این ٹی ایس کا لا حاصل طریقہ کار

این ٹی ایس کا لا حاصل طریقہ کار

این ٹی ایس بھرتی سکینڈل کے سامنے آنے سے اس حوالے سے پہلے سے موجود عدم اعتماد کو مزید تقویت ملنا فطری امر ہے ۔ این ٹی ایس میں جعلسازی اور رقم اینٹھ کر بھرتیاں کرنے کی شکایا ت مسلسل مل رہی تھیں جس پر این ٹی ایس کے منتظمین اور نہ ہی حکومت نے توجہ دی۔ اس حوالے سے شکایات تقریباً ہر محکمے میں بھرتی کے حوالے سے سامنے آنے کے بعد امید واروں کا اس پر سے اعتماد اٹھ گیاتھا لیکن وہ امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے پر مجبور تھے۔ پولیس میں بھرتیوں کے حوالے سے این ٹی ایس ٹیسٹ پاس کرنے کا جو طریقہ واردات سامنے آیا ہے اور جو ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں اس کے بعد صرف نظر کی گنجائش نہیں بجائے اس کے کہ اس کا بھانڈا حکومتی اہلکار پھوڑتے امید وار پوری تفصیل اور معلومات لوگوں کے سامنے لائے جس سے اس امر کا عندیہ ملتا ہے کہ اس بد عنوانی میں سرکاری محکموں کے حکام اور اہلکار بھی پوری طرح ملوث تھے جن کی مدد اور تعاون کے بغیر یہ کام ممکن نہ تھا ۔یہ صرف پولیس میں بھرتیوں ہی میں گھپلے کی نشاندہی نہیں اور صرف ایک ضلع میں اس کی تحقیقات نہیں ہونی چاہیے بلکہ ضلع نوشہر ہ کی طرح صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں محکمہ پولیس محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت سمیت سارے محکموں میں تمام مشکوک بھرتیوں کا از سرنو جائزہ لیا جانا چاہئیے اور جن جن امیدواروں نے ٹیسٹ پاس کیا تھا ان کا دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے۔ اگر وہ کم نمبروں سے ناکام ہوئے ہیں تو بھی ان کو پاس تصور کیا جائے لیکن اگر نمبروں کا فرق زیادہ ہو تو ان سے تحقیقات کی جائے ۔ جن گروہوں کی نشاندہی کی گئی ہے اس کے ارکان اور کارندوں کی گرفتاری اور تحقیقات سے بھی کافی حد تک اصل حقیقت سامنے آجائے گی ۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو خاص طور پر اس امر کا زعم تھا اور وزیر اعلیٰ سے لیکر وزراء تک ہر کسی کی زبان پر این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کا ورد تھا مگر کسی نے یہ زحمت گوارا نہیں کی کہ وہ این ٹی ایس کی شفافیت کو پر کھتے اور امید واروں کی شکایات کی تحقیقات کروائی جاتیں۔ اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد پبلک سروس کمیشن کا وقار بھی دائو پر لگ گیا ہے۔ اس کے حوالے سے بھی امید وار جن تحفظات کا اظہار کر تے آئے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان میں کافی سے زیادہ صداقت تھی اور پبلک سروس کمیشن کا نظام بھی مکمل طور پر شفاف نہیں تھا۔ این ٹی ایس کا طریقہ کار درست نہیں پبلک سروس کمیشن کا نظام شفاف نہیں دوسرا اور کوئی ذریعہ اور طریقہ کار موجود نہیں آخر ایسا کیا طریقہ کار اختیار کیاجائے کہ حقداروں کو ان کا حق ملے میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں ۔ انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر جب ہمارے حکمران رشوت و بد عنوانی کے خاتمے کے دعویدار ہیں اس سکینڈل کی تفصیلات کاسامنے آنا کیا ان کے تمام دعوئوں کی نفی نہیں ہمارے تئیں اس مسئلہ کا واحد حل خالصتاً میرٹ پر تقرریاں ہی ہیں کیونکہ جو لوگ اپنی قابلیت اور محنت کے کا بل بوتے پر آئیں ان سے ہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ شفافیت کو ترجیح دیں گے ۔ اگر این ٹی ایس کو شفاف بنانا ممکن نہیں تو اسے ختم کیا جائے تاکہ بیروزگار نوجوانوں کو کم از کم ہر ٹیسٹ کے عوض فیس تو جمع کرانے سے نجات ملے ہمارے لیے قابلیت کی جانچ اور شارٹ لسٹنگ بڑا مسئلہ نہیں بڑا مسئلہ بد عنوانی سفارش اور ملی بھگت ہے جس سے معاشرے کو پاک کئے بغیر حقداروں کو حق ملنے کی توقع نہیں ۔
بے حس معاشرہ لا پرواہ حکومت
موسم سرما کی شدت اختیار کرنے پر جگہ جگہ سردی سے ٹھٹھر کر ہیروئن کے عادی افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعات المیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرتی و حکومتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہیروئن کے عادی افراد ہمارے معاشرے کے وہ محروم افراد ہیں جن پر معاشرے اور حکومت کی توجہ تو ثانوی بات ان کو خود اپنے آپ کی فکر نہیں۔ و ہ نشے میں کیوں اور کیسے مبتلا ہوئے ان کو نشے کی اشیاء کہاں سے تو اتر کے ساتھ ملتی ہیں ان کو نشہ پہنچانے والوں کو پولیس اور انسداد منشیات کا ادارہ روکتا کیوں نہیں اور وہ پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کو کیوں نظر نہیں آتے یہ سوالات بار بار پوچھے جاتے ہیں مگر اس کاجواب دینے والا اور اصلاح احوال کرنے پر کوئی بھی ادارہ تیار نہیں اور نہ ہی حکومت اس کا سختی سے نوٹس لیتی ہے ۔ ان افراد کو گندگی اور غلاظت سے لت پت دیکھتے ہوئے کراہت تو ہوتی ہے ان پر ترس بھی آتا ہے ان افراد کی وجہ سے مختلف گزر گاہیں گندگی اور غلاظت کا ڈھیر بن چکے ہیں خاص طور پر پلوں کے نیچے سے گزرنا محال ہے مگر حکومت نہ تو ان افراد کے علاج معالجہ اور بحالی پر توجہ دیتی ہے اور نہ ہی ان کو پبلک مقامات پر سرعام ہیروئن پینے سے معاشرے میں اس طرف مزید افراد کے راغب ہونے کی روک تھام کی فکر کرتی ہے ۔اگر یہ لوگ ناقابل علاج اور ناقابل اصلاح ہی ٹھہر تے ہیں تب بھی ازراہ انسانیت ان کو کسی جگہ ٹھہرانے اور دووقت کی روٹی دینے کا بندوبست ہی کیا جائے تا کہ و ہ رات کے کسی پہر ٹھٹھر کرمرنے سے تو بچ جائیں ۔

متعلقہ خبریں