ٹرمپ کو مبارکبادیں، کچھ دلی اور کچھ محتاط

ٹرمپ کو مبارکبادیں، کچھ دلی اور کچھ محتاط

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب ہونے پر دنیا کے رہنماؤں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انتخابات کے نتائج کی تصدیق ہوتے ہی مختلف ممالک کے رہنماؤں نے مبارکباد کے پیغامات جاری کرنا شروع کر دیے جن میں کچھ پیغامات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کھلے دل سے مبارکباد دی گئی جبکہ کچھ ایسے تھے جن میں قدرے محتاط رویہ نظر آیا۔

روس
روسی ایوانِ صدر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک پیغام ارسال کیا ہے جس میں انھوں نے ’روس اور امریکہ کے تعلقات کو بحران کی کیفیت سے نکالنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی امید ظاہر کی۔‘

صدر پوتن کا کہنا تھا کہ عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اور عالمی سطح پر سکیورٹی چیلنجوں کے موثر جواب کے لیے ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعمیراتی بات چیت کی ضرورت ہے جو کہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہو۔

چین
چین کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق چین کو امید ہے کہ وہ نئی امریکی حکومت کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنائے گا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان لُو کانگ کا کہنا تھا کہ ’چین اور روس کے تجارتی تعلاقت میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے۔ امریکہ اور چین دنیا کی دو بڑی اور سنجیدہ طاقتیں ہیں اور وہ دونوں معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کریں گے۔‘

’ ہم نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور دونوں ممالک کے مستقل اور مستحکم تعلقات کو مزید آگے بڑھائیں گے جو دونوں ممالک کے عوام اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔‘

برطانیہ
برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات خصوصی‘ ہیں۔ ٹریزا مے کا کہنا تھا کہ وہ پُرامید ہیں کہ مسٹر ٹرمپ کی کامیابی کا مطلب ’آزادی، جمہوریت، اور کاروبار‘ جیسی مشترکہ اقدار کا تسلسل ثابت ہو گی۔

برطانوی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم تجارت، سکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں قریبی ساتھی ہیں اور رہیں گے۔ میں آئندہ برسوں میں دونوں اقوام کی سکیورٹی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کام کروں گی۔‘

انڈیا
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹس میں ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'ہم ٹرمپ کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران انڈیا کے بارے میں خیالات کو سراہتے ہیں اور امریکہ اور انڈیا کے تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے خواہاں ہیں۔'

’ہم بھارت اور امریکہ کے باہمی تعلقات کو نئی بلندی تک لیجانے کے لیے آپ کے ساتھ قریبی تعاون کے منتظر ہیں۔‘

جاپان
اپنے مبارکبادی پیغام میں وزیر اعظم شنزو ایبے نے امریکہ اور جاپان کے قریبی تعلقات جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔

’میں آپ کو امریکہ کا نیا صدر منتخب ہونے پپر دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ جاپان اور امریکہ کے تعلقات غیر متزلزل ہیں جو کہ آزادی، جمہوریت، بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی بالا دستی جیسی مشرکہ اقدار پر مبنی ہیں۔‘

پاکستان
ڈونلڈ ٹرمپ کے نام وزیر اعظم نوازشریف نے اپنے یغام میں کہا کہ ’ آپ کا انتخاب یقیناً امریکی عوام اور جمہوری اقدار، آزادی، انسانی حقوق اور آزادانہ کاروبار میں عوام کے دیرینہ یقین کی فتح ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کی یادگار فتح اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ امریکی عوام کو آپ کی قیادت، بصارت اور اپنے عظیم ملک کی خدمت کے جذبے پر کتنا اعتماد ہے۔ ‘

ترکی
ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے ٹویٹ میں ان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے کہ وہ ترکی میں بغاوت کے پیچھے امریکہ میں مقیم فتح اللہ گلن کو ترکی کے حوالے کریں گے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ٹرمپ کی فتح مشرق وسطیٰ میں مثبت اقدامات اور دنیا میں آزادی کے فروغ کی جانب پیشرفت ثابت ہو گی۔‘

استنبول میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ امریکی عوام کا یہ انتخاب ایسے مفید اقدامات کی جانب ایک قدم ثابت ہوگا جن سے دنیا میں بنیادی حقوق، آزادی، جمہوریت اور ہمارے خطے کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔‘

فلسطینی علاقے
فلسطینی صدر محمد عباس نے ایک بیان میں مسٹر ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ’ان کے دور صدارت میں امن کا حصول ممکن ہوگا۔‘

فلپائن

اپنی سخت باتوں کے لیے مشہور فلپائنی صدر روڈریگو دوتریت نے بھی اپنی جانب سے نو منتخب امریکی صدر کو ’پرخلوص مبارکباد‘ دی ہے۔

صدر کے سکریٹری اطلاعات کے مطابق صدر‘ فلپائن اور امریکہ کے تعلقات میں فروغ کے لیے نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، ایسے تعلقات جن کی بنیاد باہمی احترام، مشترکہ مفاد اور جمہوریت اور قانون کی بالادستی ہو۔

ایران
ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ نو منتخب امریکی صدر کو ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔

ایران میں سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ 'ایران اور امریکہ کے کوئی سیاسی تعلقات نہیں ہیں مگر یہ اہم ہے کہ مستقبل کے امریکی صدر اپنے ملک کے عالمی وعدوں کا پاس رکھیں اور ہم توقع کرتے ہیں عالمی برادری امریکہ کو اس پر مجبور کرے گی۔'

ملائیشیا
ملائیشیا کے وزیر اعظم کے ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کو بتایا 'ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب ٹرمپ کے گالف بڈی ہیں اور ان کی میز پر دونوں کی ایک تصویر ہے جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا ہوا ہے میرے پسندیدہ وزیر اعظم کے لیے۔'

سنگاپور
سنگاپور کے وزیر اعظم نے ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بریگزٹ ریفرنڈم کی طرح ٹرمپ کی جیت ترقی یافتہ ممالک میں پیٹرن کا حصہ ہے جو معاشرے میں مایوسی اور موجودہ حالات کو تبدیل کرنے کی خواہش ہے۔'

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سنگاپور، چین اور انڈیا پر امریکہ میں 'نوکریاں چوری' کرنے کا الزام لگایا تھا۔

دریں اثنا امریکہ میں فرانس کے سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر ٹویٹ کیا اور بعد میں اس کو ڈیلیٹ کر دیا۔ اس ٹویٹ میں لکھا تھا 'بریکسٹ اور اس انتخاب کے بعد کچھ بھی ممکن ہے۔ ہمارے سامنے دنیا تباہ ہو رہی ہے۔ سر چکرا رہا ہے۔'

سربراہان مملکت اور دیگر رہبماؤں کے علاوہ یورپ کی دائیں بازوں کی سیاسی جماعتوں کے کئی رہنماؤں نے بھی مسٹر ٹرمپ کے صدر منتخب پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

فرانس کی دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ کی رہنما مارین لی پین نے ایک ٹویٹ میں مسٹر ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ’ میں امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور آزاد امریکی عوام کو مبارکباد پیش کرتی ہوںۓ‘

ہالینڈ کے اسلام مخالف رکن پارلیمان گئرٹ وِلڈرز نے بھی ٹوئٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ کو مباک دی ہے۔

اس کے علاوہ برطانیہ کے یورپین یونین سے انخلا میں بنیادی کردار ادا کرنے والے ’یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی‘ کے رہنما نائجل فراج نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ میں اب یہ ذمہ داری ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے کرتا ہوں۔ آپ نے اتنخابی مہم بڑی بہادری سے چلائی ہے۔‘

متعلقہ خبریں