دودھ کے نام پر بچوں کو زہر پلانے والا معاشرہ

دودھ کے نام پر بچوں کو زہر پلانے والا معاشرہ

پاکستان میں ایک سوال پچھلے ستر سالوں سے کیا جا رہا ہے جس کا جواب ریاست کے پاس ہے نہ ریاستی اداروں کے پاس۔آئین کی رو سے پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے لیکن اسلام کو محض استحصال کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔لوگوں سے ووٹ بٹورنے ہوں ،افراد کا معاشی استحصال کرنا ہو،بیٹیوں کا جائیداد میں سے حصہ غصب کرنا ہو، یا صحت مند مباحث کا راستہ روکنا ہو، اسلام کی آڑ لی جاتی ہے۔الیکشن میں جمعیت علمائے اسلام ( ف) کتاب کا انتخابی نشان لیتی ہے اور اس کے ناقدین کہتے ہیں کہ الیکشن مہم کے دوران جمعیت اپنے ووٹروں کو یہ تاثر دیتی ہے کہ یہ کتاب عام کتاب نہیں بلکہ قرآن مجید ہے۔ (واللہ اعلم با الصواب)۔جماعت اسلامی قرآن و سنت کے نظام کی بات کرتے کرتے طویل عرصے سے الیکشن لڑ رہی ہے لیکن اس کے لوگ مصر کی اخوان المسلمون کے لوگوں سے یکسر مختلف ہیں۔دنیاوی معاملات میں لگ بھگ ویسے ہی جیسے دوسرے دنیا دار ہیں۔طالبان بھی اسلام اور قرآن و سنت کی بات کرتے ہیں لیکن ان کا اسلام بے گناہوں کا خون بہانے، مساجد میں گھس کر نمازیوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑانے اور اپنے سوا ہر مسلمان کے دین و ایمان پر شک کرنے سے کبھی آگے نہ بڑھ سکا۔امیر و غریب کے درمیان ایک معاشی تفاوت تو قدرت کی طرف سے ہے جبکہ دوسرا مسلم استحصالی گروہ کا شاخسانہ۔

ایک ارب پتی صاحب ورکرز کو رکھتے ہوئے ان سے کہتے، جس کام کے لئے میں آپ کو رکھ رہا ہوں ،مارکیٹ کے مطابق اس کی تنخواہ اتنی ہے لیکن میں آپ کو اس کی نصف دوں گا۔ملازمت کا خواہشمند نوجوان سوال طلب نظروں سے صاحب کو دیکھتا تو کہتے میرا کاروبار ، بزنس نہیں ایک مشن ہے، خدمت ہے جسے میں نے اللہ اور اس کے رسولۖ کے حوالے کر رکھا ہے۔ایک مسلم چیریٹی برطانیہ میں اپنے ملازمین کو تنخواہ سمیت ساری مراعات برطانوی قوانین کے مطابق دیتی ہے لیکن پاکستان میں اپنے ملازمین کا خوفناک حد تک استحصال کرتی ہے۔سندھ میں بچیوں کا جائیداد میں سے حصہ ہڑپ کرنے کے لئے قرآن سے ان کی شادی کر دی جاتی ہے جو نسوانی استحصال کی بدترین شکل ہے۔
دلیل ،دلیل کو کاٹتی ہے۔ مکالمہ صحت مند معاشرے کے لئے آکسیجن کی مانند ہے لیکن مولوی حضرات جب مکالمے میں کمزور پڑنے لگتے ہیں توبلا تاخیر شریعت کی رو سے خود کو حق پر اور دوسرے کو باطل قرار دے کر مباحث سے فرار اختیار کرتے ہیں۔خواہ موجودہ جمہوریت اور سیاست پر ہی کیوں نہ گفتگو ہو رہی ہو۔کون پوچھے کہ مولانا صاحب اس سیاست اور جمہوریت کو اسلام سے کیانسبت؟
پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح ہیں اس پر کسی بھی پاکستانی کو نہ کوئی شک ہے نہ کبھی کسی نے اس سے انکار کیا۔وہ ایک کلین شیو، اعلیٰ تعلیم یافتہ، سچے، کھرے اور دبنگ آدمی تھے۔انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں کبھی یہ نعرہ نہیں لگایا کہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے گا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مذہب کی بنیاد پر چلائی جانے والی ریاستوں میں استحصال کو نہیں روکا جا سکتا۔ وہ جانتے تھے کہ آسمانی احکامات فرد کی عزت اور تحفظ کی علامت ہیں لیکن جب شریعت کا گرز مذہبی طبقات کے ہاتھ میں آ جاتا ہے تو مذہب کو فرد کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ اسے ذلیل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔آج کی دنیا میں قائد کا یہ ویژن بالکل درست لگتا ہے۔ پاکستانی ریاست میں ہزاروں کی تعداد میں بڑے لوگ پیدا ہوئے۔ کچھ مر کھپ گئے کچھ زندہ ہیں۔ بڑے بڑے سیاستدان، نامور علمائے کرام،شہرت یافتہ وکیل، ادیب، صحافی، ماہرین تعلیم، بزنس مین وغیرہ۔ ان میں سے کوئی ایک بتا دیں جس کا ویژن جناح جیسا ہو، کوئی ایک نام لیں جو سچائی اور برد باری میں ان سے بڑھ کر ہو۔کوئی ایک جس نے صرف اور صرف پاکستان کے لئے قائد کی طرح پاکستان کے لئے جدوجہد کی ہو اور اپنی ذات کو ان کی طرح فنا کیا ہو؟
سویہ بات طے ہے کہ ہمیںاپنے معاملات ٹھیک کرنے ہوں گے۔مسلمان تو ہم ہیں ہی لیکن ہماری شناخت دنیا میں کیا ہے؟ ہمیں دہشت گرد۔جنونی، وحشی، اجڈ اور گنوار سمجھا اور کہا جاتا ہے۔
اور یہ کچھ غلط بھی نہیں۔ ہم ایسے ہی ہیں۔ جھوٹے، بددیانت،خائن،رشوت خور ،ملاوٹ کرنے والے،دھوکے سے مال بیچنے والے حتیٰ کہ دودھ کے نام پر اپنے بچوں کو زہر پلانے والے۔سپریم کورٹ نے نوٹس لیا،لیبارٹری ٹیسٹ کرایا ، ثابت ہوا کہ پیکٹوں ،ڈبوں والا دودھ ہو یا بڑی بڑی نامور کمپنیوں کا بنایا ہوا خشک دودھ، ہمارے بچوں کو اس دودھ کے نام پر زہر پلایا گیا جو ہم ہزاروں روپے خرچ کر کے خریدتے رہے یہ سوچ کر کہ یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بنایا ہوا دودھ ہے تو خالص ہوگا۔ ہم بھول گئے کہ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں برطانیہ میں تو اس خطرناک دودھ کو بیچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں لیکن پاکستان میں انہیں کون پوچھنے والا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر لیبارٹری ٹیسٹوں میں زہریلے اجزاء کی موجودگی ثابت ہونے کے باوجود ہر سٹور پر یہ دودھ آج بھی بک رہا ہے۔ ٹی وی پر اس دودھ کے اشتہارات آج بھی چل رہے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار کے ان ریمارکس کے باوجود کہ '' اگر ہم اپنے بچوں کو خالص دودھ بھی نہیں دے سکتے تو ہمارا انصاف کی کرسی پر بیٹھنا بیکار ہے۔''

متعلقہ خبریں