ایک اور حادثہ

ایک اور حادثہ

کب تک ہم غفلتوں کے جواز تلاش کرتے رہیں گے اور حادثوں کے بعد لاشیں اکٹھی کرینگے ۔ کب تک کوئی شنوائی نہ ہوگی کب تک محض نودحے ہی ہمارے دامن گیر رہیں گے کب تک ہم کسی بھی بری خبر کو اپنی جانب آنے سے روک نہ سکیں گے ۔ کب تک ہمیں اپنے پیاروں کو کھود ینے کے بعد بے بسی کا یہ احساس مار ڈالتا رہے گا کہ اسکے بعد بھی کچھ نہ ہوگا ، کسی کا کچھ نہ بگڑے گا ،کب تک بس شفاف تحقیقات کے حکم تو دیئے جائینگے لیکن کسی قرار واقعی مجرم کو سزا نہ دی جائیگی ۔کب تک کوئی حوصلہ افزاء مثبت نتیجہ نہ نکلے گا کیو نکہ ہمارے ملک میں تو سکہ رائج الوقت ہی چا پلوسی ہے اور میرٹ کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں ملتا ۔ کب تک بے قصور معصوم لوگ ، چاپلوس نکمے لوگوں کی لا پرواہی کی بھینٹ چڑھا ئے جاتے رہینگے اور ہم اپنے آپ کو دلاسے دیتے رہینگے ، تھپکیاں دیں گے ۔ موت بر حق ہے اس کا وقت مقرر ہے ۔ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن کیا ہمارے ایمان کو نا اہلوں کی غلطیاں ڈھانکنے کی چادر بنا کر ہر ایک واقعے پر اوڑ ھا یا جا سکتا ہے ۔ کیسا ظلم ہے اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ۔ ہم سوگوار ہیں ، ہم تڑپ رہے ہیں ۔ وہ لوگ جو اس حادثے کا شکار ہوئے ہم انہیں نہیں جانتے لیکن وہ ہمارے ہی جیسے لوگ تھے ۔ ہم میں سے ہی تھے ۔ وہ کس اذیت سے گزرے ہونگے ۔ دو منٹ کا وہ وقت ۔ کیسے وہ سالوں کی اذیت پر محیط ہوگیا ہوگا ۔ اپنے پیاروں کی یاد نے کیسے دل مٹھی میں بند کر لئے ہونگے میں اور میرے جیسے کئی لوگ، جو زندہ ہیں ، ان 48لوگوں سے بالواسطہ بلاواسطہ وابستہ بھی نہیں ۔ ہم دعائیں کر رہے ہیں ، یا اللہ پاک ان لوگوں کے آخری لمحات میں انکے لیے آسانی ہوگئی ہو ۔ موت کو یوں اچانک سامنے پاکروہ کیسے خوفزدہ ہوئے ہونگے ۔ یااللہ پاک تو ان کا حساب اپنے نیک بندوں کے ساتھ کر ۔ جنید جمشید کے لیے تو بہت دعائیں کی جارہی ہیں وہ آدمی ہی کمال کے تھے لیکن وہ جو گمنام ہیں ، اپنی اپنی جگہ وہ بھی بہت اہم تھے ، جنہیں نااہلی کے پنجوں سے انکی زندگیوں سے نوچ کر حویلیاں کی پہاڑیوں کے اس جلتے ہوئے الائو میں لاپھینکا گیا ۔ یہ کس کی ذمہ داری ہے؟یہ انہی لوگوں کی ذمہ داری ہے جو چاپلوسی پسند کرتے ہیں ۔ جو ذاتی مفادات کی رکھوالی کے لیے پالتو عہدیدار رکھتے ہیں ۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ نا اہل لوگ جو محض ان کی خوشامد کر کے اہم عہدوں پر فائز ہیں ان کی نااہلی کی پھینٹ کون کون چڑھ گیا اور ابھی کتنوں کو مسلسل خطرہ ہے ۔ یہ اموات ، یہ حادثے انکے لیے محض اعداد وشمار ہیں اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔ ان حادثات کے سروں پر کھڑے ہو کر بھی یہ لوگ محض اپنی سیاست کا سوچتے ہیں ۔ ان کی مدح سرائی کرنے والے ان حادثوں کی ذمہ داری بھی ان لوگوں پر ڈالنا چاہتے ہیں جو ان سے پہلے ان اداروں کے جسموں کو نوچتے رہے ہیں ۔ کوئی یہ بھی پوچھنے والا نہیں کہ پیپلز پارٹی کی برائی تو سب پر واضح تھی ۔ سب جانتے تھے کہ ادارے تباہ ہو رہے ہیں اس وقت میاں نوازشریف نے خاموشی کیوں اختیار کئے رکھی ۔ کیا وہ خاموشی اور یہ خاموشی مشابہت نہیں رکھتی جو اب پیپلز پارٹی نے اپنے اوپر طاری کر رکھی ہے ۔ یہ جمہوریت بچانے کی باتیں یہ سب ڈھکوسلے ہیں ۔ باریوں کی کہانیاں ہیں ، حیلے ہیں ۔ اور اسی سب میں انہیں اپنے درباروں میں مدح سرا چاہئیں ،حدوں سے بڑھ جانے والے چاپلوسوں کی ضرورت رہتی ہے ۔ انہیں وہ تلاش کر لیتے ہیں اور پھر سارے کا سارا نظام بگڑ جاتا ہے ۔یہی ہو رہا ہے ۔ یہ ترقی کے دعوے ، یہ سب اچھا ہونے کی کہانیاں ، یہ سب سراب ہیں ، دھوکے ہیں ان دھوکوں کے گنجلک دھاگوں میں مسلسل اُلجھتے ہی رہتے ہیں ،ہماری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے ۔ اس طیارے کی کیا بات کروں ۔ اس طیارے کو تو مسلسل مسائل کاسامنا تھا ۔ یہ اس طیارے کی تیسری پرواز تھی ۔ دوسری بار گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے اس طیارے کے انجن میں خرابی پیدا ہوئی ۔ اس خرابی کا ذکر پائلٹ نے نوٹ شیٹ میں بھی کیا لیکن سب باتوں کو صرف ِ نظر کرتے ہوئے اس طیارے کو ایک تیسری منزل کی جانب روانہ کر دیا گیا ۔ اس حادثے کے بعد ایک صاحب نے مجھے فو ن کر کے بتایا کہ وہ شاید اسی اے ٹی آر سے ایک ہمسایہ ملک ، اس حادثے سے ایک دن پہلے گئے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کر یو کی تصویریں دیکھ کر اور پائلٹ کانام سن کر انہیں یہ احساس ہو رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دن بھی اس طیارے میں کوئی تکنیکی خرابی تھی ۔ ایک بار مسافروں کو طیارے کی جانب لایا گیا اور پھر واپس لائونج میں بھیج دیا گیا ۔ اگر ان کا قیاس درست ہے تو انتظامیہ کی غفلت مجرمانہ اور سفا کا نہ ہے ۔ لیکن پھر سو چتی ہوں کہ یہ سفاکیت تو ہمارے نظام میں اوپر سے نیچے تک پھیلی ہوئی ہے ۔ عدالت کے حکم سے اے ٹی آر طیاروں کو گرائونڈ کر دیا گیا اور پھر سیاسی دبائو پر انکی پروازیں بحال کر دی گئیں ۔ ایسی ہی باتیں ہر روز ہماری نگاہوں کے سامنے سے گزرتی ہیں ۔ ہم بھی خالی الذہن سب کچھ دیکھتے رہتے ہیں ۔ کوئی بھی احتجاج نہیں کرتا ۔ اور میڈیا کا احتجاج اتنے ہی دن تک ہوتا ہے جب تک پروگرام کی ریٹنگ میں اضافہ ہوتا ہو ، اس کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے ۔ جناب حسن نثار میرے چچا کی مانند ہیں اس لیے ان کی اجازت کے بغیر ہی ان کا ایک جملہ لکھ رہی ہوں وہ کہتے ہیں ہمارے ملک کا معاملہ اقتصادیات کا نہیں اخلاقیات کا ہے ۔ اور میں ان کی بات سے مکمل اتفاق رکھتی ہوں ۔ اس ملک کے لوگوں کو اور اس ملک کے حکمرانوں کو اخلاقیات کا درس دینا چاہیئے ۔ تربیت درست ہو تو رویے اپنے آپ سُدھر جاتے ہیں ۔ یہ حادثہ افسوسناک ہی نہیں ، دلوں کو بجھا دینے والا ہے لیکن جنکے احساس بجھے ہوئے ہیں ان کا کیا کریں ۔ جب وزیر اعظم کہتے ہیں کہ حادثے کے حقائق عوام کے سامنے لائینگے تو لگتا ہے ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ ایک دفعہ اگر وہ واقعی اپنی ہی بات کا پاس رکھیں اور حقیقی مجرموں کو قرارواقعی سزا دیں تو شاید بہتری کی کوئی صورت نکلے ورنہ یہ حادثے ہوتے ہی رہیں گے ۔ 

متعلقہ خبریں