجودہ نظام سے نالاں تھے اور محرومی کے احساس کا شکار تھے۔

اس پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ سے کیا توقعات وابستہ ہیں۔

گزشتہ ماہ امریکی ریاست پنسلوینیا میں گیٹزبرگ میں اپنی ایک تقریر میں انھوں نے اپنی صدارت کے پہلے سو دنوں میں کچھ اقدامات کرنے کے وعدے کیے تھے۔

ٹرمپ کے ان وعدوں اور دیگر بیانات کی بنیاد پر ان کی ترجیحات اور ان سے وابستہ توقعات کچھ یوں ہیں۔

پہلے سو دن:
غیر قانونی اور جرائم پیشہ بیس لاکھ غیر ملکیوں کو ملک سے بیدخل کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
ان ملکوں کے باشندوں کے لیے ویزا سے استشنیٰ ختم کرنا جو اپنے شہریوں کو واپسی لینے پر تیار نہ ہوں۔
اوباما کے ہر صوابدیدی اقدام کی تنسیخ
امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کے حکام پر کسی لابی کا حصہ بننے پر پابندی
کانگریس کے ارکان پر متعدد بار منتخب ہونے پر قدغن
اقوام متحدہ کے ماحول میں تبدیلی سے متعلق تمام پروگراموں کے لیے فنڈ کی فراہمی کی منسوخی
اس پیسے کو امریکہ میں سماجی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا
اور چین کو کرنسی کی ہیرا پھیری کرنے والا ملک قرار دینا۔

پہلے سو دنوں کے علاوہ بہت سے اہم مسائل اور معاملات پر ان کی ترجیحات کیا ہو سکتی ہیں اس کا اندازہ بھی ان کے بیانات کی روشنی میں لگایا جا سکتا ہے۔

میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے بارے میں تو ہم سب جانتے ہیں لیکن اس کے علاوہ امریکہ کے نو منتخب صدر نے کیا وعدے کیے۔

امیگریشن:
ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی بات کی تھی تاہم انھوں نے کہا کہ لندن کے پہلے پاکستانی نژاد مسلمان میئر صادق خان کو اس پاپندی سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایسے ممالک جہاں دہشت گردی جڑیں پکڑ چکی ہے وہاں سے امریکہ آنے والوں پر فوری پابندی عائد کر دینی چاہیے تاوقتیکہ کوئی ایسا طریقہ کار وضع کیا جا سکے جس سے دہشت گردوں کو شناخت کیا جا سکے۔

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کی جانی چاہیے اور اس دیوار کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات میکسیکو سے وصول کیے جانے چاہیں۔

غیر قانونی امیگریشن کو روکنا:
امیگریشن اور کسٹم کے عملے میں تین گنا اضافہ کیا جانا چاہیے۔

امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ میکسیکن باشندوں کو ان کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں سمیت فوری طور پر ملک سے نکال دینا چاہیے اور اس کا آغاز ان لوگوں سے کیا جانا چاہیے جو جرائم میں ملوث ہیں۔

تجارت:
بحرلکاہل کے پار تجارتی شراکتوں سے امریکہ کو نکل جانا چاہیے۔

شمالی امریکہ کی آزاد تجارت کے معاہدے (نارتھ امیرکن فری ٹریڈ ایگریمنٹ) پر از سر نو مذاکرات اور اگر امریکہ کو اپنی پسند کا معاہدہ نہیں ملتا تو اس معاہدے کو ختم کر دیا جائے۔

چین سے ہونے والی برآمدات پر ڈیوٹی میں 45 فیصد اضافہ کر دیا جائے گا۔

امنِ عامہ:
اس بارے میں انھوں نے کہا تھا کہ :'جرائم اور تشدد بہت جلد ختم ہو جائیں گے۔'

سپریم کورٹ میں نئے جج تعینات کیے جائیں جو زندگی کے حق میں ہوں اور ان کا جھکاؤ قدامت پسند خیالات کی طرف ہو اور جو دوسری ترمیم کی پاسداری کریں۔

اچھے اور دیانتدار شہری اپنی حفاظت کے لیے کس قسم کے ہتھیار خرید سکتے ہیں اس معاملے میں حکومتی مداخلت بند کی جانے چاہیے۔

بندوقیں رکھنے والے قانون پسند شہریوں کو مزید بااختیار کر کے ملک میں بندوقوں سے ہونے والے تشدد کو روکا جائے گا۔

ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی وکیل مقرر کیا جائے اور انھیں جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دی گئی۔

صحت عامہ:
اوباما کیئر یا سستے علاج کے قانون کو ختم کیا جائے گا۔

تمام ریاستوں کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ اسقاط حمل کے قوانین کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ ٹرمپ کے بقول اسقاط حمل کی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے سرکاری امداد دینا لوگ کے ضمیر کی ذلت ہے۔

ان ڈاکٹروں کو سزائیں ہونی چاہیں جو غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کرتے ہیں۔ ایک موقع پر انھوں نے اسقاط حمل کرانے والی خواتین کو بھی سزائیں دینے کی بات کی تھی لیکن بعد میں وہ اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹ گئے۔

امریکہ میں ذہنی امراض کے علاج کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی وعدہ کیا گیا جس میں نقص ٹرمپ کے خیال میں سرِ عام فائرنگ کے واقعات کی وجہ بنتا ہے۔

معیشت اور روزگار:
اصلاحات کے ذریعے روزگار کے کروڑوں نئے مواقعے پیدا کرنا۔

ٹیکس کی سب سے اوپر کی سطح کو39.6 فیصد سے کم کر کے 33 فیصد پر لانا۔

کارپورٹ ٹیکس کو35 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد پر لانا۔

درمیانی آمدنی والے امریکیوں اور محنت کشوں کے لیے بھی ٹیکسوں میں بڑے پیمانے پر کمی کرنا۔

لوگوں کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے اوسط اخراجات اپنے ٹیکسوں میں سے کاٹنے کی اجازت دینا جن میں ایسے والدین بھی شامل ہوں گے جو کام نہیں کرتے۔

دفاع اور قومی سلامتی:
روس سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اور روس اپنے اختلافات ختم کر کے دولت اسلامیہ نامی تنظیم کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کرتے ہیں تو یہ بہت اچھا ہو گا۔

امریکہ کی 'کمزور فوج' کی تعمیر نو کے لیے نیا بجٹ پیش کیا جائے گا۔

جن ممالک کے امریکہ سے دفاعی معاہدے ہیں ان کو اس کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔

دولت اسلامیہ نامی تنظیم کو تباہ اور ختم کرنے کے لیے جارحانہ اور مشترکہ فوجی آپریشن کیے جانے چاہیں۔

دولت اسلامیہ کی مالی امداد بند کرنے کے لیے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعاون

دولت اسلامیہ کا پروپیگنڈہ کا توڑ کرنے کے لیے ان کے خلاف سائبرجنگ شروع کی جانی چاہیے

امریکہ کی سائبر کمزوریوں کا جائزہ لینے کے لیے فوری کارروائی کا حکم کیا جایے۔

جوہری ہتھیار:
شمالی کوریا سے جوہری ہتھیار ختم کرنے کے لیے مذاکرات جو کہ تنہائی کا شکار ملک کے بارے میں امریکی پالیسی میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہو گی۔

ماحولیاتی تبدیلی:
گزشتہ سال پیرس میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے والے عالمی ماحول کے بارے میں معاہدے پر نظر ثانی کا عندیہ۔

تعلیم:
یکساں قوم پروگرام جس کے تحت یہ تعین کیا جاتا ہے کہ کسی گریڈ میں بچوں کو کیا پڑھایا جائے اس کو ختم کیا جائے اور نصاب اور تعلیمی معیار کے بارے میں فیصلہ مقامی سطح پر چھوڑ دیا جائے

متعلقہ خبریں