جنگل میں منگل

جنگل میں منگل

قطر کا نام ہم ایک عرصہ سے سنتے آئے ہیں' آج کل مگر اس ملک کا کچھ زیادہ ہی چرچا ہے۔ ایک تو اُس خط کی وجہ سے جو کسی قطری شہزادے نے حکمران خاندان کے بارے میں لکھا ہے اور جس میں بتایا گیا ہے کہ قطر میں ان لوگوں نے جو سٹیل ملز بنائی ہے وہ رقم ازراہ بندہ پروری ہم نے انہیں فراہم کی تھی۔ عدالت میں اس خط سے کیا سلوک کیا جاتا ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت بھی ہے یا نہیں ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہم بحیثیت عوام کلانعام بے شمار دوسرے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ لیکن انہیں میڈیا پر شب و روز عدالت میں پاناما لیکس پر ہونے والی کارروائی کی داستانیں سنائی جارہی ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر کے اضافے پر وزیر خزانہ نے قوم کی اشک شوئی کے لیے ایک بیان جاری کیا کہ اوگرا والوں نے ہمیں دراصل چھ روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی تھی لیکن ہم نے بہ کمال مہربانی اور ازراہ ترحم صرف دو روپے کی اجازت دی ہے۔ اوپر سے ہم نے قوم کو یاد ہوگا کہ گزشتہ 7ماہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل بھی نہیں کیا تھا۔ اس موقع پر حیرت ہمیں اس بات پر ہوئی کہ پانامہ لیکس کے معاملے میں اقتدار اور اختلاف والے دونوں کچھ اس طرح الجھے ہوئے ہیں۔ اختلاف کی جانب سے بھی کسی نے کوئی آواز نہیں اُٹھائی نہ اسمبلی کے فلور پر اُس پر کوئی بحث ہوئی۔ خیر یہ تو ایک دوسرا نکتہ درمیان میں آ گیا۔ بتانا ہم یہ چاہتے تھے کہ قطر جو دو لاکھ 13ہزار کی آبادی پر مشتمل گیارہ ہزار پانچ سو اکہتر کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے' تیل کی دولت سے مالا مال ایک جزیرہ نما ہے۔ یاد رہے کہ ہمارے شہر مردان میں آبادی کے لحاظ سے 10قطر سما سکتے ہیں۔ یہ بات ہم نے اس لیے کی کہ وطن عزیز کے چیف ایگزیکٹو جن کے شہر لاہور کی آبادی ایک کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے اور پاکستان کے بفضل تعالیٰ جس کی آبادی 24کروڑ اور عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہے وہ اس کے وزارت عظمیٰ کے منصب جلیلہ پر متمکن ہیںاُن کے خاندان کو آف شور کمپنیوں میں اپنی سرمایہ کاری کے ثبوت کے لیے ڈھائی لاکھ آبادی والے ایک ملک کے شہزادے کا سہارا لینا پڑا۔ اب ہم اپنی زیرِنظر تحر یر کے دوسرے حصے کی جانب آتے ہیں کہ پہلے تو قطری شہزادے کا ایک ماہ پہلے خط آیا اور پھر وہ گزشتہ ہفتے پورے لاؤ لشکر سمیت پنجاب کے صحراؤں میں خیموں کی دنیا آباد کرکے وہاں مقیم ہوگئے۔ وزیر اعظم کے صاحبزادے نے پاکستان آمد پر ان کا استقبال کیا۔ مقصد ان کا ایک نایاب پرندے تلور کا شکار ہے' یاد رہے کہ اس پرندے کے شکار پر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے باقاعدہ پابندی لگا رکھی ہے۔ ہمارے دوست نعیم صادق نے "Stop Killign for Pleasure"کے عنوان سے ہمیں ایک برقی مراسلہ روانہ کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ گزشتہ دنوں عدالت عظمیٰ اور دو صوبوں کی اعلیٰ عدالتوں کے واضح فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے کچھ شیوخ پاکستان آئے۔ ان کی آمد کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ پہلے سے کم ہوتے ہوئے نایاب پرندوں کے شکار سے اپنی خوشیوں کو دوبالا کر سکیں۔ بقول نعیم صادق ان نایاب پرندوں کوپیٹ میں اتارنے سے ان شیوخ کوصرف کام ودھن کی لذتیں مقصود نہیں ہوتی ہیں بلکہ اس سے ان کی اپنی کچھ جسمانی کمزوریوں کا علاج بھی پیش نظر ہوتا ہے۔ ایک دوست نے شیوخ کے تلورکے شکار کے شوق کے ضمن میں یہ بھی کہا ہے کہ ایک معمولی پرندے کے شکار کے لیے عربوں کو اربوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔ تلور تو ایک آزاد پرندہ ہے۔ سفر کے دوران وہ دنیا کے بیسیوں ممالک سے گزرتا ہے جن میں عرب ممالک بھی شامل ہیں ۔ یا پھر ان پرندوں کو زندہ یا مردہ صورت میں اُن کے محلات تک بھی ٹنوں کے حساب سے پہنچایا جا سکتا۔ چنانچہ تحقیق طلب امر یہ ہے کہ مہینوں تک پنجاب کے صحراؤں میں صرف تلور کے شکار کے لیے اُن کے قیام کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ ہمارے دوست نعیم صادق کہتے ہیں کہ انہوں نے اطلاعات کی فراہمی کے لیے قوانین کے تحت شکار کے لیے جاری کردہ اجازت نامے حاصل کرنے کی درخواست کی لیکن متعلقہ محکمہ نے بڑی ڈھٹائی سے ان کی فراہمی سے انکار کر دیا۔ دراصل شکار کے لیے اس قسم کے اجازت ناموں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اس اجازت نامے میں کسی بھی صحرائی پرندے کے شکار کی تعداد کا اندراج ہوتا ہے لیکن نہ تو کبھی شکار یوں نے اس پابندی کا خیال رکھا ہے اور نہ وائلڈ لائف والوں نے اس پر عمل درآمد کروانے کی زحمت ' یاتعداد سے زیادہ شکار پر کسی کو کوئی سزاد ی ہے۔ ان واقعات کی نشاندہی کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں خوش نما تیتر' بٹیر اور تلور ان سائیکوپیتھک حکمران طبقے فضاؤں میں ہی انہیں گولیوں کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ وائلڈ لائف کا محکمہ کم وبیش پنجاب کے 17سب ڈسٹرکٹ میں جاری ان سرگرمیوں سے خود کو بے خبر رکھتا ہے۔ یقین جانیئے ہمیں اس اخباری اطلاع سے بے حد خوشی اور ایک روحانی سکون ملا کہ ہماری خیبرپختونخوا کی حکومت نے قطری شہزادوں کو اپنے صوبے میں کسی بھی شکار کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ہمیں پنجاب کے لق و دق صحراؤں میں قطری شہزادوں کے زرق برق اور پرتعیش خیموں کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے۔

منعم بہ کوہ و دشت بیاباں غریب نیست
ہر جاکہ رفت خیمہ زدوبارگاہ ساخت

متعلقہ خبریں