عصر حاضر میں ڈرامہ نگاری

عصر حاضر میں ڈرامہ نگاری

کہانی انسان کی سرشت میںشامل ہے ،انسان کہانی سننا اور کہنا چاہتاہے ۔ ہماری روزمرہ زندگی میں دیکھا جائے تو ہم ایک دوسرے کو کہانی ہی سنا رہے ہوتے ہیں ۔ جب ہم گھر آتے ہیں تو بیوی بچوںکو پورے دن کی روداد سناتے ہیں ۔ گھریلوخواتین تو خاص طور پر اس انتظار میں ہوتی ہیں کہ کب شوہر نامدار کی آمد ہواور ان کے سامنے کھانا رکھ کر اپنے دن کی کارگزاری بیان کریں ۔ کہانی پڑھنے کی یا سننے کی چیز ہے جبکہ کہانی کی ایک اور صورت ڈرامہ ہے کہ جس میںکہانی کو کرداروں کے ذریعے ادا کیا جاتا۔ سنی یا پڑھی جانے والی کہانی میں ہمارا تخیل کام کرتا ہے اور لفظوں سے ہمارے تخیل میں تصویریں بنتی ہیں ۔ جبکہ ڈرامہ میں ہمارے تخیل کو مشقت نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ کہانی اپنے اصل روپ میں ہمیں دکھائی جاتی ہے ۔ایک ادارے کی جانب سے ''عصر حاضر میں ڈرامہ نگاری'' کے موضوع پر ایک سیشن میں ہمیں بھی دعوت دی گئی کہ اظہار خیال کریں ۔

یہ تمہید اسی سلسلے میں باندھی گئی تھی ۔ میرا ڈرامہ نگاری میں بہت وسیع تجربہ تو نہیں ہے کل ملا کے پی ٹی وی کے لیے تین چار سیریزاور سیریلز ، ریڈیوکے متفرق ڈرامے اور ایک ٹیلی فلم ہی لکھ پایاہوں اب تک ۔ میرے نزدیک تمام نثری تحریروں میں ڈرامہ سب سے مشکل یا یوں کہیئے کمپلی کیٹڈ تحریر ہوتی ہے ۔ کیونکہ اس میں لکھنے والا مختلف حوالوں کو ایک ساتھ لے کرچلتا ہے ۔ڈرامہ نگار ایک خاص آڈئینس کے لیے ڈرامہ لکھتا ہے اس لیے اس تناظر کو سارے ڈرامے میں مدنظر رکھنا پڑتا ہے ۔ کہانی کی مناظر میں تقسیم الگ سے ایک ایشو ہوتا ہے ۔ کہانی میں دلچسپی کے عنصر کو برقرار رکھنا بھی از بس ضروری ہوتا ہے۔گویا کسی بھی ڈرامہ میں سب سے اہم کردار ڈرامہ نگار کا سکرپٹ ہے ۔ کہتے ہیں کہ ایک اچھے سکرپٹ کو برا پروڈیوسر بگاڑ سکتا ہے لیکن ایک برے سکرپٹ کو بہت اچھا پروڈیوسر بھی اچھا نہیں کرسکتا ۔جس زمانے میں پی ٹی وی اکلوتا ٹی وی چینل تھا تو اس کا ڈرامہ اپنی بلندیوں کو چھو رہا تھا ۔ اچھے ڈرامے کا لوگ پورا ہفتہ انتظار کیاکرتے تھے ۔اور جب وہ ڈرامہ آن ائیر ہوتا گلیاں اور سڑکیں سنسان اور ویران ہوجایا کرتی تھیں ۔ یقینا وہ وقت بھی ایسا تھا کہ پورا ملک ایک ٹی وی چینل دیکھنے پر مجبور تھا ۔ پی ٹی وی والوں کو بھی احساس تھا جس سے اچھا ڈرامہ پیش کرنے کا ایک دباؤ ان پرضرور رہتا تھا ۔پی ٹی وی کاموجودہ حال روایتی سرکاری ادار ے کا ہی ہے کہ وہاںڈرامے کے ماضی کاوہ معیار ایک خوشگوار یاد ہی رہ گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرائیویٹ چینلز نے پی ٹی وی کو مات دے دی ہے ۔ پی ٹی وی جو کہ کسی بھی چینل سے زیادہ بڑا انفراسٹرکچر رکھنے والا ادارہ ہے ۔ اس کے ملازمین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے لیکن اس ادارے نے بالخصوص ترقی سے زوال کی جانب سفر کیاہے ۔ اس کے بہت سے محرکات ہیں ۔جنہیں فی الوقت چھوڑ کر آج کے ڈرامے کے منظرنامے کی جانب بڑھتے ہیں ۔اس وقت علاقائی اور اردو ڈرامہ پیش کیا جارہا ہے ۔ علاقائی ڈراموں کا بیڑہ پی ٹی وی اور چند علاقائی چینلوں نے اٹھا رکھا ہے ۔جبکہ اردو ڈرامہ بھی پی ٹی وی کے ساتھ پرائیویٹ چینلز بھی پیش کررہے ہیں ۔ پی ٹی وی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے ناسٹیلجیا سے باہر نہیں نکل پارہا جبکہ پرائیویٹ چینل مختلف تجربات سے گزرکرکافی آگے جاچکا ہے ۔ ہمارے ڈرامے کے ناظر کو کچھ حد تک انڈیا کے سوپ سیریلز نے قابوکرلیاتھا لیکن پرائیویٹ چینلز نے اس ناظر کو واپس لانے میں اپناکردار ضرور ادا کیا ہے ، بلکہ خود ان چینلز کے لیے بنائے گئے ڈرامے انڈیا میں پذیرائی حاصل کررہے ہیں ۔ لیکن اب بھی وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہمارا اردو ڈرامہ ماضی کے پی ٹی وی کے ڈرامے کوپہنچ چکا ہے ۔
ہوا یہ ہے کہ کراچی جو تقریباً پرائیویٹ چینلوں کا ہیڈ کوارٹر ہے ۔یوں سارے کا سارا اردو ڈرامہ سکڑ کر کراچی منتقل ہوچکا ہے ۔ بہت سے رائیٹر ، ایکٹر اور پروڈیوسر اور فنانسر کراچی جاکر ڈرامہ بنارہے ۔کراچی کی فضا میںایک جیسے مخصوص موضوعات پر ڈرامہ بن رہا ہے۔اس میں بھی دو طرح کا ڈرامہ سامنے آرہا ہے ۔ایک انتہائی پوش اور الٹرا ماڈرن لوگوں کی کہانیوں پر مبنی کہ جس میںکروڑوں کی باتیں ، لگژری گاڑیوں ، عالیشان بنگلوں کو دکھاکر ناظرین کی آنکھیں خیرا کی جاتی ہیں ۔ جبکہ دوسرا ڈرامہ کراچی کے لوئر مڈل طبقے کی کہانیاں ہیں کہ جہاں تنگ گلیوں میں سسکتے لوگوں کے مسائل پر مبنی ڈرامے بنتے ہیں ۔ لیکن ان دونوں صورتوں میں قطعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ ڈرامہ کلی طور پر پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتا ۔ بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈرامؤہ سکڑ کر اچی تک محدود ہوگیا ہے ۔ میری اس سیشن میں یہ تجویز تھی کہ پرائیویٹ چینلز اپنی سہولت کو نہ دیکھیں اور صرف کراچی کو ڈرامہ کی مارکیٹ تسلیم کرکے ڈرامے کو جمود کا شکار نہ کریں بلکہ پاکستان کے دوسرے شہروں کے ڈرامہ نگاروں سے ان کے مقامی موضوعات پر مبنی ڈرامے لکھوائیں ،انہی علاقوں کے فنکاروں کو اس میں کاسٹ کریں اور انہی علاقوں میں اس کی عکس بندی کروائیں تو یوں ایک تو ڈرامے کے موضوعات میں ورائٹی آئے گی ، ساتھ ہی نئے اداکارچہرے سامنے آئیں گے اورساتھ ہی ایک صحت مند مقابلے کا رجحان بھی سامنے آئے گا۔کیونکہ اس وقت تو چند رائیٹروں اور چند پروڈیوسروں اور چند اداکاروں کے علاوہ ڈرامہ کہیں اور نہیں موجود ۔

متعلقہ خبریں