عالمی تعلقات کی نئی جہت

عالمی تعلقات کی نئی جہت

امریکا کے شام پر حملے سے کوئی نئی صورت حال پید ا نہیں ہو ئی سوائے اس با ت کہ ڈالر تقریباًچھ فی صد لرز گیا اور ساتھ ہی سونے اور تیل کی قیمتو ں میں قدرے اضافہ ہو ا مگر امریکا کی جانب سے اس اعلا ن کے بعد کہ حملو ں کو مزید وسعت نہیں دی جا ئے گی تو عالمی مارکیٹ میںڈالر کی گر اوٹ سے جو گھبراہٹ پید ا ہو ئی تھی اس میں سکو ن آگیا۔ کئی اسلامی ممالک سمیت دنیا کے متعدد ملکو ں نے امریکی حملے کی حما یت کی ہے جبکہ روس اور ایر ان نے کھل کر مخالفت کی ، تاہم یہ بات درست ہے کہ کیمیا ئی ہتھیا رو ں کے پھیلا ؤ اور ان کے انسانی جا نو ں کے خلا ف استعمال کی اجا زت قطعاً نہیں دی جا سکتی ، البتہ امریکی حملو ں کو ایک اور اند از میں بھی لیا جارہا ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میںکیا گیا ہے جب رو س نے امریکا کی جا نب سے افغانستان کے امن کے بارے میں طلب کر دہ کا نفر نس میں شرکت سے انکا ر کرنے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا جس میں روسی نمائند ے نے کہا کہ روس امریکا سے ڈکٹیشن نہیںلے گا۔ روسی ردعمل گویا اس بات کا اظہا ر تھا کہ امریکا تن تنہا سپر پا ور نہیں ہے ، چنا نچہ شام پر حملہ کو اس تنا ظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے کہ امر یکا نے خو د کو سپر پا ور تسلیم کرانے کے لیے کا رروائی کی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات اپنی جگہ درست ہو ، یہ بات دنیا کو معلوم ہے کہ امریکا کی اس کا رروائی سے امریکا رو س تعلقات میں کج پید ا ہوگا تو امریکا کو چاہیے تھا کہ وہ شام کے خلا ف کارروائی سے قبل روس کو اعتما د میں لیتا۔ بہر حال یہ عالمی پیچید گیا ں ہیں ، تاہم روس اس وقت دوسری سپر پاور کا کر دار ادا کر تا نظر آرہا ہے ، جہا ں اس نے ماسکو کانفرنس کے انعقاد میںعدم شرکت کے سوال پر امریکا کو لتاڑا وہا ں رو س نے امریکا سے ہٹ کر افغان طالبان سے تعلقات اور تعاون کا معاہد ہ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بھی عالمی طا قت کا حصہ ہے ۔ طالبان اور روس کے درمیا ن تعلقات کے قیام کے سلسلے میں معاہد ہ کر انے اور روابط قائم کر نے میںایر ان نے بھی کر دار ادا کیا ہے ، چنا نچہ طالبان نے معاہدے میں اس با ت کو قبول کیا ہے کہ ماضی میں طالبان اور ایر ان کے درمیا ن جو کشید گی رہی ہے اس کے پس منظر میں طالبان ایر ان کے خلا ف کوئی کا ر ر وائی نہیں کر یں گے بر سر اقتدار آکر بھی وہ ایر ان کے ساتھ خوش گو ار رہیں گے ۔روس اور طالبان کے درمیان ایک دس نکا تی معاہد ہ ہو چکا ہے جو طویل مذاکرات کے بعد طے پایا ، جس میں طالبان کی جدوجہد کو رو س نے تسلیم کر لیا اور اس معاہد ے کی رو سے طالبان کی امارات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے اور طالبان کے اقتدا ر میں آجا نے کی صورت میں افغانستان کی مدد کا وعد ہ بھی کیا گیا ہے۔ علا وہ ازیں اطلا عا ت کے مطا بق طالبان نے اس امر کی یقین دہا نی بھی کر ائی ہے کہ طالبان رو س کے علیحد گی پسند جنگجوؤ ں کو نہ تو پنا ہ دیں گے اور نہ ہی ان کی کسی قسم کی مد د کر یں گے ۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو امر یکا نے اسی بنا ء پر مارا کہ اس کے بارے میں سن گن پڑ گئی تھی کہ روس کے ساتھ مذاکر ات ہو رہے ہیں ، اور مر حوم اختر منصور نے کئی ملا قاتیں روسی صدر پو ٹن سے خفیہ مقام پرکیں جن کے بارے میںکہا جا تا ہے کہ یہ ایر ان کے ساحلی علا قو ں کے اند ر بھی ہو ئی ہیں ۔ طالبان امیر جب ایر ان سے ملا قات کے بعدواپس آرہے تھے تو ان کو پاکستان میں واپسی کے موقع پر ہلا ک کر دیا گیا تھا ، جس سے مذاکرات میںکچھ تعطل تو پید ا ہو ا مگر یہ کھل جا نے والی کڑی دوبارہ جڑ گئی ، اور طالبان اس امر پر رضامند ہو گئے کہ قیا م امن کی کاو شو ں کا حصہ بنے کو تیا رہیں ، معاہد ے میں یہ امربھی شامل ہے کہ طالبان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جا ئے گا اور اقوام متحدہ میں روس اور چین اس کی بھر پو ر حما یت کریں گے۔ ساتھ ہی برطانیہ ، فرانس اور امریکا سے بھی کہا جا ئے گا کہ عام معافی کے اعلا ن کی حما یت کریں ۔ ذرائع جس طر ح معاہدے کا دعویٰ کر رہے ہیں اس کے مطا بق یہ عالمی سطح پر ایک اہم تبدیلی اور پیش رفت قر ار پا تی ہے ، مگر اس سارے عمل میں امریکا بے عملی اور بے دلی کا شکا ر نظر آتا ہے ، جبکہ افغانستان کی صورت حال کے اصل دو فریق ہیں۔ ایک افغان حکومت جس کو بنیا دی طو ر پر ثانو ی حیثیت حاصل ہے جبکہ امریکا اصل فریق ہے کیو ں کہ روس کے افغانستان سے نکل جا نے کے بعد سے موجودہ حالات تک کی ذمہ داری اس پر عاید ہوتی ہے ۔چنا نچہ افغان امور سے تھکا وٹ کا اظہا ر خود امر یکا کے مفاد میںنہیں ہے ۔ اس کوچاہیے کہ افغانستان کے سلسلے میں ہو نے والی ہر پیش رفت کا حصہ بن کر مسئلے کے سلجھا ؤ میں کردا ر اداکرے ۔ آنے والے دن جنو بی ایشیا اور وسطی ایشیا کے لیے اہم ترین ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لیے اثر اند از ہو نے والے دن ہیں ، کیو ں کہ داعش کا عفر یت اس خطے میں پھیلتا جا رہا ہے ، امریکا کی خوش قسمتی ہے کہ طالبان اور داعش کے درمیا ن ہم آہنگی نہیں ہو ئی ورنہ صورت حال مختلف ہو تی گو امریکی اداروں نے طالبان کو کمزور کر نے کی غرض سے داعش کو افغانستان میں داخل کر ایا ، ا ب وہ طالبان کے لیے اتنا درد سر نہیں ہیں جتنا کہ وہ خود امریکا کے لیے بن گئے ہیں ۔ ویسے طالبان کے ہو تے ہوئے افغانستان میںداعش کی آیباری کی قطعا ً ضرورت تو نہ تھی ، اگر کسی کو گما ن تھا کہ اس طر ح طالبان کی قو ت کو مضمحل کر دیا جا ئے گا تو یہ خوش فہمی تو ہو سکتی ہے ، اس سے بڑھ کر کچھ اور نہیں ۔ داعش کسی حد تک افغانستان میںپھیل گئے ہیں مگر طالبان کا تو ڑ نہیں بن سکے ہیںاورنہ بن پائیں گے ، البتہ یہ محسو س کیا جا رہا ہے کہ ایر ان ، ترکی اور پاکستان کو عالمی طا قتوں کی چپقلش کی بھینٹ چڑھا یا جا رہا ہے ، جبکہ داعش کے اس خطے میں پھیلنے سے پا کستان ، ایران ، اور چین کے جنوب مشرقی علا قوں کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا اور روس کے لیے خطرات کے بادل پھیلتے نظر آرہے ہیں ، گویا کچھ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی جنگ کی خونریزی مشرق کی طر ف دھکیلنے میں مگن لگ رہی ہیں جس کا فوری ادراک اور تدارک ضروری ہے ۔ 

متعلقہ خبریں