انسانی حقوق کا عالمی دن!!

انسانی حقوق کا عالمی دن!!

10دسمبر 1948ء کا دن تھا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا بھر میں انسانی حقو ق کے تحفظ کے لئے ایک قانونی مسودہ تیارہو۔ اور''انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلریشن'' کی منظوری دے دی گئی ، جس کی یاد میں دنیا بھر میں ہر سال 10 دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس دن کے منانے کے مقصد کو اجاگر کرنے کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے مختلف ورک شاپس ،سیمینارز اور تقریبات منعقد کرواتے ہیں ۔عالمی ادارے کی طرف سے انسانی حقوق کو اس طرح بیان کیا گیا ہے ''تمام افراد اور اقوام کے لئے ایک جیسا معیار قائم کیا جائے ''۔اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر ایک ابتدا اور تیس آرٹیکلز پر مشتمل ہے ۔جس میں انسانی حقوق کے حوالے سے 1948ء میں چند ایک اہم قوانین تشکیل دیے گئے تھے جسے ایک قانونی مسودے کی شکل دے کر پاس کیا گیا۔ان چند قوانین میں متفقہ طور پر یہ باتیں طے کی گئیںکہ ہر انسان کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق ہو گا ۔وہ اپنی مرضی کے مطابق رہن سہن اختیار اور آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کر سکے گا ۔اسی طرح رنگ ،نسل،ذات پات کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جائے گا ۔قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے ۔کسی بھی فرد کو ظالمانہ طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا ۔عدلیہ اور مقننہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں مقدمات چلائیں گی اور کسی بھی ملزم کو اس وقت تک بے قصور خیال کیا جائے گا جب تک اس پر ٹھوس الزامات ثابت نہیں ہو جاتے ۔انسانی حقوق کے قوانین میں آزادی اظہار ،کسی جگہ جمع ہونے ،آمدورفت اور مذہبی آزادی کا احاطہ کیا گیا ہے ۔اس میں مساوات اور غیر امتیازی حیثیت کی صراحت کر دی گئی تاکہ شہری انسانی حقوق سے مستفید ہو سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضمانت دی گئی ہے کہ ہر کوئی غلامی ،بے جا نظربندی،تشدد اور حراست سے آزادہو گا ۔جس فلسفے پر اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کی بنیاد رکھی ہے اسے آرٹیکل ایک میں یوں واضح کیا گیا ہے''تمام انسان آزاد پیدا ہوتے ہیں وہ حقوق ،عزت اور توقیر کے حوالے سے مساوی حیثیت کے حامل ہیں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کے جذبے کے تحت پیش آنا چاہئے'' ۔اگرچہ یہ ایک بائنڈنگ (جس پر عمل درآمد کے لئے قانون پابند کرتا ہو)دستاویز نہیں ،تاہم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی تفہیم ،نفاذ اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں میں ایک معاون کے طور پر اسے دیکھا جا سکتا ہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر آفس کے مطابق اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے شعبے میں بنیادی کام کی سمت کا تعین کرتے ہوئے کئی ایک ایسی بین الاقوامی قانونی دستاویزات کے لئے بنیادی فلاسفی بھی مہیا کر دی ہے ،جو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں جن کا ان میں اعلان کیا گیا ہے ،کے تحفظ کے لئے تشکیل دی گئی۔انسانی حقوق کی دستاویز کا دنیا کی 370زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے جو ایک ریکارڈ ہے اور اسی ریکارڈ کی بنیاد پر اسے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے ۔مسودے میں یہ بات واضح الفاظ میں موجود ہے کہ کوئی ملک جنرل اسمبلی کا ممبر ہو یا نہ ہو ان سب کو کم از کم ان وضع شدہ انسانی حقوق کا تحفظ کرنا لازمی ہو گا ۔لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر ہو یا فلسطین ،افغانستان ہو یا برما ،اراکان ہو یا انگولا پوری دنیا میں انسانی حقوق کی دھجیاںاڑائی جا رہی ہیں۔ہر جگہ مسلمانوں کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے ۔ایک طرف ان کی عزتیں ،عظمتیں ،جانیں اور افلاک محفوظ نہیں ہے تو دوسری طرف مساجد و مدارس کو سرکاری سر پرستی میں شہید کیا جا رہا ہے اور اسلامی شعائر کی بے حرمتی کی جارہی ہے ۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ہی اس کی دھجیاں بکھیرنے میں پیش پیش ہیں ۔اقوام متحدہ کے ممبر ممالک میں سے بھارت نے اپنے آئین میں انسانی حقوق کا بڑی اہمیت کے ساتھ تذکرہ کیا ہے لیکن انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی بھارت کی جانب سے کشمیر میں جاری ہے اور جہاں تک بھارت میں مقیم تیس کروڑ سے زائد کی تعداد میں مسلمانوںکی بات ہے تو ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔احمد آباد گجرات میں لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کر دیا گیا ۔گودھرا ٹرین اور سمجھوتہ ایکسپریس میں بے گناہ مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا ۔گزشتہ سات عشروں سے بھارتی سیکورٹی فورسز نے ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔یہ کس قدر دکھ اور المیے کی بات ہے کہ جموں کشمیر جو برصغیر کی سب سے خوبصورت ریاست ہے ،وہاں ہر وقت خوف اور افسردگی چھائی رہتی ہے ۔اقوام متحدہ کی طرف سے ہر سال منائے جانے والے انسانی حقوق کے دن کا بھارت نہ صرف منہ چڑا رہا ہے بلکہ اس نے رکن ممالک کی طرف سے توثیق کردہ انسانی حقوق کے ڈیکلیریشن کو پائوں تلے روندتے ہوئے بے بس مظلوم اور محکوم کشمیریوں کو اپنے خونی پنجوں میں جکڑ رکھا ہے جو اقوام عالم کے منہ پر تمانچے کے مترادف ہے ۔

متعلقہ خبریں