مشرقیات

مشرقیات

چھٹی صدی ہجری میں ایک بہت برے بزرگ گزرے ہیں، یوسف بن ایوب ہمدانی ۔ آپ اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم ، فقیہہ، زائد وعابد اور صاحب کشف وکرامت بزرگ تھے۔ بغداد میں مدرسہ نظامیہ میں وعظ فرمایا کرتے تھے۔ آپ کا ایک واقعہ ابوالفضل صافی بن عبداللہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ایک دفعہ میں مدرسہ نظامیہ میںاپنے شیخ یوسف ہمدانی کی مجلس وعظ میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کا وعظ سننے کیلئے ایک عالم اکٹھا ہوا ہواہے۔مجمع میں سے ایک فقیہہ عالم جس کا نام ابن السقاء تھا ، وہ اٹھا اور اعتراضات کرنے شروع کر دئیے اور محض آپ کو اذیت دینے کیلئے کسی مسئلے پر بحث شروع کر دی ۔ امام یوسف نے فرمایا:بیٹھ جا، مجھے تیری باتوں سے کفر کی بو محسوس ہو رہی ہے ۔ شاید تیرا خاتمہ ایمان پر نہ ہو ۔ابو الفضل کہتے ہیں کہ بات آئی گئی ہوگئی۔پھر ایسا ہو اکہ ایک مدت کے بعد شاہ روم کا ایک نصرانی سفیر خلیفہ وقت کے پاس آیا، تو ابن السقاء اس کے پاس گیا اور اس سے درخواست کی کہ آپ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔ ابن السقاء نے اس سفیر سے یہ بھی کہا کہ میں اپنا دین چھوڑ کر آ پ کے دین میں داخل ہوتاہوں۔وہاں جا کر ابن السقاء شاہ روم سے جا ملا اور عیسائی بن گیا اور عیسائیت پر ہی اس کا خاتمہ ہوگیا۔ ایک شخص نے بتلایا جس نے ابن السقاء کو قسطنطنیہ میں دیکھا تھا ۔ ابن السقاء ایک چبوتر ے پر بیمار پڑا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ ساپنکھا تھا،جس سے مکھیاں اڑا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کلام پاک یاد ہے ؟ ابن السقاء نے جواب دیا کہ میں پورا کلا م بھول چکا ہوں۔سوائے اس آیت کے۔ ترجمہ : ایک وقت ایسا آ ئے گا کہ کافر لوگ یہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔
ایک بار حضرت نظام الدین اولیا کی خانقاہ میں ایک اجنبی شخص داخل ہوا۔ اس کے چہرے سے وحشت برس رہی تھی۔ خدمت گاروں کو شک ہوا تو وہ اجنبی سے پوچھ گچھ کرنے لگے۔ نووارد شخص خاموش کھڑا رہا۔ آخر تلاشی لی گئی تو اجنبی کی جیب سے ایک بڑا چاقو برآمد ہوا۔ خدام نے اسے پکڑ کر چاقو چھین لیا۔ پھر جب حضرت نظام الدین کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خدمت گاروں کو سختی سے حکم دیاکہ اس شخص کو کسی قسم کی جسمانی اذیت نہ پہنچائی جائے۔
ظہر کی نماز کے بعد حضرت نظام الدین نے اجنبی کو اپنے حجرہ مبارک میں طلب کیا۔
پوچھا۔ ''کہاں کے رہنے والے ہو؟'' اجنبی نے کانپتے ہوئے لہجے میں بتایا کہ وہ مقامی باشندہ نہیں ہے۔ حضرت نظام الدین نے اس سے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔ بس اتنا فرمایا۔ ''عہد کرو کہ آج کے بعد کسی کو ایذا نہیں پہنچائو گے''۔ اجنبی نے روتے ہوئے عہد کیا کہ وہ بھٹک گیا تھا۔ آئندہ اس قسم کی کوئی حرکت نہیں کرے گا۔ حضرت نظام الدین اولیا نے اپنے خدمت گاروں سے فرمایا۔ '' اسے سفر خرچ دے کر رخصت کردو کہ اس نے بہت تکلیف اٹھائی ہے''۔

متعلقہ خبریں