سندھ طاس معاہدے پر عالمی بینک سنجیدہ کردار ادا کرے

سندھ طاس معاہدے پر عالمی بینک سنجیدہ کردار ادا کرے

پاکستان نے ورلڈ بینک سے کہا ہے کہ وہ نئی دہلی کے اعتراضات کے باوجود بھارت کے ساتھ اس کے آبی تنازع میں ثالثی کا عمل دوبارہ شروع کرے۔ورلڈ بینک سے اپنے رابطے میں پاکستان نے زور دیا کہ صرف ثالثی عمل ہی سندھ طاس معاہدے کو بچا سکتا ہے، جس نے نصف صدی سے زائد عرصے تک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان آبی تنازع کو کامیابی سے حل کیے رکھا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ ورلڈ بینک ثالثی کا عمل دوبارہ سے شروع کرے، چاہے بھارت اس سے اختلاف ہی کیوں نہ کرے کیونکہ بہت سا قیمتی وقت پہلے ہی ضائع ہوچکا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ 19 اگست 2016 کو ورلڈ بینک سے ثالثی کے لئے رابطہ کیا تھا۔گزشتہ ماہ ورلڈ بینک نے ثالثی کا عمل روکتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے کہا تھا کہ وہ جنوری کے آخر تک اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ وہ اس تنازع کو کس طرح حل کرنا چاہتے ہیں، عالمی بینک کا کہنا تھا کہ وہ یہ سب کچھ سندھ طاس معاہدے کو بچانے کے لیے کر رہا ہے۔1960ء میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ باقاعدہ درخواست جمع کرانے کے 60 روز بعد ثالثی عدالت کے قیام کا مطالبہ کرسکے، یہ ڈیڈ لائن 29 اکتوبر 2016 ء کو ختم ہوگئی تھی۔حالیہ تنازع 2 ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کشن گنگا اور رتلے کی وجہ سے سامنے آیا، جسے بھارت نے ان دریائوں پر تیار کر رکھا ہے، جن کے پانی پر سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا حق ہے۔سندھ طاس معاہدہ ورلڈ بینک کو ایک ضامن اور ثالث کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور اس کے تحت پاکستان اور ہندوستان دونوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ باہمی طور پر اپنے جھگڑے کو حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ ورلڈ بینک سے ثالثی طلب کرسکتے ہیں۔گزشتہ دنوں ورلڈ بینک کے نمائندے ایان ایچ سولومن نے بھارت کا دورہ کیا اور اس تنازع پر بات چیت کی، بھارتی حکام نے انہیں بتایا کہ ثالثی عدالت کے قیام کے حوالے سے پاکستانی درخواست نئی دہلی کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور اس کے بجائے انہوں نے ایک غیر جانبدار ماہر کے تقرر پر زور دیا۔پاکستان ثالثی عدالت کا مطالبہ اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ اس تنازع میں قانونی اور تکنیکی مسائل شامل ہیں، ایک غیر جانبدار ماہر صرف تکنیکی پہلوئوں پر غور کرے گا جبکہ ثالثی عدالت قانونی پہلوئوں کو بھی بہتر طور پر دیکھ سکے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اس سنگین مسئلے کے حل کے لئے قدم اٹھانے میں قدرے تاخیر کا مظاہرہ کیا۔ بھارت کافی عرصے سے پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جس پر پاکستان کو تشویش بھی تھی اور اس کا اظہار بھی وقتاً فوقتابً سامنے آیا مگر عملی طور پر اس ضمن میں پاکستان نے گزشتہ برس عالمی بینک سے رجوع کیا۔ کشن گنگا کا منصوبہ ایک سال سے جاری ہے اگر پاکستان اس بارے بروقت عالمی بینک سے رجوع کرتا تو بھارت کو اس کی تعمیر میں پیشرفت کا موقع مشکل سے ملتا۔صرف یہی نہیں پاکستان اس مسئلے پر بروقت مناسب منصوبہ بندی کرنے میں بھی ناکام رہا۔ سندھ طاس پر پاکستان کی جانب سے مذاکرات کرنے والے سربراہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں۔ دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے خط کی خلاف ورزی نہیں کر رہا کیونکہ بھارت مغربی دریائوں پر بجلی کے منصوبے ضرور بنا رہاہے مگر وہ پانی کا رخ نہیں موڑ رہا۔ اگر پاکستان سندھ طاس معاہدے کا خط عدالت میں لے جائے گا تو اسے 2007ء میں بگلیہار ڈیم جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن ایسا کئے بغیر چارہ اس لئے نہیں کہ بھارت بڑی مکاری کے ساتھ اپنے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور وہ اس ضمن میں کسی معاہدے اور اخلاقی جواز کو خاطر میں نہیں لاتا اور اس کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو مختلف فورمز پر الجھا کر اپنے منصوبوں کی تکمیل کرسکے۔ بھارت اگر پانی کا رخ موڑے بغیر بجلی کے منصوبے بنائے اور ڈیم کی اونچائی ایک خاص حد سے نہ بڑھائے تو کسی حد تک سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کئے بغیر بھی اپنے منصوبے کی تکمیل کرسکتا ہے مگر بھارت کی انتہا پسند قیادت علی الاعلان معاہدے کی خلاف ورزی کرنے سے باز نہیں آتی۔ بھارت کی جانب سے اس مد میں شدت اس وقت آئی جب گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی اڈے کو حریت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایاگیا مستزاد مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے پروانوں نے جانیں قربان کرکے شمع آزادی کو ہوا دی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعات کے باعث خطے میں کشیدگی اور خطے کے امن پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ان خطرات میں کمی لانے کے لئے عالمی برادری کو عالمی بینک پر زوردینا چاہئے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی ذمہ داری نبھانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور دونوں ممالک کو سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کرتے ہوئے تنازعات سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔

متعلقہ خبریں