43 رکنی کابینہ اور 2018ء کے عام انتخابات

43 رکنی کابینہ اور 2018ء کے عام انتخابات

سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے حوالے سے بہت سی افواہیں گردش کررہی تھیں جن کا اختتام شاہد خاقان عباسی کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد ہوا۔ اپنی پہلی تقریر میں شاہد خاقان عباسی نے بہت سے دعوے کئے اور ملک کو سدھارنے کے بہت سے اقدامات کرنے کا عہد کیا۔ یہاں پر یہ امر قابلِ حیرت ہے کہ اپنے عزائم کے اظہار کے فوراً بعدشاہد خاقان عباسی نے 43 رکنی کابینہ کا اعلان کرکے ملکی خزانے پر مزید بوجھ ڈال دیا۔ اس 43 رکنی کابینہ میں 27 وفاقی جبکہ 16 سٹیٹ منسٹرز شامل ہیںجن کے لئے 5 نئی وزارتیں اور ڈویژن تشکیل دیئے گئے ہیں۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے غریب عوام پر وزیروں کا بوجھ ڈالنا کون سی جمہوریت ہے ؟ کیا کسی نے یہ بھی سوچا ہے کہ اتنی بڑی کابینہ قومی خزانے پر کس قدر بوجھ ڈالے گی اور قومی خزانے پر پڑنے والے اس اضافی بوجھ کو پورا کرنے کے لئے عوام کی جیب پر کتنا بوجھ ڈالا جائے گا ؟ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے مطابق وفاقی کابینہ کے اراکین کی تعداد قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کی مجموعی تعداد کا 11 فیصد ہونی چاہیے ۔ اس فارمولے کے مطابق موجودہ اراکینِ پارلیمنٹ کی تعداد کے تناسب سے حکمران جماعت زیادہ سے زیادہ 47 وزراء کی کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے۔ موجودہ کابینہ کے حلف اٹھانے کے بعد وزیرِ اعظم کے پاس نئے وزیر بنانے کی گنجائش بہت کم ہے ۔ اس وقت جب پارلیمنٹ کو وزیرِ اعظم سے وزراء کی اس فوج ظفر موج کے بارے میں پوچھنا چاہیے، پارلیمنٹ میں بحث کا موضوع عائشہ گلالئی کی جانب سے عمران خان پر لگائے گئے الزامات بنے ہوئے ہیں۔ یہاں سے ہم اپنی قومی اسمبلی میںقومی مسائل پر بحث کی ترجیحات کااندازہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن ہم اپوزیشن کی جماعتوں سے اس کے علاوہ کس قسم کی بحث کی امید کرسکتے ہیں؟ ۔ شاہد خاقان عباسی کی موجودہ کابینہ 2018 ء کے عام انتخابات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نئے وزیروں کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اگلے انتخابات میں جنوبی پنجاب پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا چاہ رہی ہے جہاں سے ماضی میں اسے زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ ایک قومی سیاسی جماعت بننے کی تما م کوششوں کے باوجود پاکستان مسلم ن آج بھی پنجاب کی جماعت ہے اور جب بھی پاکستان مسلم لیگ۔ ن کی کامیابی کے دعوے کئے جاتے ہیں تو ان دعوئوں کا مرکز پنجاب میں کئے جانے والے اقدامات ہی ہوتے ہیں۔ اگلے انتخابات میںپنجاب میں مجموعی طور پر اور جنوبی پنجاب میں خصوصی طور پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے نئی کابینہ کے ایک چوتھائی ، یعنی 11، وزراء کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں بھی اصل مقابلہ پنجاب میں ہی ہوگا اور پنجاب سے اکثریت حاصل کرنے والی جماعت وفاق میں حکومت بنائے گی۔ سیاسی منظر نامے میں نئی پیش رفت حافظ سعید کی سیاسی جماعت بنانے اور قومی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ ہے۔ جماعت الدعوہ اور فلاحِ انسانیت فائونڈیشن کی خدمات کی وجہ سے حافظ سعید کی پنجاب اور خاص طور پر جنوبی پنجاب میں حامیوں کی ایک بڑی تعدا دموجود ہے ۔اگرچہ اگلے انتخابات میں یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ حافظ سعید پنجاب میں حکومت بنالیں گے لیکن دائیں بازو کی ایک نئی سیاسی جماعت کے پنجاب کی سیاست میں داخلے سے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریکِ انصاف جیسی مرکزی دائیں بازو کی جماعتوں کو نقصان ضرور پہنچے گا۔شاہد خاقان عباسی کی نئی کابینہ میں ایک مثبت اقدام 20 سالوں کے طویل عرصے کے بعد ایک ہندو وزیر، درشن لال کی شمولیت ہے۔ میاں نواز شریف کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والوں کو ان کی پچھلی حکومت کی 'پنج پیارے' ضرور یاد ہوںگے جس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ وزیر شامل تھے ۔ پنج پیارے دراصل نواز شریف کی کچن کیبنٹ تھے۔ ان پنج پیاروں میں سے تین سیاست دان نواز شریف کو پہلے ہی چھوڑ چکے ہیں جبکہ آخری چوہدری نثار علی خان بھی پہلی دفعہ کابینہ میں شامل نہیں ہیں جس سے مسلم لیگ ن کی سیاست کا ایک اہم باب اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین بھی پنج پیاروں میں شامل تھے جو مشرف کا ساتھ دینے سے پہلے نواز شریف کے وزیرِ داخلہ تھے۔پرویز مشرف نے بھی چوہدری شجاعت حسین کو وزیرِ داخلہ کا قلم دان دیاتھا۔ اس کے علاوہ شیخ رشید بھی مشرف دور میں نواز شریف کا ساتھ چھوڑ گئے تھے اور اس وقت سے لے کر آج تک تنہا سیاست کرتے نظر آرہے ہیں ۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی مقبولیت میں اضافے کے بعد شیخ رشید پی ٹی آئی کے غیر اعلانیہ اتحادی کا کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں ۔ مشاہد حسین سید بھی نواز شریف کی اسی کچن کیبنٹ کا حصہ تھے اور پچھلے نواز دور میں وزیرِ اطلاعات کا قلم دان ان کے پاس تھا لیکن نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد مشاہد حسین سید بھی پاکستان مسلم لیگ ۔ق کی حکومت میں شامل ہو گئے تھے۔ چوہدری نثار 1989ء سے نواز شریف کی کابینہ کا حصہ چلے آرہے ہیں لیکن موجودہ کابینہ کا حصہ نہ بن کر انہوں نے مسلم لیگ۔ن سے اپنی راہیں جدا ہونے کا واضح اشارہ دے دیا ہے۔ اب ان پنج پیاروں میں سے صرف اسحاق ڈار ہی نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ وہ ان کے سمدھی ہیں اور اس وجہ سے مستقبل میں بھی نواز شریف کو چھوڑتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں