پاک ایران تعلقات میں بہتری

پاک ایران تعلقات میں بہتری

ایران اور پاکستان کا اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف کسی تیسرے فریق کے ہاتھوں استعمال ہونے نہ دینے پر اتفاق خوش آئند امر ہے ۔ہمارے تئیں اس کی دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی سے سعی بھی رہی ہے اور اس پر اتفاق بھی رہا ہے اب بار دیگراس کا اعادہ ہی ہوا ہے ۔ دونوں ممالک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے فیلڈ کمانڈرز کے درمیان تبادلے کے لیے ہاٹ لائن اور ایران کی جانب سے سرحد پار لگائی جانے والی باڑ کے حوالے سے مختلف اقدامات کئے جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے بارڈرپٹرولنگ، انٹیلی جنس کے تبادلے اور دونوں افواج کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔جنرل قمرجاوید باجوہ نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے مرکز کے دورے میں پاک افغان سرحد اور پاک ایران سرحد کا استعمال کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو اٹھایا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل آصف باجوہ سے ملاقات میں ایرانی وزیر امیر حاتمی نے کہا کہ ایران کی پالیسی ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات بحال کرنا ہے اور ملک کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی ایک خاص جگہ ہے۔قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ملاقات میں پاکستان کو بجلی اور گیس دینے کی پیشکش بھی کر چکے ہیں ۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں اس وقت رخنہ آیا تھا جب سعودی عرب اور ایران ، یمن کے مسئلے پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے تھے لیکن بہرحال پاکستان نے احتیاط کی پالیسی اختیار کر کے خود کو بڑی حد تک اس تنازعے میں الجھنے سے محفوظ کیا لیکن سعودی عرب کی قیادت میں مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کے قیام کے بعد پاکستان کااس کا حصہ بننے اور ہمارے سابق آرمی چیف کے اس اتحاد کی سربراہی قبول کرنے سے ایران کے تحفظات میں اضافہ ہوا اور پاک ایران سرحد پر دہشت گردی کے ہونے والے بعض ناخوشگوار واقعات کے باعث معاملات گمبھیر ہوگئے لیکن بہر حال ایسا لگتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملات کی گمبھیر تا میں کمی آتی گئی۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ ایران اور ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد توقع کی جاسکتی ہے کہ غلط فہمیوں کا بڑی حد تک ازالہ ہو چکا ہوگا۔ اس وقت خطے میں پاکستان کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خاص طور پر اچھے تعلقات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کے بھارت کی جانب جھکائو کے متعدد معاہدوں کے باعث پاکستان کیلئے بھارت کے ہاتھوں اپنی سلامتی کو لاحق خطرات مزید بڑھ گئے ہیں جبکہ امریکا ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایران کی سلامتی کو چیلنج کرنے کے درپے ہے ۔اس صورتحال میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں وسعت استحکام اور قریب سے قریب تر ہونا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ایران کے موقع پر علاقائی امن و سلامتی اور باہمی دفاعی تقاضوں سے عہدہ بر آہونے کیلئے تعاون بڑھانے کی را ہیں ہموار کرنے پر یقینا توجہ دی گئی ہوگی ۔ ہمارے تئیں پاکستان اور ایران کے درمیان سیکورٹی کے معاملات پر مشاورت اور خاص طور پر پاک ایران سرحد کو غیر قانونی آمد ورفت اور شدت پسند عناصر سے محفوظ رکھنے پر توجہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے جہاں دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی کے حوالے سے معاملات میں اعتماد میں اضافہ ہوگا وہاں پاک ایران سرحد کو مکمل طور پر محفوظ بنا کر بلوچستان میں حالات پر گرفت مزید مستحکم کی جا سکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جس طرح قبائلی علاقی جات کی سرحدوں کو مضبوط اور مستحکم بنایا گیا گو کہ یہ عمل پاکستان نے یکطرفہ طور پر کیا لیکن اس کے ثمرات سامنے آرہے ہیں ۔اگر پاکستان اور ایران بلوچستان سے متصل سرحد کو باہم تعاون اور مشاورت سے مستحکم بنانے پر اتفاق کر لیں اور حفاظتی اقدامات کو مل کر مضبوط مربوط اور بہتر بنائیںتو دونوں ممالک کو سرحدی معاملات سنبھالنے میں آسانی ہوگی اور غلط فہمیوں کا امکان باقی نہیں رہے گا ۔ یقینا جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ ایران کا مقصد علاقائی امن و سلامتی اور باہمی دفاعی تقاضوں سے عہدہ بر آہونے کیلئے تعاون بڑھانے کی راہ ہموار کرنا تھا جس کیلئے ان کو ایرانی سول وفوجی قیادت کی جانب سے مثبت جواب بھی ملا ہو گا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایران نے پاکستان کو بجلی اور گیس کے شعبو ں میں تعاون کی پیشکش کا اعادہ کیا ہے ۔ پاکستا ن اور ایران کے درمیان اس شعبے میں تعاون کا معاہدہ بھی ہوا تھا مگر پاکستان بین الاقوامی دبائو اور دیگر وجوہات کی بنا ء پر اس سے فائدہ اٹھا نہیں سکا تھا لیکن اب موقع ہے کہ بدلتے حالات میں جہاں امریکہ سے فاصلے پیدا ہو چکے ہیں اور سعودی عرب کے بھی پاکستان سے مراسم اتنے خوشگوار نہیں رہے جیسا کہ ماضی میں تھے بنا بریں یہ ایک اچھا موقع ہے کہ پاکستان اورایران گیس پائپ لائن کے اس معاہد ے کا احیاء کریں اور اس پر دوبارہ کام شروع کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ چونکہ دونوں ممالک اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کی مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو ساتھ ہی اقتصادی و توانائی کی ضرورتوں میں تعاون کرنے پر بھی توجہ دینا احسن ہوگا ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ایران سے جہاں بہت سے دفاعی و اقتصادی تعاون اور گیس پائپ لائن منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے کی راہیں کھلیں گی وہاں پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی کشیدگی کے جو واقعات کچھ عرصہ قبل پیش آئے تھے ان غلط فہمیوں کا ازالہ ہو چکا ہوگا ۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ دشمن عناصر پاک ایران ودستی میں دراڑیں ڈالنے کی تاک میں رہتے ہیں۔ دونوں ممالک کی سیاسی و عسکری قیادت باہمی تعاون اور اخوت و برادری کے تعلقات کے قیام سے ہی ان عناصر کے ارادوں کو خاک میں ملا سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں