براستہ بھارت پرامن افغانستان کا خواب؟

براستہ بھارت پرامن افغانستان کا خواب؟

بھارت کے شہر امرتسر میں ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی معاونت اور سرپرستی کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے۔ دوسری طرف بھارتی حکومت نے سفارتی اقدار کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز کو ہوٹل سے نکلنے دیا اور نہ ہی پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی۔ کہا جا رہا ہے کہ بھارت ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے مطالبے پر لشکر طیبہ ' جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کا نام دہشت گردوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بھارت بیک وقت تین محاذوں پر پاکستان کونقصان پہنچا رہا ہے، ایک یہ کہ کشمیر پر بھارت نے سات عشروں سے ظالمانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور جموں و کشمیر میں سات لاکھ بھارتی آرمی تعینات ہے جس کے کشمیر یوں پر مظالم سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ بھارتی آرمی کی کشمیری عوام پر بڑھتی ہوئی جارحیت کی بدترین مثال گزشتہ دنوں کھل کر سامنے آئی جب بھارتی فوج نے کشمیریوں پر اندھا دھند فائرنگ کرکے ہزاروںسینکڑوںافراد کو آنکھوں سے محروم کر دیا۔ کشمیریوں کی داستان آزادی یوں تو 70سالوں پر مشتمل ہے لیکن گزشتہ 5ماہ سے کشمیر میں ہڑ تال کی وجہ سے کاروبار زندگی معطل ہونے کا ذمہ دار بھی بھارت ہے۔ دوسرایہ کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے واضح ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا ، اس نے اپنی منفی سرگرمیوں کا اقرار بھی کیا اور ابھی تک پاکستان کے زیرِ حراست ہے۔ جب کہ بلوچستان کے چند ایک نواب اور سردار وقتی مفاد کی خاطر بھارت کی گود میں بیٹھے ہیں جن کے پاس اختیارات ہیں اور نہ ہی بلوچستان میں ان کے چاہنے والے بڑی تعداد میں ہیں۔ ان سرداروں کو چونکہ اپنا مفاد پاکستان کی مخالفت میں نظر آتا ہے اس لیے وہ دبئی میں بھارت سے ساز باز کرکے پاکستان کو بدنام کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ بھارت کی خواہش تھی کہ بلوچستان کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر پاکستان کے خلاف شکنجہ کسا جائے لیکن بلوچستان کے لوگوں نے پاکستان کے مفاد میں ریلیاں اورجلسے جلوس نکال کر ثابت کر دیا کہ وہ پاکستانی ہیں اور ان کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔ جب بھارت بلوچستان سے مایوس ہوا تو اس نے اپنی توجہ افغانستان پر فوکس کردی۔ گو بھارت نے افغانستان پر کچھ مالی احسانات بھی کیے ہیں لیکن اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف بلاک تشکیل دے کر پاکستان کو کمزور کیا جائے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت اپنے عزائم میں کس قدر کامیاب ہوگااور وہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف کیا کارڈ کھیل رہا ہے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغانستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ افغانستان کو جہاں ایک طرف قیام امن کے چیلنج کا سامنا ہے اس کے ساتھ ہی افغان معیشت بھی تباہ حالی کا شکار ہے، امریکہ افغانستان کی تعمیر نو اور ضروریات پوری کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔اس لئے افغانستان کو اپنی داخلی معیشت کو مضبوط کرنا ہوگا اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر زرِمبادلہ کو بڑھایا جائے یا پھر پڑوسی ممالک کے ساتھ روابط بڑھا کر تجارت کو فروغ دیا جائے۔افغان حکام کی جانب سے مگر ایسا کوئی اقدام نہیںاٹھایا گیا یہ سمجھتے ہوئے بھی کہ پاکستان اور افغانستان دونوں آزاد اور خود مختار ممالک ہیں انہوں نے پاکستان سے حد سے زیادہ توقعات باندھ لیں،افغانستان کے لوگوں نے پاکستان سے یہ توقعات دو وجہ سے باندھی تھیں ایک یہ کہ پاکستان برادر اسلامی ملک ہے ، دوسرا یہ کہ وہ پاکستان کو طالبان کی حمایت کا ذمہ دار تصور کرتے ہیں جب کہ پاکستان کا شکوہ ہے کہ افغانستان سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بارہا کوشش کی گئی ہے، اور یہ کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے قریب افغانستان کی سرحد میں شرپسندوں کی پناہ گاہیں ہیں ، گوکہ دونوں اطراف سے شکوے شکایتیں ہیںلیکن ان ایشوز کو سلجھانے کا کام نہیں کیا گیا جس کا فائدہ بھارت نے اُٹھایا ، بھارت نے افغانستان کے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تمہارے ساتھ جو ستم ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار پاکستان ہے، برائے نام مالی تعاون کرکے بھارت نے افغانستان کو سنہرے مستقبل کے لولی پاپ دکھائے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ افغانستان مکمل طور پر بھارت کی زبان بولنے پر مجبور ہے، افغانستان یہ بھول بیٹھا ہے کہ جسے وہ اپنا خیر خواہ سمجھ رہا ہے وہ دراصل بھیڑ کے روپ میں بھیڑیا ہے' بھارت کو افغانستان کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ تو صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے افغانستان کا کندھا استعمال کر رہا ہے۔ جیسا میں نے کالم کے شروع میں کہا کہ بھارت پاکستان کو بیک وقت تین محاذوں پر نقصان پہنچا رہا ہے۔ افغانستان ان تینوں میں سے بھارت کا مضبوط محاذ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر اس کا ادراک کیا جائے اور افغانستان کے زخموں پر مرہم رکھ کر بھارت کے اس خطہ میں تھانیداری کے خواب کو چکنا چور کیا جائے تاکہ بھارت افغانستان کے عوام کو براستہ بھارت پرامن افغانستان کے خواب دکھا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کے منصوبے کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ 

متعلقہ خبریں