چاند ہر جائی ہے ہر گھر میں اتر جاتا ہے

چاند ہر جائی ہے ہر گھر میں اتر جاتا ہے

آجکل ہماری سیاست خواتین کے گرد گھوم رہی ہے ، اورجب سے عائشہ گلالئی نے ماضی کے حوالے سے ایک سیاسی رہنما ء کی جانب سے بھیجے گئے ایس ایم ایس پیغامات کا کھڑاگ کھڑا کر کے سیاسی فضا میں دھماکہ کیا ہے ، اس کے بعد جواب آں غزل کے طور پر نہ صرف ان کی متعلقہ جماعت کے کئی رہنما لنگوٹ کس کرمید ان میں اتر آئے ہیں اور ان پر بہتان طرازی کے الزامات عاید کئے جارہے ہیں ، بلکہ بعض ٹی وی اینکر ز اور ان کے ٹاک شوز میں بیٹھ کر ملکی سیاست کی فضا کو تعفن زدہ کرنے والے تجزیہ کار بھی اس کا ر خیر میں مقدور بھر حصہ ڈال کر شکایت کنندہ بے چاری کا '' بولو رام '' کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں اور محولہ لیڈر کی جماعت کے ایک بھو نپو نے تو بے چاری خاتون پر ایسے رکیک حملے کئے ہیں کہ ان پر انسانیت بھی شرماجائے ، حالانکہ موصوف کا اپنا سیاسی کردار یہ ہے کہ خود وہ اب تک چار سیاسی جماعتیں تبدیل کر چکا ہے اور ہر سیاسی جماعت میں رہ کر موصوف مخالف سیاسی جماعت کے رہنمائوں کے بارے میں جس قسم کے خیالات کا اظہار کیا کرتا تھا وہ ریکارڈ پر ہے ، اور ان کے موجودہ ممدوح کو بھی یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ اگر آنے والے دنوں ، ہفتوں ، مہینوں میں موجودہ جماعت کو بھی بوجوہ انہوں نے بھی خیر باد کہہ کر علیحدگی اختیار کر لی تو ' ' نظریہ ضرورت '' کے تحت وہ اپنے آج کے ممدوح کے خلاف بھی چارج شیٹ کھولنے سے نہیں چوکیں گے ۔ 

تو اسے اپنی تمنائو ں کا مرکز نہ بنا
چاند ہر جاتی ہے ہر گھر میں اتر جاتا ہے
بات ہورہی تھی سیاست پر پڑنے والے ''خواتین کے سائے '' کی اور جب یہ دھماکہ ہوا ہے اس کے بعد اس معاملے کی سنجید گی بلکہ خطرے کو بھانپتے ہوئے متعلقہ سیاسی جماعت کے رہنمائوں کی جانب سے الزام لگانے والی خاتون پر نہ صرف جوابی الزامات کی بارش شروع ہوگئی ہے بلکہ اس کی بہن کو بھی رگڑا دینے کیلئے جماعت کے سوشل میڈیا کے علمبرداروں کو ہائی الرٹ پر ڈال کر اس پورے خاندان کی کردار کشی شروع کر دی گئی ہے۔تاہم موصوفہ کے اپنے موقف پر ڈٹ جانے کے بعد نہ صرف اسمبلی میں اس پورے معاملے کی باز گشت سنی گئی بلکہ اس حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان بھی سامنے آیا ، جس پر پارٹی رہنمائو ں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دی جانے لگیں ، پہلے تو اس قسم کے مطالبے کو ہی رد کر دیا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائے ، مگر محولہ لیڈر نے جب تحقیقات کا خود خیر مقدم کیا تو پارٹی کے دیگر اکابرین نے وقتی طور پر خاموشی اختیار کر لی تاہم مبینہ ملوث لیڈرنے اپنے بلیک بیری فون کی فارنزک چیک اپ کے لئے شر ط یہ عاید کر دی کہ نہ صرف جوابی طور پر خاتون اور ان کے والد کے بلکہ گورنر خیبر پختونخوا ، پارٹی کے رہنماء امیر مقام اور ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک کے فونز کی فارنزک چیک اپ بھی کی جائے۔ اس وار کے خطا ہونے کے بعد توپوں کے دہانے پارٹی رہنما ء کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کی طرف موڑ کر گولے باری شروع کر دی گئی ، لیکن وہاں سے بہت ہی تیکھا جواب آیا ، اور ان سے جو سوالات پوچھے گئے تھے ان پر ریحام خان کا رد عمل نہایت شدید تھا اور انہوں نے کہا کہ وہ بچوں کے لئے ایک این جی اوچلاتی ہیں ، اور اس حوالے سے وہ امداد کے لئے کس سے ملتی ہیں اور کس سے نہیں یہ ان کی اپنی صوابدید ہے جبکہ وہ کسی سے ڈکٹیشن لینے کی پابند نہیں ہیں ، انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ کوئی کتاب لکھ کر کسی کی کردار کشی کرنا چاہتی ہیں اور نہ ہی وہ کتاب لکھ رہی ہیں ، بقول پروین شاکر
ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاںمیں اتر جائے گا
خدا لگتی کہئے تو اب تک اوپر کی سطور میں جو کچھ لکھا ہے وہ تمہید ہے اور اصل بات آگے آرہی ہے ، اور اصل بات یہ ہے کہ آج کا کالم اس لیئے لکھا جارہا ہے کہ ایک اور خاتون نے ( جو اس قسم کے حالات سے فائدہ اٹھانے کا ہنر جانتی ہیں ) ایک بیان داغا ہے کہ وہ بھی کچھ لوگوں کو بے نقاب کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں ، جی ہاں اداکارہ میرا نے تحریک انصاف کے رہنمائو ں کے ساتھ مبینہ طور پر رابطہ کر کے کہا ہے کہ اگر انہیں تحفظ فراہم کر دیا جائے تو ان کے پاس بھی پنجاب حکومت اور وفاقی رہنمائوں کے دل دہلا دینے والے راز ہیں جن کو بے نقاب کرنے کے لئے وہ تیار ہیں ، جب سے فلمی دنیا کے کرتا دھرتا یعنی پروڈیوسرز ، ڈائریکٹرز نے روابط ختم کئے ہیں اور انہیں کام ملنا بند ہوا ہے وہ خود کو خبروں میںا ن رکھنے کیلئے کبھی کسی اداکارہ کے خلاف دل کی بھڑاس نکالتی ہیں ، کبھی بھارتی فلموں میں کام ملنے کے دعوے کرتی رہتی ہیں اور کبھی کوئی اور ایسی حرکت فرماتی رہتی ہیں تاکہ ان پر سے توجہ ہٹ نہ سکے ، اب موقع غنیمت جان کر انہوں نے ایک اور شوشا چھوڑدیا ہے ، گویا وہ خود کو پانچوں سواروں میں شامل کرانا چاہتی ہیں ، بے چاری ۔۔۔۔!

متعلقہ خبریں