بڑھتی لوڈ شیڈنگ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ

بڑھتی لوڈ شیڈنگ سے عوام کی مشکلات میں اضافہ

گو کہ نئی حکومت اور پرانے حکمرانوں کے تسلسل میں چلے آنے والے نئے حکمران ایک مرتبہ پھر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے نئے عزم کا اظہار کر رہے ہیں اچانک سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ اور بجلی کی بار بار کی بندش سے اس عزم کی عملی نفی ہوئی ہے جس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہمیں حکمرانوں کے عزم اور ان کے منصوبوں سے اختلاف نہیں ان کی مساعی کا بھی اعتراف نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں لیکن اس وقت عملی طور پر بجلی کے بحران کا سراٹھا نا عوام کے لئے تکلیف اور مشکلات کا باعث ہے ۔ جس کے خلاف عوام کا احتجاج اور مخالفین کی حکومت پر تنقید ناروا نہیں بلکہ فطری امر ہے ۔ حال ہی میں ملاکنڈ میں بے تحاشا لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کے دوران ایک نوجوان کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا واقعہ رونما ہوا تھا اس طرح کی صورتحال میں جبکہ شدید گرمی اور حبس سے سانس بھی لینا دشوار ہو جائے اگر بجلی کی لوڈ شیڈنگ رہی سہی کسر پوری کردے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے علاوہ کوئی دوسری صورت باقی نہیں رہتی ۔ عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کی واحد ذمہ داروفاقی حکومت کے زیر اہتمام واپڈا کا ادارہ ہے ۔ ایسا ضرور ہے اور یہ بھی درست ہے کہ خیبر پختونخوا کو بجلی کا مطلوبہ کوٹہ بھی نہیں دیا جارہا لیکن دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ صوبائی حکومت بھی اپنی ذمہ داریوں کی کما حقہ ادائیگی میں سنجیدہ نہیں جس کے نتیجے میں لوڈ شیڈنگ میں کمی لائی جا سکے ۔ خیبرپختونخوا کی حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں چکدرہ گرڈ سٹیشن کے لئے جگہ فراہم نہیں کی اب چارسالوں کے بعد جگہ فراہم کی جارہی ہے وفاقی حکومت نے چکدرہ گرڈسٹیشن کیلئے 54 کروڑ روپے رکھے ہیں مگر صوبائی حکومت اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکام رہی اس طرح کے کئی ایسے مسائل ہیں جن کا تعلق صوبائی حکومت سے ہے ۔ بجلی کی پیداوار میں اضافہ زیادہ مسئلہ نہیں بلکہ لوڈشیڈنگ کی حقیقی وجہ ٹرانسمیشن لائن کی بوسیدگی اور برقی رو کی ترسیل کے انتظام کا ناکارہ ہوجانا بھی ہے۔ اگر کسی علاقے میں گرڈ سٹیشن ہی تعمیر نہ ہو تو علاقے کو بجلی کیسے مہیا کی جاسکتی ہے ۔ اس طرح کے معاملات پر صوبائی حکومت کو بھی اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے ۔ اس عوامی مسئلے کے حل کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں دیانتداری اور بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت کا احساس ہونا چاہئے تاکہ عوام کو جتنا ممکن ہوسکے لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بچایا جاسکے۔

ترقیاتی کاموں کی سست روئی کا معاملہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی جانب سے این ایل سی سے ترقیاتی منصوبوں کی مدت تکمیل میں کام مکمل نہ کرنے پر جواب طلبی اس امر کا اعتراف ہے کہ صوبائی حکومت جس کمپنی کو اچھے ریٹ پر اور بغیر ٹینڈ ر کے ترقیاتی کام حوالے کرتی رہی ہے اس کی جانب سے اسی طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کیا گیا جس کی اس کمپنی کے معیار اور نیک نامی کی بنا ء پر توقع تھی ۔ این ایل سی کی مہارت میں کوئی کلام نہیں ۔ باب پشاور کی بروقت تکمیل سے اس کمپنی سے جو امید یں وابستہ کی گئی تھیں اس پر پورا نہ اترنا لمحہ فکریہ ضرور ہے ۔ صوبائی حکومت کے کئی ایک منصوبوں کی نوعیت اس قسم کی ہے کہ اس سے پورا شہر اور تقریباً ہر دوسرا شہری متاثر ہوتا ہے اس بناء پر اس طرف توجہ بھی فطری امر ہے ۔ پشاور کی واحد مرکزی شاہراہ یونیورسٹی روڈ کے دونوں اطراف مہینوں سے کام جاری ہے مگر مشینری اور عملے کی تعداد اور کام کی سست رفتاری دیکھ کر کسی طور یہ اندازہ نہیں ہو پاتا کہ اس کام کو ایک اعلیٰ معیار کی کمپنی انجام دے رہی ہے ۔باب پشاور تعمیر کرنے والی کمپنی اگر عملہ اور مشینری لگا کر کام کرے تو یونیورسٹی روڈ کے اطراف کی کھلی نالیاں ہفتہ عشرہ میں بن سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جن منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر کا نوٹس لیا ہے وہ بھی اپنی جگہ عوامی اہمیت کے حامل ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔ یونیورسٹی روڈ رنگ روڈ کی نالیوں اور سروس روڈسمیت اس سے متعلقہ تمام کاموں کو دن رات ایک کر کے مکمل کیا جائے تاکہ ریپڈ بس منصوبے کے لئے کام شروع کرنے کی راہ ہموار ہو جائے اور متبادل بندوبست اس صورت ہی ممکن ہوگا جب رابطہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت بروقت ہو ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ ترقیاتی منصوبوں کے متعلقہ کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو عوام کی مشکلات کا احساس ہوگا اور وہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی ہدایت اور نوٹس لینے کو اپنی ناکامی سے تعبیر کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مزید وقت کا ضیاع نہیں کریں گے بلکہ اب تک جو کوتاہی اور تساہل

کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس کا بھی ازالہ کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ایسا کرنا خود ان کمپنیوں کے اپنے مفاد میں ہے کہ ان پر حکومت اور عوام دونوں کا اعتماد بحال رہے اور ان کی ساکھ متاثر نہ ہو ۔

متعلقہ خبریں