کہاں گئی ہے چمن سے وہ گل ادا مخلوق

کہاں گئی ہے چمن سے وہ گل ادا مخلوق

کیا لوگ تھے' اعلیٰ انسانی اقدار کی کچھ ایسی روشن مثالیں' چمکتے دمکتے نمونے جن کی یادوں سے ذہن منور ہو جاتا ہے اور دل میں شمعیں روشن ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ہم جیسے لوگ جو ایک ایسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اعلیٰ اقدار کی حامل شخصیات بھی دیکھیں جو پیار و محبت کی چلتی پھرتی تصویریں تھیں ان سے صبر و تحمل کا درس لیا۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے طریقے سیکھے' ان کی راہنمائی سے استفادہ کیا اور آج کے زمانے سے بھی گزر رہے ہیں جن میں وہ قدریں جو انسانیت کی شناخت کا وسیلہ سمجھی جاتی ہیں ان کی قحط سالی کا سامنا ہے۔ تب اور اب کا یہ فرق صرف ہماری نسل ہی کا المیہ ہے کیونکہ اس تفاوت سے ہمیں روزانہ کا واسطہ پڑتا ہے۔ اس ذہنی اذیت کے اظہار کے وقت رحمان بابا کا یہ شعر دہرانا پڑتا ہے جس میں انہوں نے اعلیٰ انسانی اقدار کے زوال کا المیہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے۔

کہاں گئی ہے چمن سے وہ گل ادا مخلوق
جو قول و فعل میں یکتا تھی بے ریا مخلوق
کل ہم نے گل ادا مخلوق کے ایسے ہی دو نمائندوں کی یادوں سے دل و ذہن کو منور کرنے کی کوشش کی۔ یہ ایک ادبی تقریب تھی جس کا اہتمام گلستان ادب کے فعال کارکنوں نے قمر راہی اور پیر گوہر کی برسی پر کیا تھا۔ان میں جواد شفق' غمگین معیار اور ارشد قمر پیش پیش تھے۔ ڈاکٹر اسرار' عبدالسبحان خان' اکرام اللہ شاہد' ڈاکٹر زبیر حسرت' وکیل شاہ فقیر خیل' م۔ر۔شفق اور حیات روغانی کے پہلو میں ہم بھی براجمان تھے۔ کچھ نوجوان شاعروں نے زبان و ادب کی ان بڑی شخصیات کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ م۔ر۔ شفق' اکبر حیات کاکا خیل اور پروفیسر عظمت ہما نے اپنی تحریروں میں ان کی ادبی کارناموں پر روشنی ڈالی۔ ہم نے کہا کہ وہ گل ادا لوگ جن کا زبان و ادب سے تعلق رہا انہوں نے ہمیشہ اپنی تحریروں میں مثبت سوچ کی ترجمانی کی ہے۔ آج کی نئی نسل جو علم میں ایک قدم آگے ہے لیکن ان کے انسانی رویوں سے مثبت فکر و عمل کا جو زوال نمایاں ہے ان کو اس کی وجوہات پر غور کرنا ضرری ہے۔ کیونکہ اس سے معاشرے میں بے چینی اور تصادم کی جو کیفیت پیدا ہو رہی ہے اس سے ایک بگاڑ کا نقشہ ابھرتا ہے جو بالیقین ایک خطرناک رجحان ہے۔ چنانچہ آج کے د ور میں اعلیٰ انسانی اقدار کی وہ نمائندہ شخصیات جو آج ہم میں موجود نہیں ان کے افکار اور تعلیمات سے تحمل و برداشت اور زندگی بسر کرنے کے لئے مثبت رویوں کا درس لینا لازمی ہوگیا ہے۔ بات قمر راہی کی ہو رہی تھی ہم ابھی سکول میں پڑھتے تھے کہ ان سے ماہنامہ قند کے حوالے سے ایک تعلق پیدا ہوا۔ وہ قند جیسے ایک مقبول مجلے کے مدیر تھے۔ اور ہم ادب میں پاپلے پل واخلہ کے مرحلے سے گزر رہے تھے۔ قمر راہی اور ہمارے استاد میاں خیر الحق گوہر کا کا خیل نے کچھ اس طور سے ہماری افزائی کی کہ ہم نے بعد میں صرف زبان و ادب کو ہی اوڑھنا بچھونا نہیں' یہ شوق ہمارے رزق کا وسیلہ بھی بن گیا ۔ سکول سے فارغ ہونے کے بعد مزید تعلیم جاری رکھنا بوجوہ ہمارے لئے ممکن نہ تھا' مایوسی کے اس زمانے میں ہمارے استاد میاں خیر الحق گوہر اور قمر راہی نے ہماری دستگیری کی۔ قمر راہی نے اپنی ذاتی لائبریری کے دروازے مستقل طور پر ہمارے لئے کھول دئیے۔ اصغر لالہ نے ہمیں انگلش پڑھانے کا بیڑا اٹھایا۔ پیر گوہر اور ڈاکٹر امین الحق نے پشتو آنرز کی 60کتابوں کے بھاری بھر کم کورس کا کچھ ایسا نقشہ پیش کیا کہ ہمیں بٹھنڈہ کے راستے اعلیٰ تعلیمی مدارج تک رسائی میں کوئی دشواری نہ آئی۔ جس وقت ہم نے ایم اے کیا اس وقت پریمیئر شوگر ملز میں ڈائری ڈسپیچ کی نشست پر بیٹھے تھے۔ قمر راہی نے ہمیں قند کے ادارہ تحریر میں بھی شامل کرلیا۔ یہ ہمارے لئے ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ یوں سمجھئے کہ قند ہی سے ہم نے لکھنے کا آغاز کیا اور یہی قند آئندہ دنوں میں ہماری ڈاکٹوریٹ کی ڈگری کے حصول کا وسیلہ بنا۔ ہم نے اپنی کتاب خکلی خلق میں قمر راہی کے بارے میں ''لوئے سڑے'' کے عنوان سے لکھا ہے کہ کسی ایسی شخصیت کے بارے میں معروضی انداز میں رائے کا اظہار ممکن نہیں ہوتا ۔ جب کسی نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ ان کی مہربانیوں کے سائے تلے بسرکی ہو ا یسے شخص کے کردار کی بلندی کو دیکھنے کے لئے ایک ہاتھ سے اگر اپنی دستار سنبھالنا پڑتی ہے تو دوسرا ہاتھ احتراماً سینے پر رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ایسی شخصیت کے علم و فن کی پہنایوں کو ماپنا تو دور کی بات ہے اس کے تصور سے ہی دماغ پر ایک غنودگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ایسے شخص کے عروج قد و قامت کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ مجھے اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ ہم کو ہمیشہ زندگی کے مشکل مرحلے میں خیرالحق گوہر اور قمر راہی سے راہنمائی حاصل کرنا پڑی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی شخصیات کو یاد رکھنا اور ان کے افکار کی روشنی میں زندگی کو روشن تر کرنا آج کی نسل کے لئے بہت ضروری ہوگیا ہے۔ یہی لوگ اعلیٰ انسانی اقدار کے روشن مینار ہیں اوران کو بار بار یاد کرنے سے زندگی خوشگوار ہی نہیں دلکش بھی ہوجاتی ہے۔

متعلقہ خبریں