افغانستان کی خطے کے ممالک سے الجھنے کی پالیسی

افغانستان کی خطے کے ممالک سے الجھنے کی پالیسی

افغانستان کی سینٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ روس اور ایران شدت پسند طالبان کی مدد کر رہے ہیں طالبان ان ممالک کی مدد سے حکومت کے خلاف بر سر پیکا ر ہیں ۔ ارکان سینٹ کے مطابق اس امر کے ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں کہ تحریک طالبان افغانستان کے کئی جنگجو ایران کے شہر مشہد ،یزد اور کرمان میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور وہاں سے آزادانہ طور پر افغانستان آتے جاتے ہیں ۔ افغان رہنمائوں کایہ بھی کہنا ہے کہ ماسکو طالبان کو اسلحہ اور دیگر جنگی سازو سامان مہیا کر رہا ہے ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس امر کی شکایت کی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہور ہی ہے بھارتی ایجنسی ''را ''افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کرواتی ہے ۔ طالبان ، القاعدہ جماعت الاحرار اور حقانی گروپ افغانستان سے سرگرم عمل ہیں ۔ دریں اثناء افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان نکولسن نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گرد گروپوں کی بلند ترین شرح پاک افغان خطے میں ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون میں سالانہ جائزے پر بریفنگ دیتے ہوئے جنرل نکولسن نے کہا کہ دنیا بھر میں 98 دہشت گرد گروپ موجود ہیں جن میں سے 20 گروپ پاک افغان خطے میں ہیں اور یہ اعداد و شمار دنیا بھر میں دہشت گرد گروپوں کی بلند ترین نمائندگی کو بیان کرتے ہیں۔ حال ہی میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ہارٹ آف ایشیا ء کانفرنس میں بھی پاکستان پر الزام تراشی کر کے کانفرنس کو بے مقصد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ی تھی ۔ پاکستان پر تو افغان حکمرانوں کے الزامات کی تان ہمیشہ سے ٹوٹتی رہی ہے اب ایران اور روس پر بھی انگشت نمائی ہو رہی ہے ۔ جبکہ خو د ان کا عالم یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی ہر بڑی واردات میں افغانستان کی سرزمین کے استعمال ہونے کے ثبوت دیئے جاتے ہیں مگر ان کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ ایران میں افغان مہاجرین کے مقیم ہونے میں کوئی شک نہیں اسی طرح پاکستان میں بھی لاکھوں افغان مہاجرین آباد ہیں ان عناصر کے افغانستان میں کارروائیوں کے امکانات سے انکار نہیں لیکن اس کا حل الزام تراشی نہیں بلکہ افغانستان کی حکومت کو چاہیئے کہ وہ اپنے شہر یوں کو وطن واپس بلانے کے بعد سرحدی انتظامات کو بہتربنائیں تب جا کر ان کی شکایت رفع ہو سکتی ہے مگر اس پر افغانستان کی حکومت نہ تو تیار ہے اور نہ ہی وہ اس کی طاقت وقدرت رکھتی ہے اور نہ ہی خطے کے ممالک کے ساتھ اعتماد کی فضا کے ذریعے و ہ مشترکہ مساعی کیلئے حالات ساز گار بنانے کی سوچ کا حامل ہے۔ پاکستان کی مشکل یہ ہے کہ افغانستان نے اپنی سر زمین کو بھارتی خفیہ ایجنسی (را )کی سبو تاژ کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا مرکز بنانے کی اجازت دے رکھی ہے جہاں سے منصوبہ کی تیاری سے لیکر اس پر عملد ر آمد کے مراحل طے کئے جاتے ہیں ۔ افغانسان میں دہشت گردوں کے نہ صرف مراکز موجود ہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت مولوی فضل اللہ کی سربراہی میں افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے جن کے خلاف پاکستان کی جانب سے بار بار کارروائی کے مطالبات کے باوجود افغان حکام کارروائی کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ افغانستان پاکستان کو عالمی سطح پر مطعون کرنے کا تو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا الزام تراشی اور تہمت لگانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا لیکن جب پاکستان کی جانب سے ٹھوس تجاویز کے ساتھ سرحدی انتظامات کی بہتری کی بات کی جاتی ہے تو افغان حکمران اسے منفی انداز میں ہی نہیں لیتے بلکہ طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر اور سرحد عبور کرتے ہوئے جب مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کرانے کا طریقہ رائج کرنے کی سعی کی جاتی ہے تو افغان فوج پاکستان پر حملہ آور ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔ جس صورتحال کی افغانستان کی پارلیمنٹ کو شکا یت ہے خطے میں اسی طرح کی صورتحال کا افغانستان ہی باعث بن رہا ہے جس کا حل الزام تراشی اور انگشت نمائی نہیں بلکہ اس مسئلے پر اعتماد کی فضا میں تمام فریقوں سے بات چیت کرنے میں ہے مگر افغانستان یکے بعد دیگرے پاکستان ایران اور روس جن جن سے ان کی سرحدیں ملتی ہیں اور جو خطے کے اہم ممالک ہیں ان پر الزام دھرنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا جبکہ خود اس قابل نہیں کہ وہ اپنے مسائل حل کرے ۔ عالمی برادری کو بھی سعی بسیار کے باوجود افغانستان کے مسائل سلجھانے میں کامیابی نہیں مل سکی۔ فطری اور اصولی طور پر خطے کے ممالک ہی اپنے مسائل کے حل میں کردار ادا کر کے ان کا مشترکہ حل نکال سکتے ہیں مگر اس پر افغانستان کی حکومت آمادہ نہیں اور یہی وہ مشکل ہے جس کے باعث خطے میں امن واستحکام نہیں آتا ۔ افغانستان کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیئے کہ وہ ایک لینڈ لاک اور چھوٹا ملک ہے اس کا مفاد خطے کے ممالک سے تصادم اور کسی ایک ملک کی گود میں بیٹھنا نہیں بہتر ہوگا افغانستان اپنے مسائل ومشکلات کا ادراک کرے اور خطے کے ممالک سے الجھنے کی پالیسی سے گریز کرے ۔

متعلقہ خبریں