پاکستان کے سابق فوجی افسر کی نیپال میں گمشدگی

پاکستان کے سابق فوجی افسر کی نیپال میں گمشدگی

ریٹائرڈلیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کی گم شدگی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ وہ پاک فوج میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہے ہیں اور ان سے رابطہ نیپال کے شہر لمبیبی میں منقطع ہوا ہے جو بھارت کی سرحد سے صرف پانچ میل دور ہے۔ ان حقائق کی بنا پر بہت سے خدشات ابھرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ کہ مبادا انہیں بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اغواء کر لیا ہو۔ اس شبہ کو ان وجوہ کی بنا پر بھی تقویت پہنچتی ہے کہ جس ویب سائٹ کے ذریعے انہیں لمبینی آنے کی دعوت دی گئی تھی وہ اب بند ہے اور اس کا ڈیٹا بھی غائب ہے۔ برطانیہ سے جس مسٹر تھامسن نے ان سے گفتگو کی اور انہیں نیپال جانے کے لیے کہا اس کا بھی اب کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ تاہم انٹرنیٹ کا ڈیٹا بالعموم کُلی طور پر تلف نہیںہوتا۔ اور اسے دوبارہ حاصل کرنے کے امکانات رہتے ہیں۔ ان کی گم شدگی کی توثیق دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی کی ہے اور بتایا ہے کہ گم شدگی کی اطلاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کے اہل خانہ نے دی ہے جن سے وہ لمبینی پہنچنے کے بعد بھی رابطے میں رہے اور بعد ازاں رابطے کے مفقود ہو جانے کی بنا پر اہل خانہ نے شک کی بنا پر اطلاع دی کہ ان کاپتہ چلایا جائے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اگرچہ کہا ہے کہ حکومت نیپال سے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل حبیب ظاہر کی گمشدگی کے حوالے سے دفتر خارجہ رابطہ میں ہے تاہم ان کی تلاش کا دائرہ وسیع کیا جانا ضروری ہے۔ برطانیہ سے بھی یہ معاملہ اُٹھایا جانا چاہیے کہ وہ شخص جس کا نام تھامسن بتایا جاتا ہے کون ہے اور کہاں غائب ہو گیا ہے۔ ایک طرف یہ معاملہ سائبر کرائم کا ہے جس کا کھوج لگانے کے لیے ان اداروں کو متوجہ کیاجانا چاہیے جو انٹرنیٹ کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں ۔ دوسری طرف نیپال کے سیکورٹی اداروں تک موثر رسائی حاصل کی جانی چاہیے کہ وہ حبیب ظاہر کی گمشدگی سے متعلق حالات و واقعات کا جائزہ لیں اور ان کو بازیاب کرائیں۔

متعلقہ خبریں