پاناما انکشافات کی سماعت…چند سوال

پاناما انکشافات کی سماعت…چند سوال

سپریم کورٹ کی طرف سے پاناما انکشافات کے مقدمے کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن بنانے یا نہ بنانے کے سوال پر فریقین مقدمہ متفق نہیں ہو سکے۔ مشاورت کے لیے حاصل کی گئی دو روز کی مہلت کے بعد تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں کہہ دیا ہے کہ ان کا موکل کمیشن بنانے کے حق میں نہیں ہے اس لیے عدالت خود کیس کا فیصلہ کرے۔وزیر اعظم نواز شریف کے وکلاء نے معاملہ سپریم کورٹ کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے ۔ کمیشن بنانے یا نہ بنانے کے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے اس کا انتظار جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی ہو گیا ہے۔ کیونکہ عدالت نے آئندہ سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے ۔ممکن ہے اس کے بعد بھی یہ انتظار جاری رہے۔ موجودہ بنچ کے سربراہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اس ماہ کے آخر تک ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ کہا جارہا ہے کہ 16دسمبر سے ان کی الوداعی تقریبات شروع ہو جائیں گی۔ صدر مملکت نے نئے چیف جسٹس کے طور پر مسٹر جسٹس ثاقب نثار کی تقرری بھی کر دی ہے۔ اب یہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی صوابدید ہو گی کہ وہ اس بنچ کے جگہ لینے کے لیے نیا بنچ تشکیل دیتے ہیں ' خود اس بنچ کے سربراہی کرتے ہیں اور اس میں پانچویں رکن کے طور پر کون سے جج صاحب کو مامور کرتے ہیں۔ اس لیے کسی فوری فیصلے کی توقع رکھنے والوں کی توقع پوری ہونے کے آثار نہیں ہیں۔ اس توقع کا اظہار بالواسطہ تحریک انصاف کی طرف سے سامنے آیا ہے جس کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں اس بنچ پر مکمل اعتماد ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہی بنچ فیصلہ سنا دے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ گزشتہ روز کی سماعت کے دوران وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل کی طرف سے اس بیان کے بعد کہ قطر میں سرمایہ کاری اور وہاں سے رقم کی منتقلی کے بارے میں وہ کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کر سکتے کیوں کہ چالیس سال پہلے کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔وزیر اعظم نواز شریف اخلاقی طور پر مقدمہ ہار چکے ہیں۔ عدالت کی طرف سے یہ ریمارکس سامنے آ چکے ہیں کہ لندن کی جائیدادوں کی ملکیت تسلیم کرنے کے بعد بارثبوت شریف خاندان پر ہے۔ لیکن وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل کا یہ بیان کہ چالیس سال پرانا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے یہ تو ثابت کرتا ہے کہ ثبوت پیش نہیں کیے گئے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ طویل عرصہ گزر جانے کی وجہ سے وہ ثبوت پیش کرنے کے حوالے سے بے بس ہیں۔ عدالت نے گزشتہ سماعت کے دوران وزیر اعظم نواز شریف کے لیے تین سوال اُٹھائے تھے۔وزیر اعظم کے بچوں نے آف شور کمپنیاں کیسے بنائیں اور وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے زیر کفالت ہونے کی وضاحت طلب کی تھی اور یہ کہ آیا وزیر اعظم نے قومی اسمبلی کی تقریر میں سچ بولا تھا یا نہیں؟ لندن کی جائیداد کی خریداری کے لیے رقم کس طرح گئی اس میں حتمی طور پر منی ٹریل واضح طور پر پیش نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاہم ثبوت کی عدم دستیابی کا عذر پیش کیا گیا ہے۔ جہاں تک محترمہ مریم نواز کے زیر کفالت ہونے کی بات ہے اس حوالے سے ایک بار وہ خود کہہ چکی ہیں کہ وہ تو اپنے والد کے ساتھ رہتی ہیں۔ تاہم وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ اگر کوئی والد اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دے دے تو کیا اسے زیرِ کفالت قرار دیا جائے گا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ایسا ضروری نہیں۔ لگتا ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ محترمہ مریم نواز کے ٹیکس گوشواروں اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے کاغذات نامزدگی کی روشنی میں ہوگا۔ تیسرا اہم سوال یہ تھا کہ آیا وزیر اعظم نواز شریف نے لندن فلیٹس کی خریداری کے حوالے سے قومی اسمبلی اور قوم سے ٹیلی وژن پر خطاب میں سچ بولا تھا یا نہیں۔ عدالت کی طر ف سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ سارا ریکارڈ موجود ہے۔ اس پر ان کے وکیل نے کہا کہ جتنا ریکارڈ دستیاب ہے وہ پیش کر دیا گیا ہے۔ اس طرح بہت سے سوال ابھی تشنہ جواب ہیں۔ اس بحث کے دوران ایک سوال اور ابھر کر سامنے آیا ہے۔ کیا ایک ہی شخص کے عدالت کے سامنے بیان اور اسمبلی میں باہم متضاد قابلِ قبول ہو سکتے ہیں؟ وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لندن کی جائیدادوں کی خریداری کے لیے پیسہ دوبئی اور جدہ کی سٹیل مل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تھا۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ پیسہ قطر میں وزیر اعظم کے والد کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تھا۔ اس حوالے سے ان کے بیان کو باہم متضاد قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اس کی تاویل یہ پیش کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر کسی عدالت کے سامنے بیان نہیں تھی بلکہ سیاسی تقریر تھی۔ قومی اسمبلی سے خطاب کی ویڈیو میں صاف نظر آتا ہے کہ وزیر اعظم لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے تھے یعنی یہ ان کی سوچی سمجھی تقریر تھی۔ جسے سیاسی تقریر کہہ کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سیاسی تقریروں میں غلط بیانی کی جا سکتی ہے۔ سیاسی تقریروں کے بارے میں ایک وضاحت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جلسے جلسوں میں جو وعدے کیے جاتے ہیں ان کے پورے ہونے کا وقت آتے آتے حالات و واقعات بدل جاتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ وزیر اعظم نواز شریف کے وکلاء کی جانب سے پیش آنے والی اس وضاحت کے بارے میں کیا فیصلہ دیتی ہے۔ وزیر اعظم کے وکلاء کی وضاحت کی روشنی میں دیکھا جائے تو آئندہ قوم کو اسمبلیوں اور جلسوں میں سیاسی لیڈروں کی تقریروں پر یقین کرنا چھوڑ دینا چاہیے۔ دوسری طرف عدالت سے عوام کی یہ توقع ہو گی کہ وہ غلط بیانی اور گمراہ کن بیانات کو کس زمرے میں شمار کرتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں