شام پر حملہ اور عالم اسلام

شام پر حملہ اور عالم اسلام

یہ سوال آج ہر زبان پر نہیں تو لوگوں کے دلوں میں ضرور ہے کہ آیا ایک نئی عالمی جنگ شروع ہونے والی ہے۔ اس امکانی جنگ کا آغاز امریکہ کے صدر ٹرمپ نے شام پر فضائی حملے سے کر دیا ہے جس میں شام کے ایک شہر پر 59 میزائل داغے گئے' جواز یہ بتایا گیا کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے حالانکہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش میں بین الاقوامی تفتیش کاروں کی ٹیم شام کو خالی قرار دے چکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے حملے کے حکم سے پہلے نہ تو شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت پیش کیے نہ امریکی کانگریس کی متعلقہ کمیٹی سے حملے کی اجازت لی۔ نہ اقوام متحدہ اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیا اور حملہ کرکے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا جس میں کہا گیا ہے کہ کسی آزاد و خود مختارملک پر حملہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس پر روس کی طرف سے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ روسی بحری بیڑہ شام کی حفاظت کے لیے بحیرہ اسود روانہ کر دیا گیا ہے۔ روس نے امریکہ کے ساتھ فضائی معاہدہ منسوخ کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ اس طرح مشرقِ وسطیٰ میں بڑی طاقتوں کے تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ شام مسلمانوں کی اکثریت کا ملک ہے لیکن پاکستان کی حکومت کی طرف سے شام پر امریکی حملے کے بارے میں کوئی ردِعمل ' کوئی تبصرہ نہیں آیا۔ البتہ سعودی عرب اور اس کے ساتھ اسرائیل نے شام پر امریکی حملے کی حمایت کی ہے بلکہ امریکی صدر ٹرمپ نے ٹیلی فون کے ذریعے حملے کے بارے میں سعودی فرمانروا کو تفصیلات بتائیں اور سعودی فرمانروا کا بیان شائع ہوا ہے کہ حملہ خطے اور دنیا کے امن کے مفاد میں ہے۔ شام پر امریکہ کے حملے کا سعودی اور اسرائیل کی طرف سے خیر مقدم تمام مسلمانوں کے لیے حیران کن ہونا چاہیے کہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات اسرائیل کی مسلم کشی کے ردِ عمل کے طور پر کشیدہ رہے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ خلیج تعاون کونسل کے ممالک اورترکی نے بھی شام پر امریکی حملے کی حمایت کی ہے۔ ایران نے حملے کی مذمت کی ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے بیس شہروں میں ٹرمپ کے نام پر حملے کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔ لیکن ٹرمپ کہتے ہیں کہ مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ منظرنامہ کچھ یوں ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ امریکہ کے شام پر حملے کی حمایت اسرائیل سمیت سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کر رہے ہیں۔ اور روس اور ایران شام کی حمایت کر رہے ہیں۔ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں کسی تحقیقات کے بغیر الزام لگایا گیا۔ متاثرین کی ویڈیو فلمیں بھی دکھائی گئیں لیکن یہ ثابت کرنے کے شواہد نہیں ہیں کہ یہ ویڈیو فلمیں تازہ ہیں۔ اس حملے کے ذریعے اگرچہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کی گئی تاہم اقوام متحدہ نے اس حوالے سے کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ محض یہ بیان جاری کیا کہ روس اور امریکہ دونوں تحمل سے کام لیں۔ حالانکہ اقوام متحدہ کو کم ازکم یہ چاہیے تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ماہرین شام روانہ کیے جاتے اور اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ کیمیائی ہتھیار واقعی استعمال کیے گئے ہیں تو شام کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ صدر ٹرمپ نے اپنی کئی سال پر محیط انتخابی مہم مسلمانوں کی مخالفت کی بنیاد پر چلائی ہے ۔ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے پہلا اقدام یہ کیا کہ سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی اور اس کی عدالتی اور سیاسی مخالفت کے باوجود اس پر اصرار کیا۔ مسلمانوں کے بارے میں ان کے بیانات ابھی یادداشتوں سے محو نہیں ہوئے ہیں۔ اس لیے صدر ٹرمپ کے امریکہ کو مسلمانوں کا دوست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ لیکن شام میں امریکہ کی یک طرفہ فوجی کارروائی کے بعد سعودی عرب' خلیج تعاون کونسل اور ترکی کی حمایت سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ عالم اسلام شیعہ سنی تفرقہ میں تقسیم ہے۔ اگر یہ کشیدگی جنگ کی صورت اختیارکرتی ہے تو ایک امکان یہ ہے کہ امریکہ شام پر ایسے فضائی حملے کر دے جیسے اس نے طالبان کے افغانستان پر کیے تھے۔ لیکن فضائی حملے تباہی تو پھیلا سکتے ہیں برسرزمین اقتدار میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔ اگر یہ صورت حال جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو برسرزمین یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ میں لڑی جائے گی اور آج مشرقِ وسطیٰ کے جو مسلمان ممالک شام پر حملے کی حمایت کر رہے ہیں انہی کو برسرزمین فوجی کارروائی کے لیے کہا جائے گا۔ اس کارروائی کے اثرات خود خلیجی ممالک پر مرتب ہوں گے کیوں کہ ان ممالک میں شیعہ آبادیاں ہیں۔ کہیں کم کہیں زیادہ۔ اور خدشہ یہ ہے کہ سارا عالم اسلام اندرونی جنگ بازی کا شکار ہو جائے گا ' اس امکان کو نظر میں رکھا جانا چاہیے۔ایک طرف عالم اسلام پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں دوسری طرف پاکستان کی حکومت اس صورت حال کے بارے میں خاموش ہے۔ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے امام کعبہ پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ امام کعبہ سب مسلمانوں کے لائق احترام ہیں۔ انہوں نے صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان ملاقاتوں کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کا یہ بیان منظر عام پر آیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور یہ کہ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا بھرپور جواب دیاجائے گا۔ اس اشاعیہ سے لگتا ہے کہ امام کعبہ اور پاکستان کے اکابرین کے درمیان شام پر امریکی حملے ' سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے اس حملے کے خیر مقدم کی صورت حال پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ کیا یہ صورت حال اتنی ہی غیر اہم ہے کہ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم اور ان کے ساتھ امام کعبہ کی گفتگو میں اس کا ذکر نہ آئے؟ اس صورت حال پر پاکستان کی حکومت کی خاموشی پاکستانی عوام کے دلوںمیں یہ سوال اُٹھا رہی ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ ہونے جا رہاہے اسے پاکستان کی خاموش رضامندی حاصل ہے۔ پاکستان کے حکمران چاہیں بھی تو اس صورت حال سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ یہ آگ اگر بھڑکی تو پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں نہ چاہتے ہوئے بھی آئے گا۔ یہ صورت حال پاکستان سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اس کشیدگی کو فرو کرنے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کے لیے فعال تر سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے۔ اس کشیدگی کو کم کرنا ہی سارے عالم اسلام کے مفاد میں ہے۔ ان مسلمان ملکوں کے بھی جو آج متحارب کیمپوں میں نظر آ رہے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے صد سالہ جشن تاسیس کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ' سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی اور پاکستان مسلم لیگ کے صدر راجہ ظفر الحق نے البتہ موجودہ صورت حال کانوٹس لیا ہے۔ ان کے بیانات میں اس بات پر اتفاق سامنے آیا ہے کہ عالم اسلام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں اور یہ کہ ان سازشوں کے مقابلے کے لیے اسلامی تنظیم کا اجلاس بلایا جائے۔ اسلامی تنظیم دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہوا کرتی تھی لیکن اب اگر چہ اس کا تنظیمی ڈھانچہ ہے تاہم یہ تنظیم غیر فعال نظر آتی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس تنظیم میں اب شام کی نمائندگی نہیں ہے۔ اس لیے پہلے تو اس تنظیم کو ایک فعال تنظیم بنانے کی ضرورت ہو گی پھر اس میں نمائندگی رکھنے والے ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی خاطر اقدامات کیے جائیں گے جو پہلے ہی منقسم نظر آ رہے ہیں۔ اسلامی تنظیم کو فعال کرنا اس وقت عالم اسلام کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ اس لیے اسلامی تنظیم کا اجلاس ضرور منعقد کیا جانا چاہیے اور اس میں مسلمان اکثریت کے تمام ممالک کو شریک کیا جانا چاہیے۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ عالم اسلام میں شکمی اختلافات ہیں۔ سماجی' ثقافتی ' اقتصادی اور مسلکی بھی ان اختلافات کے باعث تفرقے میں پڑنے کی بجائے ان کے وقت کے ساتھ ساتھ فطری رفتار سے طے ہونے پر اکتفا کرتے ہوئے ایک نکتہ پر مشتمل ایجنڈے پر غور کیا جانا چاہیے کہ جس طرح حرمین شریفین کے دفاع کے لیے سارے مسلمان ممالک متفق اور متحد ہیں اس طرح باہمی دفاع پر بھی متفق اور متحد ہوں اور اس حوالے سے دامے درمے قدمے سخنے کردار ادا کرنے کے عزم کا اعلان کیا جائے۔

متعلقہ خبریں