نمود و نمائش سے احتراز کی ضرورت

نمود و نمائش سے احتراز کی ضرورت

شادی بیاہ کی تقریبات میں سونے کی بجائے مصنوعی زیورات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجوہات جو بھی ہوں اس سے ہمارے معاشرے میں نمود و نمائش کی عکاسی ہوتی ہے جس کو سادگی اختیار کرکے ختم کیا جاسکتا ہے۔ نمود و نمائش ایک نفسیاتی عارضہ قسم کی چیز ہے جس کے پس پردہ ''لوگ کیا کہیں گے'' قسم کے جملے ہوتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق لوگ اپنے مسائل اور معاملات میں اس قدر پھنسے ہوتے ہیں کہ انہیں دوسروں کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ جو لوگ سنجیدہ اور متین قسم کے ہوتے ہیں ان کو ویسے بھی اس طرح کے جھمیلوں سے نہ تو دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ ان چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھے عہدوں پر تعینات لوگوں کو کم ہی نمود و نمائش سے دلچسپی ہوگی۔ البتہ بعض شعبوں میں دکھاوا ایک ضرورت اور مجبوری ہوتی ہے۔ یہ لوگ اس موقع پر دکھاوے پر مجبور ہوں تو اپنی عام زندگی میں سادگی کو پسند کرتے ہیں اور اس کو اختیار بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں چین اور بھارت کے مصنوعی زیورات کی مانگ میں اضافہ اس امر پر دال ہے کہ یہاں کے لوگوں کی بڑی تعداد خود نمائی کے مرض کا شکار ہے جن کے علاج کے لئے علمائے کرام ' دانشوروں ' ادیبوں اور ذرائع ابلاغ کو شعور اجاگر کرکے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ بالخصوص اور دیگر عناصر بالعموم اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی کے مرتکب ہیں بلکہ بعض اوقات ا ز خود ان خرافات کو فروغ دینے کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ٹی وی ڈراموں میں جس قسم کے کلچر اور نمود و نمائش کے مظاہر سامنے آتے ہیں اس سے معاشرے میں ان تعیشات کو اختیار کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے اثرات سے کسی کو انکار ممکن نہیں اگر ذرائع ابلاغ معاشرے میں روایتی اقدار اور سادگی کو فروغ دینے کاکردار ادا کریں تو یہ ملک و قوم کی بڑی خدمت ہوگی ۔ چونکہ یہ انسانی آزادی اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے اس لئے ریاست کے لئے اس پر براہ راست کوئی قدغن لگانا مناسب نہیں لیکن ان اشیاء کی درآمد کی اجازت دینے میں سختی اور ان اشیاء پر کافی سے زیادہ ٹیکس عائد کرکے اس کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہے۔ حکومت ایک سروے کراکے عوام کو یہ بتا سکتی ہے کہ ان بناوٹی اشیاء پر ملک و قوم کا کتنا پیسہ صرف ہوتا ہے۔ اگر لوگ یہ رقم مصنوعی زیورات اور چکا چوند پر خرچ کرنے کی بجائے کسی صحت مند چیز پر خرچ کرتے تو اس کا ان کو کتنا فائدہ ہوتا۔ اس مقصد کے لئے گرلز سکولوں' گرلز کالجز اور یونیورسٹیوں میں شعور اجاگر کرنے کی مہم چلائی جائے۔ ٹی وی اور اخبارات میں اس حوالے سے اشتہاری مواد کے ساتھ ساتھ فیچر ' مضامین اور کالم شائع کروائے جائیں۔ دانشور طبقہ اس امر کا احساس دلانے میں اپنا کردار ادا کرے کہ لوگ اس طرح کے مشاغل اور نمود و نمائش سے احتراز کریں جس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ عوام الناس کو خود اپنے مفاد میں اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ نمود و نمائش کا حاصل کیا ہے؟
اسلحہ جمع کرانے کے حکم پر اظہار برہمی کیوں؟
کرم ایجنسی کے طوری اور بنگش کے چھ اقوام کے مشترکہ جرگہ میں حکومت کی جانب سے اسلحہ جمع کرنے کے حکم پر ناراضگی کا اظہا ر بلا وجہ اور ناقابل قبول ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ طوری بنگش قبائل پاکستان کے وفادار رہے ہیں اور پاکستان کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے کبھی سرکاری املاک اور حکومت کو نقصان نہیں پہنچا یا اور نہ ہی اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال کی ہے ۔یہ عوامل بھاری اسلحہ رکھنے کے لئے کافی جواز نہیں۔ اپنے دفاع کے لئے روایتی طور پر اسلحہ رکھنا قبائل کی قدیم ثقافت ہے۔ نیز اس علاقے کی حساسیت کی بناء پر اسلحہ رکھنے کی گنجائش بھی نظر آتی ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے علاقے میں فرقہ وارانہ تصادم کے جو افسوسناک واقعات متحارب قبیلوں کے درمیان چلے آتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے اس تناظر میں علاقے کو اسلحہ سے مکمل طور پر پاک کرنا ضروری ہے۔ یہاں کے قبائلیوں کی جانب سے بھاری اسلحہ رکھنے اور جدید و مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی کسی طور بھی گنجائش نہیں۔ حکومت کی جانب سے صرف کرم ایجنسی ہی کے علاقے میں مہلک اور بھاری تباہ کن اسلحہ کے خلاف مہم نہیں چلائی جا رہی ہے بلکہ رفتہ رفتہ پوری قبائلی پٹی کو اسلحہ اور گولہ بارود سے پاک کیا جانا ہے۔ جہاں تک قبائلی عوام کے تحفظ کا مسئلہ ہے اس کی ذمہ داری حکومت اور پولیٹیکل انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت اگر علاقے میں اسلحہ واپسی مہم شروع کرتی ہے تو اس کے لئے متبادل انتظامات بھی یقینا زیر غور ہوں گے۔ قانون میں اپنے تحفظ کے لئے لائسنس حاصل کرکے اسلحہ رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ قبائلی عوام کو اس قانونی طریقے کو سہل اور سادہ بنانے پر زور دینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں