ملکی سلامتی میں اداروں کاکردار

ملکی سلامتی میں اداروں کاکردار

الحمدللہ! کہ قیام پاکستان کو ستر برس مکمل ہوگئے ہیں۔ اگرچہ اس طویل سفر کے دوران وطن عزیز کو کئی سانحات و حادثات سے گزرنا پڑا اور16دسمبر 1971ء کو تو قیام بنگلہ دیش کی صورت میں ایک ایسا المناک حادثہ پیش آیا جس کے زخم ہر دسمبر کو ہر سال تازہ ہو جاتے ہیں اوربقول فیض معلوم نہیں کہ بے داغ سبزے کی بہار د وبارہ کب آئے گی اور کتنی برساتوں کے بعد دل و دماغ پر جمے خون کے دھبے کب دھلیں گے۔ لیکن یہ نظریہ پاکستان کی سخت جانی ہے کہ ان سب آلام و مصائب کے باوجود سفر جاری رہا اور الحمدللہ! کہ آج بہت ساری کمزوریوں' کوتاہیوں اور نا لائقیوں اور کرپشن کی لعنت کے باوجود کئی شعبوں میں شاندار ترقی کی۔ ان ستر برسوں کے دوران پاکستان کی سب سے بڑی ترقی یہ ہوئی کہ بے سر و سامانی کے باوجود ہم پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن گئے۔لیکن سچ یہ ہے کہ اس وقت وطن عزیز اور اس کے عوام اور معاشرہ جن سماجی ' سیاسی' معاشرتی ' معاشی اور اخلاقی مسائل کی گرفت میں آچکے ہیں آج سے پہلے ایسا نہیں تھا۔ ان مسائل سے نکلنا اور ان کا حل کرنا بنیادی طور پر تو حکومت کے ذمہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ملک کے ہر فرد اور ہر ادارے کا یہ فرض بنتا ہے کہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونے میں اپنی جگہ پر اپنا کرداراور فریضہ پوری دیانتداری سے ادا کرے۔کسی بھی ملک کو چلانے اور مسائل سے نکالنے میں جن اداروں کا بنیادی کردار ہوتا ہے ان میں چار پانچ ادارے بہت بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ملک کی بقا اور ترقی کا انحصار ان ہی پر ہوتا ہے۔

دنیا میں یہ بات مسلمہ ہے کہ ہر ملک کا سب سے اہم مسئلہ بقا اور سلامتی ہوتی ہے۔ جان ہے تو جہان ہے اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانے میں دفاعی اور عسکری اداروں کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک افواج کو شروع دن سے یہ مقدس فریضہ سونپا گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اپنی جانوں پر کھیل کر انہوں نے یہ فریضہ سر انجام دیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بے مثال و بے نظیر کردار ادا کرکے آنے والی نسل کے لئے اپنی جانیں نچھاور کردیں۔ 9/11 کے بعد پاک افواج اور پاکستانی عوام نے جو قربانیاں دیں وہ اپنی نوعیت کی منفرد قربانیاں ہیں۔ اس لئے پاک افواج کو کسی صورت اشاروں کنایوں سے بھی بعض نا پسندیدہ چیزوں میں ملوث کرنایقینا ملکی سلامتی کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔چیف جسٹس افتخار چوہدری اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں اور وکلاء اور پرویز مشرف کے درمیان جو کشمکش رہی اس میں یقینا ججوں اور وکلاء نے عدلیہ کا ایک نیا چہرہ متعارف کرایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب تو غیر ممالک میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں کے حوالے دئیے جاتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں جب تک عدلیہ اپنا کام عدل و انصاف کے ساتھ جاری رکھتا ہے تب تک ملک کی سلامتی کے خلاف سازشیں کرنے والے سارے عناصر( داخلی اور خارجی) خائب و خاسر رہیں گے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں پاکستان کی سپریم کورٹ پر سیاسی جماعتوں کا جو دبائو رہا اور ان حالات میں جو فیصلے سامنے آئے اور مزید آئیں گے۔
اس سے ملک و قوم کو استحکام ملے گا۔ اگرچہ بعض سیاسی جماعتوں کو ان فیصلوں سے اختلاف ہو سکتا ہے جو ایک فطری امر ہے لیکن عدلیہ کی آزادی اور وقار کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ فیصلہ سب نے تسلیم کرلیا ہے۔ باقی فیصلوں کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کرنا یا اختلاف رکھنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ لیکن ملکی سلامتی کے لئے ہمیں اس بات کاعہد کرنا ہوگا کہ سپریم کورٹ (عدالت عالیہ) کے فیصلوں کو ہر حال میں تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ امریکن سپریم کورٹ نے ایک عجیب کوٹ (Quote) کیا تھا۔ اس کا حوالہ یہاں اس لئے دے رہا ہوں کہ وہاں بھی عدالتوں کے حوالے سے بعض اوقات ایسے ہی اختلافات رونما ہوتے رہے ہیں لیکن فیصلے ہر حال میں تسلیم کرلئے گئے۔ امریکی سپریم کورٹ نے کہا "We are final not because we are right but we are right because we are final" جارج ڈبلیو بش نے 2000ء میں الیکشن نہیں جیتا بلکہ انہوں نے عدالت کے ذریعے کیس جیتا''تیسرا ادارہ میڈیا ہے۔ 2001ء کے بعد الیکٹرانک میڈیا کو جو طاقت و رسوخ حاصل ہوا وہ اس سے پہلے شاید ہی اس کو کہیں ملا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں میڈیا ہی کے طفیل اب حکومت 'اداروں اور طاقتور مافیا اور عناصر کو اپنی من مانیاں خفیہ رکھنے میں کافی مشکلات درپیش ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری میڈیا نے اچھے کاموں کے ساتھ ساتھ ابھی وہ کردار ادا نہیں کیا جو ملک و قوم کی سلامتی و ترقی کے لئے ضروری ہے۔ میڈیا ہائوسز میں بہت کم ایسے لوگ موجود ہیں جو باہر اور اندر سے ملنے والی خبروں کے ما بعد اشات کا تجربہ و مہارت کے ساتھ تجزیہ و تحلیل کرکے ناظرین کے عقول و فہم و ادراک کااندازہ کرتے ہوئے نشر کرے۔ کیایہ ادارہ (میڈیا) کبھی اپنے گریباں میں جھانک کر اس طاقت کو جو اسے کیمرے کی آنکھ نے دی ہے ملک و قوم کی ترقی کے لئے اسلامی آداب و احکام کے دائرے میں استعمال کرانے کے بارے میں سوچے گی اور اس میں چوتھا ادارہ عوام کا ہے کہ وہ بھی ووٹ کا صحیح استعمال کرنا سیکھیں اور ایسے لوگوں کو پارلیمان بھیجیں جو 63'62کے کم سے کم معیار پر تو پورا اترتے ہوں۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔ آمین

متعلقہ خبریں