ایک بڑے بحران کی دستک

ایک بڑے بحران کی دستک

اہلِ سیاست الیکشن بازی میں مصروف ہیں ۔ سب کو خبر تھی کہ مردم شماری میں تاخیر ہوئی تو اس کے اثرات الیکشن پر مرتب ہوں گے۔ سب کو معلوم تھا کہ مردم شماری کے حتمی نتائج اپریل میں مرتب ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کا یہ انتباہ بھی سب کی نظر میں تھا کہ مردم شماری کے نتائج آنے کے بعد الیکشن کمیشن چھ ماہ کی مدت کے بعد انتخابات کرانے کا بندوبست کر سکے گا۔ الیکشن کمیشن کا یہ انتباہ بھی سب کے سامنے ہے کہ اگر 10نومبر تک ضروری آئینی ترامیم منظور نہ ہوئیں تو بروقت الیکشن منعقد کرنا ممکن نہ ہو گا۔ لیکن اہلِ سیاست کسی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔ کسی معاملے کو اس حد تک نظر انداز کرنا کہ بحران کی صورت پیدا ہو جائے ہمارے اہلِ سیاست کا خاصہ نظر آتا ہے۔ آج اہل سیاست میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے جو رسہ کشی ہو رہی ہے جس کا سردست کوئی انجام نظر نہیں آتا اس میں سیاست بازی کے دوران ایک اور بحران خاموشی سے ملک کی طرف بڑھ رہا ہے جس پر کوئی سیاسی پارٹی متوجہ نظر نہیں آتی۔یہ بحران خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے۔ ایسا نہیں کہ اہل پاکستان اور حکومت پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے آگاہ نہیںیا اس کے برے اثرات سے آگاہ نہیں۔ وفاق میں موسمیاتی تبدیلیوں کی ایک وزارت موجود ہے اور صوبائی حکومتوں میں بھی موسمی تغیرات سے عہدہ برآء ہونے کے ذمہ دار محکمے موجود ہیں۔ حکومتوں کی اعلیٰ کارکردگی کے بارے میں بیانات روز شائع ہوتے ہیں ، ان پر تبصرے بھی اسی حساب سے آتے ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وزارت کی کارکردگی میڈیا میں نظر نہیں آتی۔ ممکن ہے کہیں کچھ کام ہو رہا ہو لیکن اس کام سے عوام کی آگاہی کا بندوبست کہیں نظر نہیں آتا۔ شاید اس لیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مطالعہ ‘ اس کے اثرات سے آگاہی اور اس آگاہی کے نتیجے میں حکومت اور عوام کو مشورے ترقی کے اعداد و شمار کی طرح بیان نہیں کیے جا سکتے۔ لیکن یہ تو ضروری سمجھا جانا چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے جو نتائج مرتب ہو نے والے ہیں ان سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔ اگر ایسا ہوتاتو آج جو پنجاب اور سندھ میں سموگ کا راج ہے اور پاکستان کے دوسرے علاقے بھی دھند میں لپٹے نظر آتے ہیں‘ عوام کی طرف سے اس پر سوال اُٹھائے جاتے کہ موسمیاتی تغیرات کی وفاقی وزارت اور صوبائی محکموں نے اس کے تدار ک کے لیے کیا کیا ہے۔سموگ تو خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کا ایک خفیف ۔۔نہایت خفیف اشارہ ہے۔ لگتا ہے کہ ہماری موسمیاتی تبدیلیوں کی وزارت نے اس اشارے کو سمجھا ہی نہیں ۔ تاہم اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے حکومت پاکستان کو ایک مراسلے کے ذریعے اس شدید بحران سے آگاہ کر دیا ہے جو دستک دے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانی کی شدید قلت پیدا ہونے والی ہے جس کی وجہ سے قحط سالی آنے والی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے دریا دریائے سندھ میں پانی کم ہونے جا رہا ہے ۔ اتنا کم کہ آئندہ سال اس سے زراعت متاثر ہونا شروع ہو جائے گی اور آئندہ تین سال میں ڈیموں میں پانی اتنا کم ہو جائے گا کہ بجلی کی پیداوار محال ہو جائے گی۔ دریائے سندھ میں 25سے 30فیصد پانی گلیشیئرز کے پگھلنے سے آتا ہے ۔ 30سے 40فیصد پانی پہاڑوں کی برف پگھلنے سے آتا ہے اور باقی پانی معاون دریاؤں اور ندی نالوں سے آتا ہے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دریائے سندھ میں ان تینوں وسائل سے پانی کی سپلائی کم ہو جائے گی۔ دریاؤں میں پانی کم ہو گا تو زیرِ زمین پانی کی سطح بھی نیچی ہوتی جائے گی۔ کراچی سب سے زیادہ متاثر ہو گا ۔ سمندر تک دریائے سندھ کا پانی کم پہنچے گا تو سمندر کا کھارا پانی خشکی کی طرف چڑھ آئے گا ‘ ساحلی علاقوں کا پانی کھارا ہو جائے گا ۔ ساحلی جنگلات متاثر ہوں گے اور علاقے کی زراعت بھی ۔ پنجاب اور سندھ کا نہری پانی بھی ٹیل تک نہیں پہنچ پائے گا اور دور کے کسانوں تک کم پہنچے گا۔ وفاق کی موسمیاتی تبدیلیوں کی وزارت نے غالباً صوبائی خود مختاری کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے جلد ہی اقوام متحدہ کے اس مراسلے کی نقلیں تیار کرا کے صوبائی حکومتوں کو ارسال کر دی ہیں ۔ اور غالباً اس کے ساتھ یہ مشورہ بھی ارسال کیا گیا ہے کہ ایسی فصلوں پر انحصار کیا جائے جنہیں کم پانی درکار ہوتا ہے۔ ہمارے دیہات میں پانی پر جتنی لڑائیاں ہوتی ہیں وہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم بڑے اور بااثر زمیندار چھوٹے کاشتکاروں کے تعلقات کس طرح منضبط ہوں گے یہ تو صوبائی مسئلہ ہوگا لیکن موسمیاتی تبدیلیوں پر تحقیق تو وفاقی حکومت کا کام تھا جو نظر نہیں آتا۔ کم پانی لینے والی فصلوں کی ریسرچ کی رہنمائی بھی وفاق کو کرنی چاہیے تھی۔ سب سے بڑا مسئلہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ہو گا جس پر صوبائی اتفاقِ رائے پیدا کرنا بھی وفاقی حکومت کا کام سمجھا جانا چاہیے۔ شہری استعمال کے پانی میں بھی ظاہر ہے کمی آئے گی ایک مطالعے کے مطابق شہروں میں فی کس روزانہ 120لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔ دیہات میں روزانہ فی کس پانی کی کھپت 40لیٹر ہے ۔ شہروں کے باشندوں کو کم پانی استعمال کرنے پر راغب کرنے میں کیا مشکلات پیش آئیں گی ان پر غور کیا جانا چاہیے۔ ہمارے ملک میں کہا جارہا ہے کہ چینی اور گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں جنہیں برآمد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے لیکن کل یہ ذخائر نہایت قیمتی ہونے والے ہیں، اس لیے فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جانے چاہئیں۔ اہلِ سیاست الیکشن بازی میں مصروف ہیں پتہ نہیں عام انتخابات کے انعقاد کے بارے میں کس نتیجے پر پہنچتے ہیں ۔ لیکن پہلے انہیں موسمیاتی تبدیلیوں کی وزارت سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ اس نے یو این ڈی پی کی ریسرچ کو من و عن تسلیم کر لیا ہے یا اپنے تحقیقی اداروں کے ذریعے کوئی تصدیق بھی کی ہے؟ اور پھر اس بحران سے عہدہ برآ ہونے کے لیے قومی پروگرام تشکیل دینے کی طرف سوچنا چاہیے ۔ الیکشن بھی ہونے چاہئیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے شدائد سے انسانی زندگیوں کاتحفظ بھی ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں