خارجہ امور پر بریفنگ

خارجہ امور پر بریفنگ

پاناما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو ئوں کا دور ختم ہوا ہے تو اب میڈیا سابق وزیراعظم میاں نوا ز شریف کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر روزانہ کے بیانات اور ان کے سفر لاہور کے دوران متوقع خطاب پر مرتکز ہوگیا ہے۔ جیسے اس موضوع کے سوا ملک اور دنیا میں اور کچھ ہوہی نہیں رہا ہے اور حالات وواقعات پاکستان اور پاکستان کے عوام پر کیا اثرات مرتب کرنے کے امکانات یا خدشات کے حامل ہیں۔ نئے وزیراعظم نے عہدہ سنبھال لیا ہے اور اتنی بھاری بھر کم کابینہ بھی ترتیب دے لی ہے۔ لیکن اس کابینہ نے ملک میں امن و امان' اقتصادی صورتحال' عوام کے مہنگائی' بے روزگاری کے مسائل' تعلیم اور صحت کے مسائل کا کیا جائزہ لیا ہے۔ کیا اقدامات طے کئے ہیں یہ واضح نہیں ہے۔ نئی کابینہ میں اگرچہ پرانے چہرے نظر آتے ہیں البتہ نئی کابینہ میں وزیرخارجہ کا عہدہ موجود ہے جو سابقہ کابینہ میں نہیںتھا اور خارجہ امور وزیراعظم کے دفتر کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔یہ بات بھی نئی ہے کہ وزیراعظم نے خارجہ امور کے بارے میں گزشتہ روز بریفنگ لی ہے۔ یہ بریفنگ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے دی۔ اس میں وزیرخارجہ خواجہ آصف بھی موجود تھے۔ اس بریفنگ کے بعد جو خبر شائع ہوئی اس کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پاک چین تعلقات کومزید مضبوط بنانے کی بات کی ہے اور کہا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز تر کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہاہے کہ اقتصادی سفارت کاری پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ اس خبر میں پاک امریکہ تعلقات کے زیر غور آنے کا ذکر نہیں تھا جو حیران کن ہے کیونکہ امریکہ میں اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق امریکہ کی افغانستان پالیسی پرانکوائری کی جارہی ہے اور یہ بحث افغانستان سے نکل کر جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکی پالیسی تک وسعت اختیار کرچکی ہے۔ گزشتہ ایک عرصے سے جب سے امریکہ نے طالبان کے افغانستان پر فوج کشی کی تھی اور اس کے بعد وہاں شمالی اتحاد اور اس کے حامیوں کی حکومت قائم ہوئی ہے امریکہ کا پاکستان سے افغانستان میں ڈومور کا مطالبہ مسلسل موجود ہے۔ پاکستان سے کہا جاتاہے کہ اپنی سرزمین سے حقانی گروپ کا صفایا کر دے۔ افغان طالبان کے عناصر کو ختم کر دے۔ فاٹا میں پاکستان کے آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے اس کے باوجود پاکستان پر افغانستان میں دہشت گردی کی معاونت کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف کہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں اخراجات کم کرنا چاہتے ہیں دوسری طرف وہ افغانستان میں مزید پانچ ہزار فوج بھیجنے کی بھی بات کرتے ہیں۔ اس موضوع پر امریکہ میں جاری بحث اداروں سے نکل کر امریکی میڈیا تک پہنچ چکی ہے اور افغانستان میں استحکام اور امن و امان کے کام میں ناکامی کی ذمہ داری بالعموم پاکستان پر عائد کی جارہی ہے۔ امریکہ نے گزشتہ عشرے سے جاری پاکستان سے ڈومور کے مطالبے پر جو سوال پاکستان کی ریاست کی طرف سے کیا جانا چاہیے تھا وہ اب امریکہ کا میڈیا اٹھارہا ہے اور امریکی انتظامیہ سے کہا جارہا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا ہدف واضح کرے۔ حال ہی میں امریکہ کی قائم مقام نائب وزیر خارجہ پاکستان آئیں انہوں نے پاکستان کی خارجہ امور کی سیکرٹری سے ملاقات بھی کی اور جاتے جاتے یہ کہہ گئی کہ پاکستان کو کسی صورت میں اپنی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال نہیں کرنی چاہیے ۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارتی پراپیگنڈے کا جادو امریکی دفتر خارجہ کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ امریکہ میں افغانستان کے بارے میں جوبحث جاری ہے اس میں پاکستانی قیادت کو فعال حصہ لینا چاہیے اورامریکیوں سے یہ وضاحت حاصل کرنی چاہیے کہ ڈومور سے آخر امریکہ کی مراد کیا ہے۔ کیا امریکی چاہتے ہیں کہ پاک فوج افغانستان پر چڑھائی کر دے اور امریکی اور افغان فوج کیلئے طالبان کا صفایا کر دے۔کیا امریکی یہ چاہتے ہیں کہ وہ خود ایک بار پھر افغانستان میں بمباری کرکے افغان طالبان کو ملیامیٹ کرنے کیلئے افغان آبادی کو تہس نہس کر دیں۔ کیا امریکی افغانستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں یا افغانستان میں طالبان اورشمالی اتحاد کی حکومت کے درمیان باہمی مذاکرات کے ذریعے امن چاہتے ہیں۔ جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ پاکستان سے جاکر دہشت گرد افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں تو کیا امریکی پاک افغان سرحد کی باڑ بندی میں تعان کرنے پر تیار ہوں گے تاکہ سرحدی انتظام کے ذریعے آزادانہ آمدورفت بند ہو جائے اور مقررہ راستوں ہی سے آنے جانے کی اجازت ہو اور یہ معلوم ہو کہ کون سرحد پار کررہا ہے۔ خارجہ پالیسی کا دوسرا اہم موضوع جس کا بریفنگ کے حوالے سے ذکر نہیں مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور اس میں پاکستان کا کردار' پاکستان کو نہ صرف جغرافیائی قرب کے حوالے سے ملک میں مذہب' ثقافتی اور تاریخی رشتوں کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کے ممالک سے الگ نہیں سمجھا جاسکتا۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان دوری کو قرب میں بدلنا پاکستان کا اہم فرض ہونا چاہیے تھا لیکن اس حوالے سے ایک عرصے سے پاکستان کی سفارت کاری میں کوئی فعالیت نظر نہیںآتی۔ اب سعودی عرب اور قطر کے تنازعہ میں بھی پاکستان کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا جو ترکی کے صدر اردوان نے کیا۔ پاکستان کیلئے ضروری ہونا چاہیے تھا کہ وہ غیر عرب ملکوں کے تعاون سے اسلامی کانفرنس کی تنظیم کو فعال کرتا تاکہ اسلامی اتحاد دنیا میں موثر کردا ر ادا کرسکے۔ مسلمان ملکوں کے اتحاد کی مضبوطی ان کا دینی اور ثقافتی رشتہ ہے۔ اس سے کٹ کر کوئی بھی مسلمان ملک کمزور بھی ہوسکتاہے۔ پاکستان کی قیادت کیلئے فرض ہونا چاہیے کہ وہ یہ حقیقت اسلامی ملکوں کو باور کرائے۔ اب جبکہ ایک وزیرخارجہ کا تقرر بھی ہوچکاہے،امیدکی جانی چاہیے کہ ان موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں