سویا ہے شہر سارا

سویا ہے شہر سارا

وہ دن گئے جب ناشتے کی میز پر آملیٹ کی ڈش ہمیں صبح بخیر کہنے کے لئے بے تاب نظر آتی تھی۔ شام ڈھلے گھر لوٹتے وقت اگر ہم آملیٹ بنانے کی اجناس نہ لاسکتے تو ہماری ہوم منسٹر اس بات کا برا نہ مناتیں کیونکہ یہ اشیاء گھر کے باورچی خانے میں پہلے ہی سے وافر مقدار میں پڑی مل جاتیں مگر ہائے ری قسمت۔ کیسا برا وقت آگیا ہے کہ آملیٹ بنانے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی یہ اشیاء جن میں انڈے، ٹماٹر اور پیاز سرفہرست ہیں گھر تو گھر، بازاروں اور سبزی منڈیوں سے بھی غائب، ناپید، کمیاب یا نایاب ہوکر رہ گئی ہیں۔ کل ہی کی بات ہے ہم نے سبزی فروش سے ٹماٹروں کے بھاؤ پوچھے تو وہ کہنے لگا۔ ’’سن سکو گے؟‘‘۔ سننے میں کیا ہے۔ سن لیں گے میں نے جواب دیا۔ مگر اس نے میری اس بات کے جواب میں ٹماٹروں کے بھاؤ بتانے کی بجائے اس بندے کی کہانی سنانی شروع کر دی جو ٹماٹروں کا بھاؤ سن کر آپے سے باہر ہوگیا تھا۔ سبزی فروش کہنے لگا کہ ’’مجھ سے بھی رہا نہ گیا۔ میں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ ارے ہم کوئی مفت کے لاتے ہیں جو سستے بیچیں۔ بھرا ہوا کھیسہ خالی کرکے سبزیاں لاتے ہیں اور پھر گلی گلی پھیری لگا کر انہیں خریدنے والوں تک پہنچاتے ہیں اور پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ سبزی خریدنے والے پیاز ٹماٹر کا بھاؤ پوچھتے ہی آپے سے باہر ہوجاتے ہیں‘‘۔ میں نے تم سے ٹماٹر کے بھاؤ پوچھے اور تم نے سنا ڈالی لڑائی مار کٹائی سے بھر پور ایکشن کہانی، میں پوچھ رہا ہوں کہ کتنے کے کلو بیچ رہے ہو یہ ٹماٹروں کی یہ چھوٹی چھوٹی لال پیلی گولیاں؟‘‘۔ یوں لگا جیسے اس نے میری اس بات کا برا منایا ہو۔ اس نے میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھا اور ایک بار پھر وہی جملہ دہرانے لگا جو اس نے ٹماٹروں کا ریٹ بتانے کی بجائے ٹماٹروں کا ریٹ سن کر کسی کے آپے سے باہر ہو جانے والے کی کہانی سنا ڈالی تھی۔ وہ میری بات کے جواب میں ایک بار پھر ’’سن سکو گے میاں‘‘ کا جملہ دہرانے لگا۔ نہیں سنتا۔ مت سناؤ۔ معلوم ہوگیا بہت مہنگے ہیں ٹماٹر۔ صرف ٹماٹر ہی مہنگے نہیں پیاز کی قیمت بھی آٹھویں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ارے ارے یہ کیا کہہ رہے ہو۔ آسمان آٹھ نہیں سات ہوتے ہیں۔ ہم نے سبزی والے کا جملہ درست کرنا چاہا لیکن اس نے ہماری بات کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں جی آپ غلط کہہ رہے ہیں، آسمان سات نہیں آٹھ ہیں اور یہ آٹھواں آسمان ٹماٹر اور پیاز کے نرخوں نے دریافت کر لیا ہے۔ اتنا کہہ کر اس نے پنجابی فلموں کے ولن جیسا قہقہہ بلند کیا اور پھر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہنے لگا۔ آٹھواں آسمان۔ جہاں سے اوپر اوپر اور اوپر وہ نویں آسمان کو جا لینے کی آس میں پرواز کر رہے ہیں‘‘۔ بہت بڑا فلسفی نکلا یہ سبزی فروش اس کی یہ بات سن کر ہم نے چپ سادھ لی اور دو تین ٹماٹر اور تقریباً اتنی ہی پیاز کی گٹھلیاں لے کر گھر کا راستہ ناپنے لگے کہ اپنی جیب میں اتنے ہی ٹماٹر پلس پیاز خریدنے کی سکت تھی۔ ہوگیا بندوبست آملیٹ کا۔ مجھے اپنی قسمت پر ناز کرنے کو دل کرنے لگا لیکن آملیٹ نامی نعمت غیر مترکبہ کا اصلی اور مرکزی کردار تو ’انڈہ‘ ہے۔ انڈوں کی بھی بڑی اقسام ہیں۔ مثلاً ایک قسم وہ ہے وہ جو کلاس میں ہمیں ماسٹر جی دیتے تھے، دوسری وہ جو ہماری کرکٹ کے پلیئربنا لیا کرتے تھے۔ میں ان انڈوں کی بات نہیں کر رہا جو نظر نہیں آتے تھے مگر کہلاتے انڈے ہی تھے۔ میں ان انڈوں کی بات کر رہا ہوں جو کبھی نظر آتے تھے مگر آج کل نظر نہیں آرہے۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں دیس والوں کو کھانے کے لئے دیسی انڈے مل جایا کرتے تھے لیکن آبادی کے بڑھ جانے اور دیسی مرغیوں کے ناپید ہوجانے کی وجہ سے دیسی انڈوں کو دیس نکالا مل گیا اور ہم کرنے لگے گزارہ فارمی انڈوں پر لیکن چونکہ ہم پیداوار میں اضافہ کرنے کی بجائے آبادی میں اضافہ کرنے کے چمپئن تھے، سو فارمی انڈوں کو بھی شکست فاش دینے میں کامگار وکامران ٹھہرے اور یوں چائنہ جیسے آزمودہ دوست ملک نے ہماری حالت زار پر ترس کھاتے ہوئے حق ہمسائیگی ادا کرنا شروع کر دیا اور یوں ہمارے ہاں نقل بمطابق اصل کے مترادف چائنہ میں تیار ہونے والے مصنوعی انڈوں کی کھیپوں کی کھیپیں آنے لگیں لیکن اس کا کیا کیا جاتا کہ ایک دروازے سے داخل ہونے والے انڈے دوسرے دروزاے سے باہر نکل کر افغانستان پہنچنے لگے اور یوں ہم انڈے انڈے کرتے انڈہ ہونے لگے۔ ٹماٹر اور پیاز کے بھاؤ آٹھویں آسمان کی سیر کو نکلے ہوئے تھے بھلا کیا قصور تھا انڈہ نامی جنس نایاب کا جو کھا جاتی مات ٹماٹروں اور پیاز سے، سو انڈوں کے بھاؤ بھی آٹھویں آسمان پر پہنچ گئے۔ 

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے ہیں انڈے گندے
اگر شاعر مشرق کو انڈوں کے بھاؤ معلوم ہوتے تو شاید وہ گندے انڈوں کو گلی میں پھینکنے کا مشورہ نہ دیتے اور کہہ دیتے رکھ لو سنبھال کر کام آجائیں گے کھوٹے سکوں کی طرح۔ پہلے انڈہ پیدا ہوا یا مرغی ہم ان چکروں میں پڑنے کی بجائے آنکھیں موند کر کہہ سکتے ہیں کہ مرغی انڈے کی ماں ہے جو سستی بک رہی ہے مصر کے بازار میں جبکہ اس کے انڈے، ٹماٹر اور پیازکی ملی بھگت سے خریدنے والوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ جس کے زیر اثر ہمارا پیکان قلم لہو کے آنسو روتے ہوئے کھلکھلا کر کہہ رہا ہے۔
راتوں کو ہیں جگاتے انڈے پیاز مجھ کو
آتے ہیں نظر دن میں تارے مجھے ٹماٹر
سویا ہے شہر سارا، کوئی اسے جگاؤ
کوئی تو ہو جو آکر مارے مجھے ٹماٹر

متعلقہ خبریں