یونیورسٹی روڈ کے اطراف نالے کی تعمیر جلد مکمل کی جائے

یونیورسٹی روڈ کے اطراف نالے کی تعمیر جلد مکمل کی جائے

یونیورسٹی روڈ پر ریپڈ بس روٹ کی تیاری کے لئے کھدائی اور تعمیراتی کام کے باعث سڑک کی تنگی اور ٹریفک مسائل کا باعث بننا تو قابل برداشت ہے لیکن اس منصوبے کا بخوبی علم ہونے کے باوجود یونیورسٹی روڈ کے دونوں اطراف نکاسی آب کے نالے کے تعمیراتی کام کو ادھورا چھوڑ کر کام کی بندش کسی طور بھی قابل برداشت امر نہیں ہے۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ ترقیاتی منصوبے عوام کی سہولت اور فلاح کے لئے بنائے جاتے ہیں لیکن غفلت اور طریقہ کار کے بے ہنگم ہونے کے باعث فلاح کے یہ منصوبے عوام کیلئے بلائے جان بن جاتے ہیں جس پر عوام تحسین کی بجائے ان ترقیاتی منصوبوں پر تنقید کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اگر ان کی منصوبہ بندی عوام کی سہولیات کا خیال رکھتے ہوئے ترتیب دی جائے اور ان پر عمل کیا جائے تو اس صورتحال سے بچنا ممکن ہوگا ۔ بہرحال معلوم نہیں کہ ٹھیکیدار نے کام چھوڑ دیا ہے یا متعلقہ حکام کمپنی کو ادائیگی میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں یا پھر کوئی اور مسئلہ ہے۔ بہر حال یونیورسٹی روڈ کے اطراف میں کھلا نالہ اور کھدی ہوئی مٹی ایک عجیب و غریب منظر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ مستزاد روڈ پر ٹریفک چلنے پر جب دھول اڑتی ہے اور سموگ طاری ہوتا ہے تو سانس لینا دشوار اور دو قدم آگے کا راستہ بھی نظر نہیں آتا مگر متعلقہ حکام خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ اس منصوبے پر اگر مسلسل کام کیا جاتا تو اب تک ایک متبادل سڑک بن چکی ہوتی جس سے یونیورسٹی روڈ پر سنٹر میڈیا کی کھدائی اور سڑک کی تعمیر سے پیدا شدہ حالات پر قابو پانا بڑی حد تک ممکن تھا لیکن افسوس بار بار کے متوجہ کرنے اور خود وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے باوجود ایسا نہ کیا جاسکا۔ اس طرح کی صورتحال میں عوام کا احتجاج ہی واحد راستہ باقی رہ جاتا ہے جو ہر گز کوئی اچھی صورت نہ ہوگی۔ معلوم نہیں حکام متعلقہ کمپنی کے سامنے مجبور کیوں ہیں اور کمپنی کیوں شہریوں کے اعصاب کا امتحان اور ان میں بیماریاں بانٹنے پر تلی ہوئی ہے۔جب تک نکاسی آب کے نالے کی تعمیر کا کام مکمل نہیں ہوتا کم از کم صبح دوپہر ، شام تین اوقات میں اٹھنے والی دھول کو کم کرنے کیلئے اگر چھڑکائو کرایا جائے تو بھی غنیمت ہوگا۔
پشاور سے لے کر چترال تک منشیات کی وباء
پشاور کے نواحی علاقہ نحقی میں ڈپٹی کمشنر پشاور کی کھلی کچہری اور چند روز قبل ڈپٹی کمشنر چترال کی کھلی کچہری میں عوام کی جانب سے منشیات کے خلاف پولیس کی کارروائیوں سے اجتناب اور پولیس کی منشیات فروشوں کی سرپرستی کی شکایات قابل توجہ اور لمحہ فکریہ ہیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور اور رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے اور دور افتادہ ضلع میں منشیات کی وباء لوگوں کا مشترکہ مسئلہ ہونا قابل تشویش امر ہے۔ علاقے کے لوگوں کی پولیس سے شکایت بجا ہے اور واقعاتی طور پر اس الزام میں صداقت سے انکار ممکن نہیں۔ مقامی طور پر منشیات فروشوں سے تعرض نہ رکھنے کی پالیسی ہی کے باعث ان کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے جبکہ انسداد منشیات کے ذمہ داروں کی کارکردگی پر بھی یہ سوالیہ نشان ہے کہ ان منشیات فروشوں کو نشہ آور اشیاء کی رسد کن راستوں اور کن ذرائع سے ہوتی ہے جن کی معلومات اور ان کا راستہ مسدود کرنے میں چنداں دلچسی دکھائی نہیں دیتی بس کبھی کبھار ہی نمائشی طور پر منشیات نذر آتش کرکے شرط پوری کی جاتی ہے۔ اس وباء کا اعلیٰ ترین سطح پر نوٹس لیا جانا چاہئے اور اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ انسداد منشیات کے ادارے منشیات کی سمگلنگ و سپلائی اور پولیس منشیات فروشی کی روک تھام کی ذمہ داری میں تساہل نہ برتے۔

متعلقہ خبریں