خطبات جمعہ یا سیاسی گفتگو

خطبات جمعہ یا سیاسی گفتگو

خاتم النبیین ۖ کا فرمان ہے کہ جمعہ کا دن (یعنی جمعہ کی نماز ) سب پر فرض کیا گیا تھا، لیکن یہودو نصاریٰ نے اختلاف کیا اور یہودیوں نے اپنی عبادت کے لئے ہفتہ (سنیچر )کاد ن مقرر کیا اور نصاریٰ نے اتوار کے دن کو اختیار کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے جمعہ کا دن مقرر فرمایا خاتم النبیینۖ نے یوم خطبہ کی فرضیت اورفضیلت کے بارے میں فرمایا ہے کہ ''جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب دنوں سے بڑا دن ہے (حتیٰ کہ ) عیدالا ضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی اس کا بڑا مرتبہ ہے ۔ جمعہ کے دن کے ساتھ پانچ باتیں ایسی وابستہ ہیں جو کسی اور دن کے ساتھ نہیں اللہ تعالیٰ نے جمعتہ المبارک کے دن حضرت آدم کو پید ا فرمایا اور اسی دن میں ان کو زمین پر اُتارا اور جمعہ ہی کے دن ان کو وفات دی ۔اور اسی دن میں ایک ایسا مقبول وقت ہے کہ جو بندہ بھی جائز سوال کرے گا اللہ تعالیٰ ضرورپوراکر دے گا ۔ ایسی دن کو قیامت قائم ہوگی ۔ اسی لئے تمام مقرب فرشتے ، آسمان ، زمین ، ہوا ، پہاڑ اوردریا (سمندر ) سب ڈرتے کا نپتے اور تھر اتے ہیں کہ کہیں اس جمعہ کو قیامت قائم نہ ہو جائے ۔ جمعہ کی نماز میں دیگر فرائض و واجبات کا دیگر نمازوں کی طرح اپنا مقام ہے لیکن اس نماز میں خطبہ کو جو اہمیت حاصل ہے اس کا اندازہ اس سے لگا یا جا سکتا ہے کہ بغیر خطبہ کے جمعہ کی نماز جائز نہیں ہے ۔ رسول اللہ ۖ جمعہ کی نماز سے پہلے دو خطبے پڑھتے اور آپ ۖ کا کوئی جمعہ بغیر خطبہ کے ثابت نہیں ۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات سے بہت اہم نکات سامنے آتے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ جمعہ کی نماز بہت فضیلت کی حامل ہے ۔ اس مبارک دن میںنما ز کی قرآن و حدیث میں بہت تفصیل کے ساتھ اہمیت و بزرگی بیان ہوئی ۔ اس نماز میں خطبے کو بہت اہمیت حاصل ہے کہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی گویا خطبہ فرض ہے ۔ اس کی اہمیت و فرضیت کے پیش نظر اس کو اتنا آسان بنایا ہے کہ اگر کسی کو مسنون خطبہ نہ آتا ہو تو قرآن مجید کی کوئی چھوٹی بڑی سورت پڑھ دے ۔ جیسے پہلے خطبہ میں سورہ فاتحہ اور دوسرے خطبہ میں سورہ اخلاص ۔ تو خطبہ ادا ہوجائیگا ۔ لیکن اصولی طور پرخطبہ جمعہ کے دو حصے ہیں ۔ پہلے خطبے میں اللہ تعالیٰ کی ثنا و صفت اور خاتم النبیین ۖ اہل بیت اور صحابہ کرام کی مدح و منقبت بیان کی جاتی ہے ۔ خطبے کے دوسرے حصے میں قرآن کریم کی چند آیات کریمہ کی تلاوت کے بعد اپنے ملک وقوم اور علاقے کے لوگوں کے معاشرتی ، سماجی ، اقتصادی ، اخلاقی مسائل کو موضوع گفتگو بنایا جاتا ہے ۔ خطبہ جمعہ ،عام خطبات اور تقاریر سے الگ نوعیت کا ہوتا ہے یہ۔ اسلام کا آفاقی پیغام جب بر صغیر پا ک وہند میں پہنچا تو نماز جمعہ کے خطبا ت یہاں بھی شروع ہوئے ۔اور تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ ان بھلے دنوں میں ہماری مساجد میں خطبہ جمعہ اُسی مسنون طریقے سے دیا جاتا تھا جو آپ ۖ کے عہد مبارک سے ہوتا ہو ایہاں پہنچا تھا ۔مسنون خطبہ سے قبل اپنے مقتدیوں کو اخلاقیات و معاملات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سنوارنے کی نصیحت کرنا بہت مستحسن ہے ۔ اور خطبہ ء جمعہ کا منشا و مقصد بھی یہی ہے ۔ لیکن اس خطبے کا رخ اپنے ہدف سے اُس وقت پھر گیا جب ہند و پاک میں برطانوی راج کے خلاف آزادی کی تحریک شروع ہوئی ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ علمائے ہند نے اُس زمانے میں منبر و محراب اور تقریر و خطبہ کو بہت برجستہ اور بر محل استعمال کیا ۔ لیکن جب ہمیں آزادی ملی اور پاکستان قائم ہوا تو ہماری مساجد میں جمعہ کے خطبات سے قبل کی تقاریر آہستہ آہستہ اپنے مرکز و محور سے ہٹنے لگیں ۔ ان تقاریر میں ایک طرف سیاست اور دوسری طرف فرقہ واریت ایسے دبے پائوں داخل ہوئی کہ اچھے اچھوں کو خبر نہ ہوئی ۔ اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہماری حکومتیں ، سیاسی جماعتیں اور عوام بڑ ھ چڑھ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مساجد بنوا کر اس میں شامل ہوتے چلے گئے ۔ گزشتہ ستر برسوں میںجمعہ کے خطبہ کی آڑ میں کیا فائدے اور کیا نقصانات ہوئے ۔ یہ پی ایچ ڈی سطح کے تحقیقی مقالے کا موضوع ہے ۔لیکن مختصراً خدا لگتی بات یہ ہے کہ نقصان زیادہ ہوا اور فائدہ کم ۔ آج ہماری مساجد فرقے اور مسلک کے تحت تقسیم ہیں ۔ ہر نمازی اور مقتدی اپنی مرضی اور ذائقے کی تقریر سننے کے لئے اپنی مخصوص مسجد میںجاتا ہے ۔ اور ذائقہ بدلنے اور سہ آتشہ بنانے کے لئے مخصوص ایام اور مواقع پر پیشہ ور خطباء کو بھی منبر پر تقاریر کے لئے دعوت دی جاتی ہے ۔ آج پاکستانی قوم کی فکری انتشار و خلجان میں ان چیزوں کا بہت بڑا کردا ر ہے ۔ کیا وقت نہیں آیا ہے کہ ہر جمعہ کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل یا کوئی خاص کمیٹی ایسے موضوع کا انتخاب وطن عزیز کی ساری مساجد کے لئے وائر ل کیا کرے جس کا تعلق اخلاقیات اور معاملات کے سدھا ر سے ہو ۔ کیا آئمہ مساجد ہر جمعہ کو اپنے مقتدیوں کے ذریعے اپنے علاقے اور محلے کے غرباء کی مدد کرنے ، تعلیم کو عام کرنے میں مدد دینے ، سماجی برائیوں کے سدباب کے لئے اتفاق اور چھوٹے چھوٹے جھگڑوںکو ختم کرنے کے لئے کردار ادا کرنے کی ترغیب نہیں دے سکتے ۔ یقینا ایسا ممکن ہے ۔ آئندہ جمعہ سے ہر امام مسجد اپنے مقتدیوں کو نصیحت کرے کہ صفائی نصف ایمان ہے ۔ لہٰذا ہر مقتدی اپنے گھر کا کوڑا کر کٹ مخصوص جگہ تک پہنچائے اور حکومتی محکموں کے ساتھ مل کر اور تعاون کر کے اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا کردار کریں ۔ کہ یہی دین اسلام اور نماز کی ادائیگی کا تقاضا اور مطالبہ ہے ۔ ورنہ بقول شاعر 

کچھ بھی حاصل نہ ہوا زہدمیں نخوت کے سوا
شغل بے کار ہیں سب تیری محبت کے سوا

متعلقہ خبریں