رندکے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

رندکے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

عتیقہ اوڈھو بے چاری تو ویسے ہی پیشیاں بھگت بھگت کے بدنام ہو رہی ہے ، حالانکہ موصوفہ نے عدالت کو اس بات کا ثبو ت بھی فراہم کر دیا تھا کہ وہ پاکستان کی نہیں کسی اور ملک کی شہری ہے اور کسی غیر ملکی پر امتناع شراب قانون کاا طلاق شاید نہیں کیا جا سکتا ، بہر حال یہ تو قانونی مسئلہ ہے اور اس پر کوئی ماہر قانون ہی بہتر طور پر روشنی ڈال سکتا ہے ، جبکہ ہم نے اس موضوع پر قلم اس لیے اٹھا یا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس کے دوران کمیٹی کی رکن شگفتہ جمانی نے جو بات کی ہے اس سے بڑے بڑے پارسائو ں کے چہرے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ موصوفہ نے کہا ہے کہ شراب سب ہی پیتے ہیں بتا تا کوئی نہیں ، ان کے اس جملے کو کیا ہم ''اعتراف گناہ'' سمجھ سکتے ہیں ؟ یعنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں ''سب '' کے بارے میں کیسے پتہ چلا کہ وہ پیتے ہیں ، مگر بتاتے نہیں ، مقصد کہنے کا یہ ہے کہ یہ تو یقینا اندر کی بات ہے تو اندر کی بات گھر کے بھید ی کے علاوہ کسی اور کو کیسے پتہ چل سکتی ہے ۔ اور جب تک کوئی ایسی محفلوں میں خود شریک نہ ہو اسے اس قدر بولڈ بات کرنے کی جرات بلکہ ''جرات رندانہ '' کیسے ہو سکتی ہے ؟ اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کسی شاعر نے کہا تھا کہ 

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
تحریک انصاف کے ڈاکٹرعارف علو ی نے محولہ کمیٹی کے اسی اجلاس میں کہا کہ شراب تو سیاستدان بھی پیتے ہیں اس لیے آئین میں ایسی چیز شامل نہ کی جائے جس پر عمل نہ ہو سکے ۔ ڈاکٹر علوی اگر اس موقع پر اس بوتل کا بھی ذکر کر دیتے جس پر '' شہد '' کا لیبل لگا ہوا تھا تو بات مزید کھل جاتی ، یہ تو خیر عام سی باتیں تھیں جن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ، البتہ وزیر اعظم کے مہمان خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ نے جو بات کی وہ بڑی لا جواب تھی ، موصوف نے فرمایا کہ قرآن مجید میں شراب کی ممانعت نہیں ۔ شراب سے متعلق حد کا تعین احادیث میں ہے ، بیرسٹر صاحب نے شاید یہ نہیں سنا کہ
گفتہ ء او گفتہ بوداللہ بود
گر چہ از حلقوم عبداللہ بود
یعنی حضور ۖ کے ارشاد ات مبارک دراصل اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں اگر چہ وہ اللہ کے ایک بندے ہی کے مبارک زبان سے ادا ہوتے ہیں یعنی اتنا توبیر سڑمانتے ہیں کہ حرمت شراب کے حوالے سے اللہ کے پیارے نبی ۖ نے وقتاًفوقتاًفر مایا ہے ، اور اسلامی تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ اسلام لانے سے پہلے عربوں میں شراب نوشی اس قدر عام تھی کہ پہلے جب اس کی ممانعت کا حکم آیا تو اتنا تھا کہ مسلمانوں کونماز کے اوقات میںشراب سے منع کیا گیا کیونکہ اگر شراب نوشی کی ممانعت یک لخت کردی جاتی تو شاید بہت سے مسلمان بھی یہ حکم نہ مانتے ، اس لیے اس ام انحبائث کو بتدریج ختم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی اور جب مسلمان آہستہ آہستہ شراب سے کنارہ کش ہونے کے عادی ہوتے چلے گئے تو پھر اس کی مکمل ممانعت کے احکامات نازل کئے گئے ۔ اس لئے اگر کوئی شخص احادیث کو تو مانتا ہو مگر ان میں حرمت شراب کے حوالے سے ''حد '' کو اہمیت اس لیے نہیں دیتا کہ نعوذ بااللہ اس سے قرآن میں کوئی ثبوت نہیں ملتا ،مگر شاید بیر سٹر ظفراللہ نے یا تو قرآن کا مطالعہ نہیں کیا یا پھر کسی جید عالم دین سے رجوع کر کے بھی اس حوالے سے درست معلومات حاصل نہیں کیں ۔ اگر چہ ہمیں اتنا تو معلوم تھا کہ شراب کی ممانعت کا ذکر قرآن مجید میں بھی موجود ہے تاہم صحیح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے خود ہم نے بھی پنج پیر کے مولانا طیب طاہری سے فون کر کے دریافت کیا تو انہوں نے درست حوالہ دینے میں ہماری رہنمائی فرمائی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ (219)اور مائدہ (90)میں شراب کی ممانعت فرما دی ہے اور ان آیات پر تفسیر عثمانی کا مطالعہ کیا جائے ۔ اس کے بعد اگر بیرسٹر ظفر اللہ بضد ہوں کہ شراب کی ممانعت کا ذکر قرآن حکیم میں نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے ۔
آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکا یت ہوگی
جہاں تک ڈاکٹر عارف علوی کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ شراب اب تو سیاستدان بھی پیتے ہیں تو یہ کہہ کر موصوف نے گویا پوری پارلیمنٹ کو لپیٹ میں لے لیا ہے ، اور یوں دینی سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو بھی نہیں بخشا ۔ اب یہ تو متعلقہ دینی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ ہی بہتر طور پر بتا سکتے ہیں ۔ یعنی اس پر بھی وہی کلیہ منطبق کیا جا سکتا ہے کہ اندر کی بات یہی لوگ اچھی طرح جانتے ہیں اس پر ہمیں انگریزوں کے دور کا ایک واقعہ یاد آگیا ۔ کہتے ہیں پشاور میں ایک انگریز اسسٹنٹ کمشنر ہوا کرتا تھا ۔ رعونت سے بھرا ہوا ۔ وہ ماتحت مسلمانوں اور ہندوئوں کو معمولی سی غلطی یا پھر موصوف کے کسی حکم کی بجا آوری پر انہیں غلیظ گالیاں بکا کرتا تھا ۔ا س کا ایک اردلی تھا جس کاتعلق قبائلی علاقے سے تھا اس بے چارے کی تو ہر وقت شامت آیا کرتی ،ایک بار اس نے ایک ترکیب سوچی اور اس پر عمل در آمد کرنے کا فیصلہ کیا ، انگریز اسسٹنٹ کمشنر نے اسے کسی کام سے بلایا تو اس نے حکم کے مطابق جان بوجھ کر کمرے میں جانے سے دیر کردی ، اور جب وہ بالآخر اندر گیا تو اس نے دروازے کی چٹخنی اندر سے بند کرکے انگریز کی گالیوں اور شور وغو غا کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی درگت بنانی شروع کردی ۔ اس نے اپنے کپڑے بھی پھاڑ دیئے اور جب انگریز کی اچھی خاصی پٹائی کردی تو دروازہ کھول کر فریاد کرتا ہوا باہر چلا گیا ۔ اردلی نے فریاد کی کہ صاحب بہادر نے اسے مارا ہے ، دیسی لوگ غصے میں آگئے ، انگریز اسسٹنٹ کمشنر نے صورتحال بگڑتے دیکھی تو کہا ، ویل ویل ، اندر کا بات یا ہم جانتا ہے یا یہ جانتا ہے ، تم لوگ جائو اپنا کام کرو اس لیے اندر کی بات گھر کے ہی بھیدی جانتے ہیں کہ کون کون شراب پیتا ہے ۔

متعلقہ خبریں