قربانی کا نیا باب

قربانی کا نیا باب

ایک ایسے وقت میں جب وطن عزیز میں سیاسی سرگرمیوں کے باعث پوری قوم کی توجہ کا مرکز سیاست ہے ملاکنڈ ڈویژن کے مرکزی مقام لوئر دیر کے علاقہ تیمر گرہ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران ایک میجر سمیت تین سپاہیوں کی شہادت کا واقعہ افسوسناک تو ہے ہی اس سے اس امر کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ دہشت گرد کبھی بھی کہیں بھی سامنے آسکتے ہیں ، یہ ضرور ہے کہ شہری علاقوں سے لیکر قبائلی علاقوں تک ان کا بڑے پیمانے پر صفایا کر دیا گیا ہے مگر دہشت گردوں کی بکھری ٹولیوں اور ان کے مکمل خاتمے میں ابھی بہت عرصہ در کار ہوگا ۔سالوں پر محیط اور ہزاروں سرگرم دہشت گردوں کا جس قسم کا مکمل صفایا ہونا چاہیئے اس کے لئے ہماری سیکورٹی فورسز کو مزید سخت اور قربانیاں دینی ہوں گی ۔ تیمر گرہ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مکمل تفصیلات کا تو علم نہیں لیکن ایک حساس ادارے کے میجر سمیت تین سپاہیوں کی شہادت سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کے جس ٹولے کے خلاف یہ آپریشن کیا گیا وہ عام نہیں بلکہ دہشت گرد نیٹ ورک کے اہم ارکان ہوں گے ۔ پاک فوج کی قیادت ایک مشکل علاقے میں مشکلات سے بھرپور آپریشن خیبر فور کی کامیابی کے لئے کوشاں ہے جس کے ممکنہ ردعمل شہری علاقے میں سامنے آنے کے امکانات سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔ آپریشن خیبر فور کی خاص طور پر اہمیت یہ ہے کہ یہ آپریشن تورہ بورہ کے پہاڑی سلسلے کوہ سفید راجگال کے ناقابل رسائی اور دشوار گزار علاقے میں داعش' لشکر اسلام اور ان دہشت گردوں کیخلاف کیا جارہا ہے جن کو زیر اور خاتمہ کئے بغیر قیام امن اور استحکام امن کی مساعی ادھوری رہنے کاخدشہ ہے۔ پاک فوج اپنے سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔ بجائے اس کے کہ پڑوسی ممالک اپنی حدود میں دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے الٹا پاکستان کو مطعون کیاجا رہاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاک فوج کو کسی قسم کے تردد کے بغیر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پرکارروائی جاری رکھنی چاہئے اور اہمیت کے حامل مقامات تک رسائی حاصل کرکے وہاں پر مستحکم پوزیشنیں قائم کرکے ملکی سرحدوں کو محفوظ اور مضبوط بنانے کی قومی ذمہ داری پوری کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہئے۔ دفاع وطن اور سرحدی استحکام کی مساعی میں پاک فوج کی قیادت کو پوری قوم کی تائید و حمایت کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ قوم فوج کے پیشہ ورانہ مہارت اور کردار کی معترف ہے اور فوج کی قیادت سے بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور شہری علاقوں میں ضرورت پڑنے پر تیمر گرہ میں آپریشن کرتی رہے گی تاکہ وطن اور اہل وطن کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک سرحدی علاقوں میں دفاعی پوزیشنوں کو مستحکم کرکے دہشت گردوں کی آمد و رفت کو مکمل طور پر مسدود نہیں کیا جائے گا قبائلی علاقوں سمیت بندوبستی علاقوںمیں اس قسم کے آپریشنز کی ضرورت باقی رہے گی ۔ دہشت گردوں کی آمد و رفت کی مکمل روک تھام اور ان کی آمد و رفت کو نا ممکن بنانے کی ترجیح اول کے حصول کے بعد ہی اس امر کی توقع کی جاسکے گی کہ قبائلی علاقوں اور بندوبستی علاقوں میں امن قائم ہو۔ ہمارے تئیںبچے کھچے دشمنوں کا صفایا اور قبائلی علاقوں سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والوں کی محدود تعداد کی واپسی و بحالی کا حتمی مرحلہ جتنا جلد اور اہتمام کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا اتنا ہی ملک و قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔ بجا طور پر اس امر کی توقع کی جاسکتی ہے کہ خیبر ایجنسی کے اس دشوار گزار علاقے سے دہشت گردوں کا نہ صرف مکمل طور پر صفایا ہوگا اور نہ دہشت گردوں کی آمد و رفت اور دراندازی کی سعی مکمل طور پر نا ممکن بنا دی جائے گی بلکہ وطن عزیز میں قیام امن کی ایسی بنیاد پڑے گی جس کے بعد پھر دہشت گردی کی کسی واردات کا خطرہ باقی نہیں رہے گا۔ قوم بجا طور پر پاک فوج سے دہشت گردوں کے خاتمے کی توقع رکھتی ہے اور پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ پاک فوج اپنا کردار بحسن و خوبی نبھا رہی ہے لیکن اسے عوام کی حمایت و اعانت کی بھی ضرورت ہے جس کا تقاضا ہے کہ عوام اطلاعات و نشاندہی کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائے ۔ عوام نہ تو از خود کسی سرگرمی میں ملوث ہوں جس سے براہ راست اور بالواسطہ امن کے دشمنوں کے لئے کوئی سہولت پیدا ہو اور وہ ہمارے ارادوں کو جانچ سکیں ۔ تازہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس امر کا متقاضی ہے کہ پوری قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور وطن عزیز میں استحکام امن کے ضمن میں نئے عزم کے ساتھ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے صفایا کا عزم کر ے اور اس ضمن میں ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرے ۔ پاک فوج افسران اورجوان ہر بار قربانی کا نیا باب ر قم کرتے ہیں تیمر گرہ کا واقعہ بھی اسی باب کا تسلسل ہے جس میں جان کا نذرانہ دے کر دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا نے والے شہدا ء اور غازی بجا طور پر خراج عقیدت اور خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔

متعلقہ خبریں