منشیات، جیلیں اور ایڈز

منشیات، جیلیں اور ایڈز

صحت کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت ایک ایسی بھیانک صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے واپسی شاید ممکن نہ ہو۔ قومی سطح پر کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً 150,000 افراد ایچ آئی وی یا ایڈز سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہیں۔ پاکستان کا شمار ان10ممالک میں ہوتا ہے جن کے ایڈز سے متاثرہ نئے مریضوں کی شرح پوری دنیا کے نئے ایڈز کے مریضوں کا 95 فیصد ہے۔ پاکستان کی آبادی کو دیکھتے ہوئے ایڈز کے مریضوں کے اوپر دیئے جانے والے اعداد وشمار شاید بہت کم محسوس ہوں لیکن اس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف پچھلے ایک سال میں پورے ملک میں رپورٹ ہونے والے مریضوں کی تعداد میں 40,000 افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال دنیا کے کسی بھی ملک کے انتہائی خطرناک ہے لیکن پاکستان میں ان اعداد وشمار کو دیکھ کر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس ساری صورتحال کا ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ ایڈز کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد وہ منشیات کے عادی افراد ہیںجو منشیات لینے کے لئے انجیکشن کا استعمال کرتے ہیں، ان افراد کو انجیکٹنگ ڈرگ یوزرز (آئی ڈی یو) کہا جاتا ہے۔ منشیات کی سمگلنگ کی بات کی جائے تو پاکستان کا شمار منشیات سمگل کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایران اور افغانستان کا ہمسایہ ہے جن میں سے افغانستان وہ ملک ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پوست پیدا کرتا ہے اور دنیا میں پائی جانے والی ہیروئن کا 85 فیصد حصہ بھی افغانستان سے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان منشیات کے سمگلروں کا پسندیدہ روٹ ہے اور یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگ اینڈ کرائم (یو این او ڈی سی) کے مطابق پاکستان میں ہر سال کم از کم 20 ٹن خالص افغانی افیون استعمال کی جاتی ہے۔ سال 2012ء میں ملک کے بڑے شہروں میں انجیکٹنگ ڈرگ یوزرز (آئی ڈی یو) میں سے21 فیصد ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد تھے لیکن 2015ء تک ملک کے مختلف شہروں میں یہ شرح 40 فیصد تک جا پہنچی تھی۔ ایڈزکے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت اور پالیسی سازوں کی جانب سے ان لوگوں پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے جن کو اس مرض کے لاحق ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال جیلوں میں بند قیدی ہیں جن میں ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے کیونکہ یہ قیدی ایسے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں جو انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی جیلوںمیں40 فیصد قیدی منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور منشیات اپنی رگوں میں داخل کرنے کے لئے ایک دوسرے کی استعمال شدہ سرنج بھی استعمال کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ایڈز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل اور سینٹرل جیل میں 5000 قیدیوں پر کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق ان جیلوں میں ایچ آئی وی سے متاثرہ قیدیوں کی شرح قیدیوں کی مجموعی تعداد کا 2 فیصد ہے۔ 2010ء میں کراچی کی جیلوں سے منتخب کئے جانے والے 357قیدیوں پر ہونے والے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا تھا کہ 2 فیصد قیدی ایڈز، 5.9 فیصد ہیپاٹائٹس ۔بی اور 15.2 فیصد ہیپاٹائٹس ۔سی کا شکار تھے۔جیلوں میں بیماریوں کی تصدیق کے لئے کبھی کبھار ہی ٹیسٹ کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ خطرناک صورتحال کھل کر سامنے نہیں آسکی ۔ پاکستان 2003-2004ء سے نیڈل اور سرنج پروگرام کے ذریعے انجیکشن کے استعمال کے حوالے سے آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایسا کوئی بھی پروگرام جیلوں میں نہیں چلایا جاتا۔قیدیوں میں تیزی سے پھیلتا ہوا ایڈز پورے معاشرے کے لئے سنگین خطرہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ قیدی جیل سے رہا ہو کر واپس کمیونٹی میں جاتے ہیں۔ہمسایہ ملک ایران سمیت دنیا کے کئی ممالک کی جیلوں میں سرنج کے غلط استعمال کی روک تھام کے لئے پروگرام شروع کئے گئے ہیں جن کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ایران نے 2005ء میں یہ پروگرام متعارف کروایا تھا جس کے بعد ملک میں بڑھتی ہوئی ایڈز کی شرح کم ہونا شروع ہوگئی تھی۔2006ء میں یواین او ڈی سی، ڈبلیو ایچ او اور یو این ایڈز نے مشترکہ طور پر جیلوں میں جراثیموں سے پاک نئے انجیکشن فراہم کرنے اور قیدیوں کی رہائی کے موقع پر ان کا ایڈز کا ٹیسٹ کرنے کی سفارشات پیش کی تھیں جن پر عمل درآمد سے صورتحال میں کافی بہتری آئی تھی۔ پاکستان کو ایران سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی جیلوں میں بھی ایسے پروگرام شروع کرنے چاہئیں تاکہ ایڈز کے عفریت پر قابو پایا جاسکے۔ 

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں