ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا

ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا

اب عمران خان کو کوئی کیسے سمجھائے کہ وہ زمانہ گزرے ہوئے پلوں کے نیچے سے نہ جانے کتنا پانی بہہ چکا ہے جب دنیا میں ایسا ہوتا تھا یعنی کسی حادثے کے بعد متعلقہ وزیر مستعفی ہو کر اخلاقی برتری کا ثبوت فراہم کردیتا تھا۔ اور یہ تقسیم برصغیر کے ابتدائی دور کی بات ہے جب بھارت میں ریلوے لائن کا کانٹا بروقت بدلنے میں گیٹ کیپر کی غفلت کی وجہ سے ریلوے گاڑیوں کے مابین ٹکر سے انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تو اس دور کے بھارتی وزیر ریلوے نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزارت کی کرسی چھوڑ کر اخلاقی برتری کی مثال قائم کردی تھی۔ اس لئے لودھراں کے ریلوے حادثے کے بارے میں عمران خان نے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ مگر جس حادثے کی بنیاد پر بھارتی وزیر ریلوے نے استعفیٰ دے کر مثال قائم کی تھی اس کو بھی مشہور زمانہ بھارتی سیاستدان اور سابق مرکزی وزیر ریلوے لالو پرشاد یادیو نے اپنے دور وزارت جو ابھی چند سال پہلے گزرا ہے کے دوران ایک ریلوے حادثے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ان سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر یہ کہہ کر رد کردیا تھا کہ '' میں کوئی انجن ڈرائیور ہوں جو استعفیٰ دے دوں۔'' بات دل کو لگتی بھی ہے کہ حادثے کی ذمہ داری تو ابھی عائد بھی نہیں ہوئی کہ غفلت پھاٹک پر سگنل بدلنے والے کی ہے یا پھر انجن ڈرائیور کی۔ تو پھر خواجہ سعد رفیق بھلا کیوں مستعفی ہوں اور خواجہ صاحب موصوف نے کہہ بھی دیا ہے کہ ٹرین رکشہ تصادم کے ذمہ داروں کو معاف نہیں کریں گے۔ بقول احمد فراز

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
شکایت تو پشاور کے عوام کو بھی ہونی چاہئے جنہیں نہ جانے کب سے طفل تسلیاں دے کر بہلایا جا رہا ہے کہ پشاور کو دوبارہ شہر گل میں بدل دیا جائے گا مگر اب تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ پشاور کی خوبصورتی کے منصوبوں کے فنڈز سے محروم ہونے کے خدشات پیداہوگئے ہیں اور خیبر پختونخوا کی حکومت جاری مالی سال کے دوران پشاور کو خوبصورت بنانے اور اس کی بحالی کے منصوبے سمیت ایک ارب سے زائد کے منصوبوں کے لئے نہ تو فنڈز جاری کر سکی نہ ہی مذکورہ منصوبوں پر کام جاری ہو پایا۔ جن میں اندرون شہر کی سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ان منصوبوں میں صرف جدید ذبح خانہ کے قیام کے لئے چار کروڑ میں سے ایک کروڑ کے فنڈز جاری ہوئے ہیں مگر اس منصوبے پر بھی کام شروع نہیں ہوسکا۔
ایک اہم شکایت تو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی محمد افضل نے بھی کی ہے کہ آئل اینڈ گیس کے شعبے میں اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ پیداوار دینے والے صوبہ خیبر پختونخوا میں نئے انڈسٹریل اور کمرشل گیس کنکشنز پر پابندی زیادتی ہے اور یہ پابندی فوری طور پر ختم کی جائے کیونکہ خیبر پختونخوا 475mmcf گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ اس صوبے کی کل کھپت 240mmcf ہے۔حاجی صاحب کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے ہم ان لا تعداد کالموں کی جانب توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں جو اس حوالے سے ہم نے مختلف اوقات میں سپرد قلم کئے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران چھپتے رہے ہیں۔ ان کالموں میں ہم نے آئین کے آرٹیکل 158 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گیس کے منابع پر پہلا حق اس صوبے کا ہے جہاں سے گیس کے ذخائر دریافت ہوں گے مگر جس طرح پن بجلی پر وفاق قابض ہوچکا ہے تاہم چونکہ حاجی محمد افضل صاحب کا تعلق بھی مسلم لیگ(ن) سے ہے اس لئے انہیں پارٹی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا کے حقوق کی بازیافت کرنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہئے۔
شکایت تو قومی وطن پارٹی کے چیئر مین آفتاب احمد خان شیر پائو نے بھی درست کی ہے کہ منڈا ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ تیار ہے۔ لہٰذا اس کی تعمیر میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا زراعت اور بجلی کے مسائل سے دو چار ہے اور منڈا ڈیم اس مسئلے کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی اور بجلی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ناگزیر ہے اس لئے ہم نے منڈا ڈیم کی تعمیر پر ہمیشہ اصرار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چھوٹے صوبوںکے حقوق کو نظر انداز کرکے 18 ویں آئینی ترمیم کے منافی اقدام کر رہی ہے جس سے وفاقی اکائیوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے ۔ گویا انہوں نے واضح کردیا ہے کہ
ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا
ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا
شکایتوں کی اس گرم بازاری میں فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کا مسئلہ بھی خاصی اہمیت اختیار کرگیا ہے اور فاٹا کے انضمام میں تاخیر کو جمعیت اور لیگ(ن) کا گٹھ جوڑ قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے لانگ مارچ کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کی کئی جماعتوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کاعندیہ دیاہے ۔ یاد رہے کہ جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اس حوالے سے باقی سیاسی قیادت کے علی الرغم سوچ اپنائے ہوئے ہیں اور فیصلے کو فاٹا میں ریفرنڈم کرانے سے مشروط کر رہے ہیں جبکہ جماعت اسلامی' اے این پی' پیپلز پارٹی' قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں آواز بلند کر رہی ہیں۔ ان جماعتوں کی جانب سے مختلف تجاویز سامنے آرہی ہیں جن میں اسلام آباد تک لانگ مارچ' کل جماعتی کانفرنس' ایف سی آر نامنظور کی تحریک وغیرہ شامل ہیں۔ اس صورتحال پر تو یہی کہا جاسکتاہے کہ
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

متعلقہ خبریں