حلال فوڈ انڈسٹری کی ضرورت

حلال فوڈ انڈسٹری کی ضرورت

بسا اوقات انسان کو اپنے اندر موجود خوبیو ں اورصلاحیتوں کا خود بھی اندازہ نہیں ہوتا ہے' زمانے کے گردش ایام کے ساتھ ساتھ ان خوبیوں کے بارے علم ہوتا ہے یا کوئی خیر خواہ اس جانب توجہ دلاتا ہے۔ ان دونوں طریقوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ گردشِ ایام میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے تو وقت گزر چکا ہوتا ہے جب کہ خیر خواہ کے توجہ دلانے سے اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہے ۔ اربابِ اختیار کواندازہ ہی نہیں کہ پاکستان کی کیا اہمیت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کن کن نعمتوں سے نوازا ہے؟ گردش ایام سے کب یہ اجاگر ہو کسی کو معلوم نہیں البتہ وقتاً فوقتاً ہمارے خیر خواہ اس جانب توجہ ضرور دلاتے رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں ملائیشیاء کے سابق وزیر اعظم عبداللہ بن احمد بداوی پاکستان کے دورہ پر تھے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت ملک کی سماجی ' سیاسی اور تاجربرادری کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان کے محل وقوع اور قدرتی وسائل کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ملائیشیاء کی متعدد کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کرنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔تاہم یہ کام مختلف شعبوںمیںباہمی قریبی تعاون کوفروغ دیئے بغیر ممکن نہیںہے،عرب ممالک کی اکثریت یورپی یونین سے حلال فوڈ درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ یورپ اس مد میں اربوں ڈالر کی تجارت کر رہا ہے جب کہ مسلم ممالک خواب خرگوش میں محو دکھائی دیتے ہیں' حالانکہ اگر صرف حلال فوڈ کی طرف ہی توجہ دی جائے ' گوشت' دودھ' مکھن' دہی ' لسی اور اس سے منسلک دیگر پراڈکٹ کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے تو اس سے دو فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیںایک تو مسلم ممالک کو تسلی ہو گی کہ انہیں واقعی حلال فوڈ ہی دیے جا رہے ہیں ،دوسرے یہ کہ ہم حلال فوڈ کی سپلائی سے اپنے ملک سے بے روزگاری کے خاتمے سمیت دیگر مشکلات سے نکل کر اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ ملائیشیاء کے سابق وزیر اعظم عبداللہ بداوی نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیاء حلال انڈسٹری' تیل و گیس کی تلاش' اسلامک فنانس اور ہیلتھ کیئر سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کر سکتے ہیں۔ ملائشیاء اور پاکستان چین کے تاریخی ترقیاتی منصوبے ''ایک پٹی ایک شاہراہ'' میں سٹیک ہولڈرز ہیں لہٰذا دونوں کے لیے اہم موقع ہے کہ باہمی تعاون بڑھا کر اس منصوبے سے مستفید ہونے کی کوشش کریں۔ دونوں ممالک میں کم تجارت کی اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا محدود اشیاء میں تجارت کر رہے ہیں ۔ پاکستان زیادہ تر ملائیشیاء کو چاول ' مکئی ' کپاس' ٹیکسٹائل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے جب کہ ملائیشیاء زیادہ تر پاکستان کو پام آئل ' فائبر بورڈ' ربڑ اور الیکٹریکل و الیکٹرانکس کا سامان برآمد کرتا ہے۔ پاکستان کی متعدد غیر روایتی مصنوعات بشمول باسمتی چاول ' گندم' آم' حلال فوڈ' سمندری خوراک' گوشت' کھیلوں کا سامان' مصالحہ جات' دستکاری کی مصنوعات ' انجینئرنگ کی چھوٹی مصنوعات' ہسپتال کا سامان' آلات جراحی' ادویات اور جیمز و جیولری وغیرہ ملائیشیاء کی مارکیٹ میں مقبولیت حاصل کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں پام آئل کی کاشت ' سستی ہاؤسنگ سکیموں اور ہائی ویز کی تعمیر ' لائیو سٹاک و ڈیری ' توانائی' ٹرانسپورٹ' انفارمیشن ٹیکنالوجی ' شپ بریکنگ ' فوڈ پراسیسنگ ' سپورٹس گڈز اور حلال صنعت میںملائیشیاء کے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع میں۔ اس وقت ملائیشیاء اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم 45ارب رنگٹس (11ارب امریکی ڈالرز) کے لگ بھگ ہے۔ متحدہ عرب امارات ملائیشیاء کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے' اس کے بعد سعودی عرب کا نمبر ہے۔ عبداللہ بداوی کا دورہ پاکستان گو غیر سرکاری تھا ' لیکن وزیر اعظم خیبر پختونخوا کے ساتھ ملاقات اور حلال فوڈ انڈسٹری کے قیام بارے مشاورت انتہائی خوش آئند ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی وہ مصنوعات جن کی عالمی مارکیٹ میں مانگ ہے سی پیک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مصنوعات کو ملائیشیاء سمیت پوری دنیا میں پہنچایا جائے۔ یورپ سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک نے ایسا ہی کیا ہے سرحدیں کھولنے کے بعد ایک دوسرے کی مصنوعات سے فائدہ اُٹھایا آج وہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہیں۔ ملائیشیا ء نے معاشی ترقی اور کامیابی کیلئے جاپان ماڈل اور جنوبی کے تجربے سے استفادہ کیا ہے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے معاشی منصوبوں پر عمل درآمد کیا ۔ملائیشیا ء نے اپنے ہاںجاپان اور جنوبی کوریا کے کام کی اخلاقیات کا اطلاق بھی کیا ،اس مقصد کے لئے ملائیشیاء نے اپنے طلباء کو ان دونوں ممالک کی نامور جامعات میں تعلیم کیلئے بھیجا ۔یوں اس اقدام سے ملائیشیاء کی اقتصادی ترقی کے عمل کو بہت فائدہ ہوا۔ہمیں بھی ملائیشیاء کی تقلید کرتے ہوئے اپنے طلباء کو جاپان ،جنوبی کوریا ،یورپی ممالک اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی جامعات میں بھیجنا چاہئے کیونکہ جب یہ طلباء بیرون ممالک کے تعلیمی اداروں سے بزنس کی تعلیم اور اخلاقیات سیکھ کر آئیں گے تو ہم بھی اس سے مستفید ہوں گے۔

متعلقہ خبریں