احتساب ،حکومت اور بلائوں کا صندوق

احتساب ،حکومت اور بلائوں کا صندوق

حکومت نے پلی بارگین سے متعلق نیب قانون میں ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا جو سینیٹ کی رسمی گرما گرمی کے مراحل سے گزرتا ہوا منظوری کے بعد قانون بن جائے گا ۔اس ترمیم کے ذریعے پلی بارگین کے عمل کو عدالت کی منطوری سے مشروط کیا گیا اور یہ کہ بدعنوان عناصر رقم جمع کرانے کے باوجود الیکشن لڑنے کے حق اور کسی سرکاری عہدے کے لئے تاحیات نااہل ہو جائیں گے۔اس سارے عمل میں حتمی کردارعدالت کا ہوگا ۔اس بات کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی قیادت میں قائم ایک جائزہ کمیٹی کے ارکان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاتھا۔ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک چھپایا گیا سرمایہ واپس لانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔پلی بارگین قانون بہت عرصے سے نہایت خاموشی سے روبہ عمل تھا جس کے تحت بدعنوان عناصر اور نیب کے درمیان اشاروں کی زبان میں معاملات طے ہوتے تھے اور بدعنوان عناصر اپنی ناجائز دولت کا تلچھٹ قومی خزانے میں جمع کراکے تمام مقدمات سے آزاد ہوتے تھے ۔یہ صرف مقدمات سے آزادی ہی نہیں ہوتی تھی بلکہ الزامات سے بھی آزادی ہوتی تھی ۔وہ اپنی قید اور سزا کو سیاسی انتقام قرار دے کر دوبارہ معاشرے میں مظلوم اور معصوم بن کر پھرتے اور بڑے عہدوں اور مراعات کے حقدار قرار پاتے ۔گویا کہ یہ بدعنوان عناصر کے لئے ایک این آر او تھا ۔جس میں بدعنوانی ایک منظم وبا کی شکل اختیار کرتی جا رہی تھی اور دے دلا کر چھوٹ جانا ایک رسم وریت بن رہی تھی ۔ پلی بارگین کا قانون پہلی بار اس وقت تنقید کی زد میں آیا تھا جب کرپشن اور کمیشن کے مشہور زمانہ ایڈمرل منصور الحق کیس میں انہیں امریکی جیل سے چھڑا کر بہت دھوم دھام سے وطن واپس لایا گیا تھا اور انہیں اسلام آباد میں ایک پرتعیش گیسٹ ہائوس میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ رکھ کر پلی بارگین کے نام پر ان سے بدعنوانی کی رقم کا تلچھٹ وصول کر کے رہائی دے دی گئی تھی ۔ایڈمرل منصور الحق پر تین سو ارب کی کرپشن کا الزام تھا مگر عدالت نے پچیس فیصد واپسی کی رضاکارانہ پیشکش قبول کرکے بقیہ پچہتر فیصد کے ساتھ انہیں زمانے کے سب بکھیڑوں سے آزاد کردیا ۔یہ جنرل پرویز مشرف کے عہد کی کہانی ہے جب ملک میں این آر اوز کی ایک لہر سی چل رہی تھی ۔ملک کی خودمختاری تو پہلے ہی گروی تھی اور ملک کا قانون بھی موم کی ناک بن کر رہ گیا تھا ۔حقیقت میں یہی وہ عہد تھا جس نے آنے والے دنوں میں ''جانے کی باتیں جانے دو '' کے نعروں کو ہمیشہ کے لئے بے اثر اور بے معنی بنادیا ۔اب دوسری بار تحریری قانون کی آڑ میںنیب اور بدعنوانوں کے درمیان بقائے باہمی کے اس غیر تحریری معاہدے کے رنگ میں بھنگ اس وقت پڑی جب بلوچستان میں مشہور زمانہ مشتاق رئیسانی کیس میں پلی بارگین قانون کا اطلاق ہوا اور مشتاق رئیسانی تھوڑی سی رقم جمع کراکے مقدمات اور الزامات کے بوجھ سے آزاد ہوگئے حالانکہ چند ماہ ہی گزرے تھے کہ میڈیا پر ایک شخص کے درجنوں بنگلے دریافت ہو رہے تھے ۔ایک بنگلے کے در ودیوار سے ،پانی کی ٹینکیوں سے ،چھتوں اور کار پورچ سے ملکی اور غیر ملکی کرنسی نوٹوں کی گٹھیاں جھانک رہی تھیں ۔انسانی ہاتھ ان نوٹوں کو گننے سے عاجز تھے یہاں تک انہیں گننے کے لئے مشینوں کا سہارا لینا پڑا تھا ۔اس کیس پر پلی بارگین قانون کے اطلاق نے معاشرے کے ہر باشعور اور زندہ ضمیر انسان کو منقازیر پا کر دیا تھا اور میڈیا نے بھی بدعنوان عناصر کی اس انداز سے بریت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔جس کے بعد حکومت اس قانون میں ترمیم پر مجبور ہو گئی تھی ۔نیب قانون میں ترمیم کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے جائزہ لے کر پلی بارگین قانون کو انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دے کر اس شق کو ختم کرنے کی سفارش کی ۔اسی سفارش کی روشنی میں ایک آرڈی ننس کے ذریعے پلی بارگین کی شق کو ختم کیا گیا ۔پلی بارگین کی شق تو ختم ہوگئی مگر کہا جارہا ہے کہ اس کے لئے آرڈی ننس کی بجائے پارلیمنٹ میں بحث اور ترمیم کا سہارا لیا گیا ہوتا تو اس کے سیاسی اور جمہوری قوتوں کی اجتماعی دانش کا نتیجہ قراردیا جاتا اور شاید اس کی جامعیت بھی واضح ہوتی ۔حکومت اس وقت پانامہ لیکس کے مقدمے کا دبائو محسوس کر رہی ہے جو پہلے ہی عدلیہ اور میڈیا میں موضوع بحث ہے اور موجودہ حالات میں حکومت اس پلی بارگین کے معاملے کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے بدعنوانی سے متعلق معاملات پر کسی اور جھنجٹ میں پڑنا ہی نہیں چاہتی تھی اور غالباََ یہی حکومت کی عجلت کی وجہ تھی ۔ حالانکہ قومی اسمبلی میں احتساب قانون میں ترمیم کے دو مسودے پہلے ہی موجود تھے ۔حکومت کا پائوں اس وقت پانامہ کیس میں عدالت میں الجھ چکا ہے ۔جہاں جج صاحبان کے تبصرے ،اور وکلاء کے جملے ،شیخ رشید کی جگتیں ،عمران خان کی کڑوی کسیلی باتیں،اسمبلی کے فلور پر پہلے سے موجود دو ترمیمی بل اور شام ہوتے ہی ٹی وی سٹوڈیوز میں جمنے والی محفلیں حکومت کا پیچھا کرنے والے بھوت سے کم نہیں ۔ حکومت کے لئے تو یہ صورت حال منیر نیازی کے اس شعر کے مصداق تھیں 

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو دیکھا
ایسے میں جب حکومت ابھی پانامہ کے دریا کے پار بھی نہیں اُتری تو اسے کیا پڑی تھی کہ پھر اسمبلی میں اپنے لئے تبصروں ،تنقید ،طنز اور مخالفانہ جملوں کی بلائوں کا صندوق کھول دیتی ۔حکومت نے جیسے تیسے ہی سہی مگر پلی بارگین کے قانون اور طریقہ کار میں ترمیم کردی اور بدعنوان عناصر کو عوامی یا سرکاری عہدوں کے لئے تاحیات نااہل قرار دے کر معاشرے میں نشان زدہ بنائے رکھنے کا راستہ اختیار کیا ۔امید اور توقع ہے کہ اس سے بدعنوان عناصر کو معاشرے میں تنہا کرنے کی رسم اور روایت دوبارہ زندہ ہو کر زور پکڑے گی ۔خود سماج کے اندر بھی بدعنوان عناصرکے خلاف عوامی نفرت اور ردعمل کا سلسلہ چل نکلے گا۔ جس سے بدعنوانی کو کسی حد تک روک لگ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں